اسلام آباد : لاء اینڈ جسٹس کمیشن نے ملک بھر کی ماتحت عدلیہ میں زیرِ التوا مقدمات اور ججز کی خالی اسامیوں سے متعلق انتہائی تشویشناک تازہ اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں۔ کمیشن کی جاری کردہ سرکاری دستاویزات کے مطابق، ملک بھر کی ضلعی عدلیہ میں اِس وقت زیرِ التوا مقدمات کی مجموعی تعداد 20 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، جس کی بڑی وجہ ججز کی بڑے پیمانے پر عدم تعیناتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ملک بھر میں مجموعی طور پر 1153 عدالتیں ججز نہ ہونے کے باعث مکمل طور پر غیر فعال ہیں۔
دستاویز کے صوبائی اعداد و شمار کے مطابق، پنجاب میں سب سے زیادہ یعنی 808 عدالتیں ججز نہ ہونے کی وجہ سے بند ہیں، جبکہ سندھ میں 89 اور بلوچستان میں 78 عدالتیں ججز کی منتظر ہیں۔ اسی طرح، خیبرپختونخوا (پشاور ہائی کورٹ کے زیرِ انتظام) میں 149 اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی ضلعی عدلیہ میں 29 عدالتیں ججز کی عدم موجودگی کے باعث تالوں کی زد میں ہیں۔
رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ سائلین کو فوری انصاف فراہم کرنے والی فیملی اور سول عدالتیں سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں۔ صرف پنجاب میں 648 فیملی اور سول ججز کی اسامیاں خالی پڑی ہیں، جبکہ خیبرپختونخوا میں 126 سول اور فیملی عدالتیں ججز نہ ہونے سے غیر فعال ہیں۔ سندھ میں 70 اور بلوچستان میں 58 سول و فیملی ججز کی اسامیاں تاحال تعیناتی کی منتظر ہیں، جبکہ اسلام آباد میں بھی 13 سول اور فیملی عدالتیں ججز کی عدم دستیابی کے باعث فعال نہیں ہو سکیں، جس سے ملک میں سستے اور فوری انصاف کی فراہمی شدید متاثر ہو رہی ہے۔
