لاہور (26مئی 2026 ) بانی و سرپرستِ اعلیٰ تحریک منہاج القرآن شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے اُمتِ مسلمہ اور بالخصوص اسلامیانِ پاکستان کو عیدالاضحیٰ کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ عیدالاضحیٰ کی یہ روح پرور ساعتیں عالمِ اسلام کے لیے رحمت، برکت اور سنتِ ابراہیمیؑ کی یاد تازہ کرنے کا عظیم موقع ہیں۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ پاکستان سمیت پوری امتِ مسلمہ پر اپنا خاص فضل و کرم فرمائے اور اس مبارک موقع کو خیر، امن اور خوشحالی کا ذریعہ بنائے۔شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے اپنے تہنیتی پیغام میں کہا کہ سنتِ ابراہیمی دراصل بندۂ مومن کے لیے اپنی "انا”، خواہشات اور خود غرضی کو قربان کرکے اللہ تعالیٰ کی رضا اختیار کرنے کا درس دیتی ہے ۔ قربانی کا حقیقی مفہوم صرف جانور ذبح کرنا نہیں بلکہ اپنے باطن کو پاکیزہ بنانا، ایثار و تقویٰ کو اپنانا اور اللہ تعالیٰ سے وفاداری کے عہد کی تجدید کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ اسلام کا نظامِ قربانی ایک عظیم تربیتی عمل ہے جو انسان کو مادّیت کے حصار سے نکال کر روحانیت، محبت اور انسان دوستی سے آشنا کرتا ہے۔ فلسفۂ قربانی انسان کے اندر خدا شناسی، احساسِ ذمہ داری اور اجتماعی خیر خواہی کے جذبات کو بیدار کرتا ہے، اور یہی اوصاف ایک متوازن، مہذب اور پرامن معاشرے کی تشکیل کی بنیاد بنتے ہیں۔شیخ الاسلام نے کہا کہ سنتِ ابراہیمی صرف ایک مذہبی تہوار نہیں بلکہ انسانی معاشرے میں محبت، اخوت، ہمدردی اور فلاح و بہبود کا عملی درس ہے۔ قربانی انسان کے اندر ایثار کا وہ جذبہ پیدا کرتی ہے جو اسے اپنی ذات کے حصار سے باہر نکل کر دوسروں کے دکھ درد کو محسوس کرنے اور محروم طبقات کے ساتھ کھڑا ہونے کی ترغیب دیتا ہے۔انہوں نے زور دیا کہ عید کی خوشیاں اُس وقت حقیقی اور مکمل بنتی ہیں جب ان میں عزیز و اقارب، ہمسائیوں اور بالخصوص مستحق اور نادار افراد کو شریک کیا جائے۔ اسلام ہمیں صرف اپنی خوشی منانے کا نہیں بلکہ دوسروں کی خوشیوں کا ذریعہ بننے کا درس دیتا ہے۔ قربانی کا عمل ایک صالح، فلاحی اور باہمی محبت پر قائم معاشرے کی تعمیر میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ امتِ مسلمہ کو ایثار، تقویٰ، محبتِ الٰہی اور سنتِ ابراہیمی کی حقیقی روح پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔
عیدالاضحیٰ اجتماعی فلاح کا عملی درس دیتی ہے: شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری
