تحریر: محمدمظہر رشید چودھری (03336963372)
پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کی بحث کوئی نئی نہیں۔ یہ موضوع ہر چند سال بعد سیاسی جلسوں، ٹی وی مباحثوں اور پارلیمانی راہداریوں میں دوبارہ زندہ ہو جاتا ہے۔ کبھی جنوبی پنجاب کے نام پر آواز بلند ہوتی ہے، کبھی ہزارہ صوبہ زیرِ بحث آتا ہے اور کبھی شہری سندھ کی الگ شناخت کی بات سامنے آتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا واقعی پاکستان کو نئے صوبوں کی ضرورت ہے یا ہم صرف ایک نئے سیاسی نعرے کے گرد گھوم رہے ہیں؟حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اس وقت آبادی، انتظامی دباؤ، وسائل کی غیر مساوی تقسیم اور علاقائی احساسِ محرومی جیسے سنگین مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ خصوصاً پنجاب جیسے بڑے صوبے کی مثال لیجیے، جس کی آبادی بارہ کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ دنیا کے درجنوں ممالک ایسے ہیں جن کی پوری آبادی پنجاب سے کم ہے۔ اتنی بڑی آبادی اور وسیع رقبے کو ایک ہی انتظامی اکائی کے تحت موثر انداز میں چلانا یقیناً آسان کام نہیں۔یہی وجہ ہے کہ نئے صوبوں کے حامی یہ موقف اختیار کرتے ہیں کہ جب حکومت عوام سے دور ہو جائے، فیصلے چند بڑے شہروں تک محدود ہو جائیں اور وسائل کی تقسیم متوازن نہ رہے تو انتظامی تقسیم ناگزیر ہو جاتی ہے۔ جنوبی پنجاب کے عوام برسوں سے یہ شکایت کرتے آ رہے ہیں کہ لاہور مرکزیت نے ان کے علاقوں کو ترقی کے عمل سے دور رکھا۔ اسی طرح خیبر پختونخوا میں ہزارہ اور سندھ میں شہری علاقوں کے حوالے سے بھی مختلف آوازیں سنائی دیتی رہی ہیں۔دنیا کے کئی ممالک نے بہتر گورننس کے لیے انتظامی تقسیم کا راستہ اختیار کیا۔ مقصد صرف نئے نقشے بنانا نہیں تھا بلکہ عوام کو حکومت کے قریب لانا تھا۔ جب اختیارات نچلی سطح تک منتقل ہوتے ہیں تو صحت، تعلیم، پولیس، بلدیات اور ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی نسبتاً بہتر انداز میں ممکن ہو جاتی ہے۔ چھوٹے انتظامی یونٹس میں عوامی نمائندوں تک رسائی آسان ہوتی ہے اور مقامی مسائل کو مقامی سطح پر زیادہ بہتر سمجھا جا سکتا ہے۔لیکن اس بحث کا دوسرا رخ بھی اتنا ہی اہم ہے۔ پاکستان ایک وفاقی ریاست ہے جہاں لسانی، ثقافتی اور علاقائی تنوع پہلے ہی حساس نوعیت رکھتا ہے۔ اگر نئے صوبوں کی بنیاد صرف زبان یا نسل کو بنایا جائے تو اس کے خطرناک نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ لسانی سیاست معاشرے میں تقسیم کو گہرا کر سکتی ہے، چھوٹے گروہوں میں احساسِ عدم تحفظ پیدا ہو سکتا ہے اور سیاسی جماعتیں اس مسئلے کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کر سکتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ کئی آئینی ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اگر نئے صوبے بنائے بھی جائیں تو ان کی بنیاد انتظامی ضرورت ہونی چاہیے، نہ کہ لسانی تقسیم۔ پاکستان کو اس وقت اتحاد، معاشی استحکام اور ادارہ جاتی مضبوطی کی ضرورت ہے۔ ایسے میں کوئی بھی فیصلہ جذبات کے بجائے قومی مفاد کو سامنے رکھ کر کرنا ہوگا۔ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا صرف نئے صوبے بنا دینے سے مسائل حل ہو جائیں گے؟ شاید نہیں۔ کیونکہ پاکستان کا ایک بڑا مسئلہ اختیارات کا ارتکاز بھی ہے۔ ہمارے ہاں بلدیاتی نظام اکثر کمزور رہتا ہے، مقامی حکومتیں بااختیار نہیں ہوتیں اور بیوروکریسی کا نظام عوامی توقعات پر پورا نہیں اترتا۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو نئے صوبے بھی پرانے مسائل کی نئی شکل بن سکتے ہیں۔درحقیقت اصل بحث صرف صوبوں کی تعداد کی نہیں بلکہ گورننس کے ماڈل کی ہے۔ کیا عوام کو ان کی دہلیز پر انصاف، تعلیم، صحت اور روزگار مل رہا ہے؟ کیا وسائل کی تقسیم شفاف ہے؟ کیا دور دراز علاقوں کو ترقی کے یکساں مواقع حاصل ہیں؟ اگر ان سوالات کے جواب نفی میں ہیں تو پھر یقیناً اصلاحات کی ضرورت ہے، چاہے وہ نئے صوبوں کی صورت میں ہوں یا مضبوط بلدیاتی نظام کی شکل میں۔پاکستان کی سیاست میں بدقسمتی سے اکثر سنجیدہ قومی مسائل بھی وقتی سیاسی نعروں کی نذر ہو جاتے ہیں۔ نئے صوبوں کا معاملہ بھی اسی رویے کا شکار رہا۔ کسی دور میں اسے انتخابی وعدہ بنایا گیا، کسی دور میں سیاسی دباؤ بڑھانے کے لیے استعمال کیا گیا، مگر اس موضوع پر کبھی سنجیدہ قومی مکالمہ سامنے نہیں آ سکا۔ضرورت اس امر کی ہے کہ پارلیمنٹ، آئینی ماہرین، دانشور، سیاسی جماعتیں اور سول سوسائٹی مل بیٹھ کر اس مسئلے پر کھل کر بات کریں۔ آبادی، وسائل، انتظامی صلاحیت، جغرافیہ، ثقافت اور قومی یکجہتی جیسے تمام پہلوؤں کو سامنے رکھ کر فیصلہ کیا جائے۔ کیونکہ نئے صوبوں کا معاملہ صرف نقشے کی لکیریں بدلنے کا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے سیاسی اور سماجی مستقبل کا سوال ہے۔پاکستان کو تقسیم نہیں بلکہ متوازن نظام کی ضرورت ہے۔ ایسا نظام جہاں لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ اور دور افتادہ علاقوں کے عوام خود کو یکساں اہم محسوس کریں۔ جہاں اختیارات چند ہاتھوں میں محدود نہ رہیں بلکہ عام آدمی تک منتقل ہوں۔ اگر نئے صوبے اس مقصد کو پورا کرتے ہیں تو ان پر سنجیدگی سے غور ہونا چاہیے، لیکن اگر یہ صرف نئی سیاسی لڑائیوں کا دروازہ کھولتے ہیں تو پھر ہمیں پہلے اپنے انتظامی اور جمہوری ڈھانچے کو مضبوط بنانا ہوگا۔وقت کا تقاضا یہی ہے کہ اس بحث کو نعروں سے نکال کر دلیل، آئین اور قومی مفاد کے دائرے میں لایا جائے۔ کیونکہ مضبوط پاکستان صرف بڑے یا چھوٹے صوبوں سے نہیں بلکہ انصاف، توازن اور موثر حکمرانی سے وجود میں آتا ہے
