تحریر: محمد انور بھٹی
بندن میاں اکثر کہا کرتے ہیں کہ محبت اگر دریا ہو تو آدمی کو سیراب بھی کرتی ہے اور اگر سیلاب بن جائے تو بستیاں بھی بہا لے جاتی ہے مگر آج کل کے زمانے میں لوگ محبت کو دریا کم اور طوفان زیادہ بنا بیٹھے ہیں نہ کنارے کا شعور نہ گہرائی کا اندازہ نہ ڈوبنے کا خوف اور نہ بچ نکلنے کی خواہش بس ایک عجیب سا جنون ہے جو انسان کو پہلے اندھا کرتا ہے پھر تنہا اور آخر میں رسوا کر دیتا ہے بندن میاں یہ باتیں محلے کی اُس بوسیدہ چائے کی دکان پر بیٹھ کر کیا کرتے ہیں جہاں شام ڈھلے زندگی کے مارے ہوئے لوگ اپنی تھکن اتارنے آتے ہیں کوئی حکومت کو کوستا ہے کوئی مہنگائی کا ماتم کرتا ہے کوئی اپنی بیوی کی شکایت سناتا ہے اور کوئی اولاد کی بے وفائی کا رونا روتا ہوا نظر آتا ہے مگر بندن میاں خاموش بیٹھے سب کے چہروں کو ایسے پڑھتے جیسے پرانی کتابوں کے بوسیدہ صفحے پڑھ رہے ہوں آج محلے کا نوجوان لڑکا ساجد وہاں آیا آنکھیں سوجھی ہوئی بال بکھرے ہوئے اور چہرہ ایسا جیسے کئی راتوں سے نیند اس کی دہلیز پر نہ آئی ہو اس نے آتے ہی کرسی کھینچی اور دھم سے بیٹھ گیا پھر بغیر سلام کے بولا بندن میاں عشق نے برباد کر دیا بندن میاں نے اپنی ٹوٹی ہوئی عینک ذرا اوپر کی اور بڑے سکون سے بولے بیٹا عشق نے نہیں تمہارے اندر بیٹھے ہوئے ضدی انسان نے تمہیں برباد کیا ہے عشق تو آدمی کو بہتر بناتا ہے یہ جو تمہارے بال بکھرے ہوئے ہیں اور چہرہ قبرستان کی دیوار جیسا لگ رہا ہے یہ عشق نہیں انا کی شکست ہے دکان پر بیٹھے سب لوگ چونک گئے کیونکہ بندن میاں بہت کم بولتے ہیں اور جب بولتے ہیں تو لفظ سیدھے دل کے اندر اترتے ہیں ساجد نے تلخ لہجے میں کہا بندن میاں آپ کیا جانیں محبت کیا ہوتی ہے آج کل کے زمانے میں جس سے محبت کرو وہ کسی امیر کے ساتھ چلی جاتی ہے بندن میاں ہنسے ایسی ہنسی جس میں طنز بھی تھا اور دکھ بھی پھر بولے بیٹا آج کل کے زمانے میں لوگ محبت کم اور ملکیت زیادہ چاہتے ہیں ہر عاشق چاہتا ہے کہ محبوب اس کی جیب میں رکھا ہوا تعویز بن جائے جہاں چاہے نکال کر دیکھ لے اور جہاں چاہے چھپا دے حالانکہ محبت قید نہیں آزادی کا دوسرا نام ہے تم لوگ محبت نہیں کرتے تم لوگ اپنے خالی پن کو کسی انسان کے کندھے پر ڈال دیتے ہو اور جب وہ انسان تمہارا بوجھ اٹھاتے اٹھاتے تھک جائے تو تم اسے بے وفا کہنے لگتے ہو ساجد خاموش ہوگیا مگر دکان کے دوسرے لوگ اب پوری دلچسپی سے بندن میاں کی باتیں سن رہے تھے بندن میاں نے چائے کا کپ ہاتھ میں لیا اور آہستہ سے بولے میں نے اپنی جوانی میں ایک آدمی دیکھا تھا نام اس کا نذیر تھا محبت میں ایسا ڈوبا کہ پورا شہر اُس کی مثال دیتا تھا محبوبہ کے گھر کے سامنے گھنٹوں کھڑا رہتا بارش ہو یا دھوپ اسے کچھ پروا نہ ہوتی ایک بار تو اس نے محبوبہ کی گلی میں تین دن فاقہ کیا صرف اس لیے کہ لڑکی کی ایک جھلک دیکھ لے لوگ کہتے تھے واہ کیا عشق ہے مگر بندن میاں کہتے تھے نہیں یہ عشق نہیں یہ خود کو مٹانے کی بیماری ہے کیونکہ عشق اگر آدمی سے اس کی عزت اس کی عقل اس کا سکون اور اس کی خودداری چھین لے تو وہ عبادت نہیں عذاب بن جاتا ہے پھر ایک دن ہوا یوں کہ وہ لڑکی کسی اور سے بیاہ دی گئی نذیر پاگل ہوگیا گلیوں میں پھرتا رہتا دیواروں سے باتیں کرتا اور ہر گزرنے والی عورت کو اُس کا نام لے کر پکارتا لوگ کہتے عشق میں فنا ہوگیا مگر بندن میاں دل میں سوچتے تھے یہ عشق نہیں اپنی ذات کے بت کے ٹوٹنے کا شور ہے کیونکہ سچا عشق انسان کو پاگل نہیں پختہ بناتا ہے وہ انسان کے اندر تحمل پیدا کرتا ہے برداشت پیدا کرتا ہے دعا پیدا کرتا ہے مگر آج کل کے عاشقوں کو دیکھیے اگر محبوب بات نہ کرے تو تیزاب پھینک دیتے ہیں اگر انکار کر دے تو خودکشی کر لیتے ہیں اگر شادی کہیں اور ہو جائے تو سوشل میڈیا پر عزت اچھال دیتے ہیں بندن میاں کہتے ہیں یہ عشق نہیں یہ نفس کا بھوکا درندہ ہے جو محبت کے کپڑے پہن کر گھوم رہا ہے ۔دکان پر بیٹھے ایک آدمی نے ہنستے ہوئے کہا بندن میاں پھر عشق کرنا ہی کیوں چاہیے بندن میاں نے مسکرا کر جواب دیا عشق نہ ہو تو انسان پتھر ہو جائے مگر عشق میں ہوش بھی ساتھ ہونا چاہیے محبت اگر انسان کو انسان نہ رہنے دے تو وہ محبت نہیں آفت ہے تم نے دیکھا ہوگا بعض لوگ محبت میں ایسے ڈوبتے ہیں کہ ماں باپ چھوڑ دیتے ہیں دوست چھوڑ دیتے ہیں نماز چھوڑ دیتے ہیں کام چھوڑ دیتے ہیں اور پھر کہتے ہیں عشق بڑا ظالم ہے حالانکہ عشق نہیں ان کی بے اعتدالی ظالم ہوتی ہے بندن میاں نے اپنی لاٹھی سیدھی کی اور ذرا قریب ہوکر بولے بیٹا دنیا میں ہر چیز کی حد خوبصورت ہوتی ہے پانی حد میں رہے تو زندگی ہے حد سے نکل جائے تو سیلاب بن جاتا ہے آگ حد میں رہے تو چولہا جلتا ہے حد سے بڑھ جائے تو گھر جلا دیتی ہے اسی طرح محبت حد میں رہے تو انسان کو جنت کا راستہ دکھاتی ہے اور حد سے بڑھ جائے تو انسان کو خود اپنی نظروں میں گرا دیتی ہے ساجد اب خاموشی سے زمین دیکھ رہا تھا بندن میاں نے اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور بولے تمہارا مسئلہ یہ نہیں کہ تم محبت میں ناکام ہوئے ہو تمہارا مسئلہ یہ ہے کہ تم نے اپنی پوری دنیا ایک انسان کے گرد باندھ دی تھی حالانکہ انسان کو اپنی دنیا میں بہت کچھ رکھنا چاہیے ماں کی دعا باپ کی عزت دوستوں کی محبت اپنے رب کا خوف اپنے مستقبل کی فکر اور اپنی ذات کا احترام اگر آدمی اپنی پوری کائنات ایک انسان کے قدموں میں رکھ دے تو پھر وہ انسان نہیں غلام بن جاتا ہے اور محبت غلامی نہیں ہوتی بندن میاں نے ایک لمبی سانس لی اور بولے مجھے آج بھی یاد ہے ریلوے کالونی میں ایک بابو تھا ہر وقت اپنی بیوی کے عشق میں ڈوبا رہتا دفتر میں بھی اُس کے خطوط پڑھتا رہتا ایک دن اُس کی بیوی کسی اور کے ساتھ بھاگ گئی بابو صاحب نے نوکری چھوڑ دی داڑھی بڑھا لی اور ہر وقت قسمت کو کوستے رہتے تھے میں نے ایک دن پوچھا میاں تمہاری زندگی میں اور کچھ نہیں تھا کیا ،بولے تھا تو بہت کچھ مگر میں نے سب کچھ اُس عورت کے نام کر دیا تھا بندن میاں کہتے تھے انسان جب اپنی پوری روح کسی ایک انسان کے حوالے کر دیتا ہے تو پھر ٹوٹتا بھی مکمل ہے اس لیے محبت کرو مگر اپنے رب کو نہ بھولو محبت کرو مگر اپنی عزت نہ کھوؤ محبت کرو مگر اپنی عقل زندہ رکھو کیونکہ عشق اندھا نہیں ہوتا اندھے تو وہ لوگ ہوتے ہیں جو عشق کے نام پر اپنی خواہشات کی پوجا کرتے ہیں دکان پر بیٹھا ایک نوجوان بولا بندن میاں آج کل سوشل میڈیا نے بھی عشق کو تماشا بنا دیا ہے بندن میاں ہنسے اور بولے بیٹا آج کل عشق کم اور اسٹیٹس زیادہ ہوتے ہیں لوگ محبت سے زیادہ اسکرین شاٹ سنبھالتے ہیں ہر دوسرے دن نیا عشق اور ہر تیسرے دن نئی بے وفائی پھر لمبی پوسٹیں اور اداس شاعری حالانکہ محبت جتنی خاموش ہو اتنی ہی سچی ہوتی ہے اصل محبت شور نہیں کرتی وہ انسان کے کردار میں اترتی ہے اس کی زبان نرم کرتی ہے اس کے رویے بہتر کرتی ہے مگر آج کل کے عاشق محبوبہ کے انکار پر پورا فیس بک سر پر اٹھا لیتے ہیں بندن میاں نے مسکرا کر کہا ہمارے زمانے میں عاشق خط جلاتے تھے آج کل کے عاشق چیٹ لیک کرتے ہیں ساری دکان قہقہے سے گونج اٹھی مگر بندن میاں کی آنکھوں میں ہنسی سے زیادہ افسوس تھا وہ بولے بیٹا عشق جب حد سے گزر جائے تو انسان اپنے آپ کو کھو دیتا ہے پھر نہ اسے ماں کی جھریاں نظر آتی ہیں نہ باپ کی تھکن نہ بہن کی دعائیں اور نہ اپنے مستقبل کی تباہی بس وہ ایک چہرے کے گرد ایسے گھومتا ہے جیسے پروانہ آگ کے گرد گھومتا ہے اور پھر ایک دن جل کر راکھ ہو جاتا ہے مگر دنیا کو اپنی راکھ دکھا کر بھی یہی کہتا ہے دیکھو میں کتنا بڑا عاشق تھا بندن میاں نے چائے کا آخری گھونٹ لیا اور آہستہ سے بولے حالانکہ بڑا عاشق وہ ہوتا ہے جو محبت میں بھی انسان رہے جو انکار سن کر بددعا نہ دے جو جدائی ملنے پر کردار نہ بیچے جو ناکامی پر اپنی ماں کی آنکھوں کی نیند نہ چھینے جو محبت کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے پوری زندگی نہ بنا دے کیونکہ دنیا میں محبت سے بھی بڑی چیزیں موجود ہیں عزت کردار دیانت رزق اور سکون اور سب سے بڑھ کر اپنے رب سے تعلق اگر عشق انسان کو خدا سے دور کر دے تو وہ عشق نہیں فتنہ ہے بندن میاں کی باتیں ختم ہوئیں تو دکان پر عجیب خاموشی چھا گئی ساجد کی آنکھوں میں آنسو تھے مگر اس بار اُن آنسوؤں میں شور کم اور سمجھ زیادہ تھی اُس نے دھیرے سے پوچھا پھر انسان کیا کرے بندن میاں نے مسکرا کر کہا محبت کرو مگر اپنے آپ کو مت کھوؤ اگر کوئی تمہاری زندگی میں آئے تو اسے رحمت سمجھو ملکیت نہیں اور اگر چلا جائے تو اسے قسمت کا فیصلہ سمجھو اپنی تباہی کا جواز نہیں کیونکہ دنیا میں کوئی انسان اتنا بڑا نہیں ہوتا کہ اُس کے جانے سے تمہاری پوری زندگی ختم ہو جائے بندن میاں پھر ذرا رکے اور بولے یاد رکھو عشق کا سب سے خوبصورت روپ وہ ہے جس میں انسان بہتر ہو جائے اگر محبت تمہیں جھوٹا بنا دے بے سکون بنا دے خودغرض بنا دے یا تمہیں اپنے رب اور اپنے ماں باپ سے دور کر دے تو سمجھ لو تم محبت نہیں اپنے نفس کی غلامی کر رہے ہو اور نفس کی غلامی کا انجام ہمیشہ ذلت ہوتا ہے بندن میاں اٹھے اپنی پرانی چادر کندھے پر رکھی اور چلتے چلتے بس اتنا کہا بیٹا عشق اگر حد میں رہے تو انسان کو شاعر بنا دیتا ہے اور اگر حد سے گزر جائے تو تماشہ بنا دیتا ہے اس لیے محبت میں ڈوبو ضرور مگر اتنا نہیں کہ تمہیں اپنے ہی وجود کا کنارا نظر آنا بند ہو جائے۔
