غزہ کے محصورین کے لیے امداد لے جانے والے بین الاقوامی بحری قافلے "گلوبل صمود فلوٹیلا” کے تمام گرفتار ارکان کو بالآخر اسرائیلی قید سے رہا کر دیا گیا ہے، جس کی باقاعدہ تصدیق اسرائیلی حکام کی جانب سے بھی کی گئی ہے۔ امریکہ میں مقیم فلسطینیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ‘عدالہ’ کے مطابق، رہا کیے جانے والے تمام عالمی امدادی کارکنوں کو فوری طور پر اسرائیل بدر (ڈِپورٹ) کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب، ترکیے کے وزیرِ خارجہ نے اپنے ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ رہا ہونے والے امدادی کارکنوں کو بحفاظت ترکیے منتقل کرنے کا عمل شروع ہو چکا ہے جہاں سے وہ اپنے اپنے ممالک روانہ ہوں گے۔
واضح رہے کہ بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے اسرائیلی فورسز کی حراست کے دوران فلوٹیلا کے نہتے ارکان پر شدید ترین جسمانی اور نفسیاتی تشدد کیا گیا تھا۔ حراستی مراکز میں ان پر ٹیزر گنز (بجلی کے جھٹکے دینے والے ہتھیار) اور ربڑ کی گولیاں چلائی گئیں، جبکہ انسانی حقوق کی پامالی کی انتہا کرتے ہوئے اسرائیلی اہلکاروں نے قافلے میں شامل متعدد مسلم خواتین شرکاء کے حجاب بھی زبردستی اتار دیے۔ اخلاقیات سے عاری اس سلوک کا اعتراف خود اسرائیلی حکومت کے اندر سے بھی ہوا، جہاں انتہائی دائیں بازو کے انتہا پسند اسرائیلی وزیر اتمار بین گویر نے امدادی کارکنوں پر بدسلوکی کی ایک ویڈیو فخر سے سوشل میڈیا پر شیئر کی، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گرفتار بین الاقوامی کارکنوں کو تذلیل کے انداز میں گھٹنوں کے بل زمین پر بٹھایا گیا ہے۔
یاد رہے کہ غزہ کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ادویات اور خوراک لے جانے والے اس بحری قافلے کو اسرائیلی فورسز نے سمندر میں ہی روک کر پاکستان کی معروف سماجی شخصیت اور ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ سعد ایدھی سمیت دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے 400 سے زائد امدادی کارکنوں کو غیر قانونی طور پر حراست میں لے لیا تھا۔ اس بزدلانہ کارروائی کے خلاف پاکستان، ترکیے اور امریکہ سمیت دنیا بھر کے متعدد ممالک نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے سخت مذمتی بیانات جاری کیے تھے اور سفارتی سطح پر ان کی فوری رہائی کے لیے دباؤ برقرار رکھا ہوا تھا۔
