تحریر: محمد انور بھٹی
اسلام آباد کی روشن سڑکوں پر جب رات کے آخری پہر خاموشی اترتی ہے تو بندن میاں اکثر سوچ میں ڈوب جاتے ہیں کہ آخر یہ وہی معاشرہ ہے جہاں کبھی گھر صرف اینٹوں سے نہیں دلوں سے بنتے تھے جہاں ماں کی دعا چھت ہوا کرتی تھی اور باپ کی خاموشی گھر کا وقار سمجھی جاتی تھی جہاں بیٹی رخصت ہوتی تو پورا محلہ اشک بار ہو جاتا اور بیٹا بیاہ کر لاتا تو گھر میں رحمتوں کی خوشبو پھیل جاتی۔ مگر اب حالات بدل چکے ہیں اب گھروں کی دیواریں اونچی ضرور ہو گئی ہیں مگر رشتوں کی بنیادیں کھوکھلی ہوتی جا رہی ہیں اور اسلام آباد جیسے شہر سے آنے والے یہ خوفناک اعداد و شمار تو گویا پورے معاشرے کے چہرے پر ایک ایسا طمانچہ ہیں جس کی گونج صرف عدالتوں تک محدود نہیں بلکہ ہر گلی ہر محلے ہر گھر اور ہر دل تک سنائی دے رہی ہے۔
بندن میاں آج اسلام آباد کی ایک فیملی کورٹ کے باہر کھڑے تھے ان کے ہاتھ میں اخبار تھا اور اخبار کی سرخی چیخ چیخ کر کہہ رہی تھی کہ ہر گھنٹے میں اوسطاً اڑتیس طلاقیں رجسٹر ہو رہی ہیں روزانہ تین سو سے زائد درخواستیں عدالتوں میں جمع ہو رہی ہیں اور سالانہ تعداد ایک لاکھ کے قریب جا پہنچی ہے بندن میاں نے اخبار بند کیا اور ایک گہری سانس لی پھر آہستہ سے بولے یا اللہ یہ وہی قوم ہے جس کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کو اپنی سنت قرار دیا تھا اور طلاق کو حلال چیزوں میں سب سے ناپسندیدہ فرمایا تھا پھر آخر ایسا کیا ہوا کہ محبتوں کے گھر عدالتوں کے کاغذوں میں دفن ہونے لگےہیں۔
وہ سامنے بینچ پر بیٹھی ایک لڑکی کو دیکھتے ہیں جس کی عمر شاید بائیس تئیس برس ہوگی آنکھوں میں آنسو تھے ہاتھ میں موبائل تھا اور ساتھ ایک بوڑھی ماں بیٹھی تھی جو مسلسل تسبیح پڑھ رہی تھی تھوڑی دور ایک نوجوان سر جھکائے کھڑا تھا شاید وہ اس لڑکی کا شوہر تھا بندن میاں نے سوچا یہ دونوں کبھی ایک دوسرے کے لیے جینے مرنے کی قسمیں کھاتے ہوں گے پھر ایسا کیا ہوا کہ اب ایک دوسرے کا چہرہ دیکھنا بھی گوارا نہیں۔یہ صرف اسلام آباد کی کہانی نہیں یہ کراچی لاہور پشاور کوئٹہ حیدرآباد اور پاکستان کے ہر اس شہر کی کہانی ہے جہاں جدیدیت کے نام پر رشتوں کی روح کو قتل کیا جا رہا ہے جہاں محبت کو برداشت سے الگ کر دیا گیا ہے جہاں انا نے وفا کا گلا گھونٹ دیا ہے جہاں سوشل میڈیا نے حقیقت سے زیادہ دکھاوا سکھا دیا ہے جہاں ہر شخص خود کو صحیح اور دوسرے کو غلط سمجھنے لگا ہے۔
بندن میاں کہتے ہیں پہلے زمانے میں غربت ہوتی تھی مگر دل امیر ہوتے تھے آج دولت بہت ہے مگر دل فقیر ہو گئے ہیں پہلے ایک کمرے کے گھر میں دس لوگ رہ کر بھی خوش رہتے تھے آج دس کمروں کے بنگلوں میں دو لوگ ایک دوسرے سے بات نہیں کرتے پہلے میاں بیوی کے جھگڑے گھر کے بزرگ حل کرتے تھے آج وکیل حل کرتے ہیں پہلے ماں باپ بیٹی کو صبر سکھاتے تھے اب کہتے ہیں اگر ایک بات بھی بری لگے تو واپس آ جانا پہلے بیٹے کو سمجھایا جاتا تھا کہ عورت اللہ کی امانت ہے اب اسے صرف اپنی خواہشات پوری کرنے کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔اسلامی تعلیمات میں نکاح صرف دو افراد کا معاہدہ نہیں بلکہ دو خاندانوں کا روحانی تعلق ہے قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے میاں بیوی کے رشتے کو لباس قرار دیا ہے لباس انسان کو چھپاتا بھی ہے بچاتا بھی ہے سکون بھی دیتا ہے مگر آج یہی رشتہ فیشن شو بن گیا ہے جہاں شادی عبادت کم اور نمائش زیادہ بن چکی ہے لاکھوں روپے کے ہال لاکھوں کے جوڑے لاکھوں کی تصویریں مگر برداشت صفر اخلاص صفر اور قربانی صفر۔
بندن میاں کو یاد آیا کہ ان کے زمانے میں شادی سے پہلے لڑکی کو یہ سکھایا جاتا تھا کہ بیٹی گھر کو جوڑنا تمہاری عبادت ہے اور لڑکے کو کہا جاتا تھا کہ بیوی کا احترام تمہاری مردانگی ہے مگر آج کے نوجوانوں کو فلموں نے محبت سکھائی ہے قربانی نہیں ڈراموں نے شک سکھایا ہے اعتماد نہیں سوشل میڈیا نے موازنہ سکھایا ہے شکر نہیں۔آج ہر دوسرا نوجوان اپنے شریک حیات کا موازنہ کسی اداکار کسی انفلوئنسر یا کسی مصنوعی دنیا سے کرتا ہے بیوی کہتی ہے میرے شوہر فلاں جیسا کیوں نہیں شوہر کہتا ہے میری بیوی فلاں جیسی کیوں نہیں اور اسی موازنے نے گھروں کی جنت کو جہنم بنا دیا ہے بندن میاں ہنس کر کہتے ہیں ارے بھائی وہ انسٹاگرام والا شوہر صبح اٹھ کر برتن نہیں دھوتا وہ یوٹیوب والی بیوی بجلی کے بل اور بچوں کی بیماریوں سے نہیں لڑتی یہ سب دکھاوے کی دنیا ہے حقیقت وہ ہے جو رات کے آخری پہر ایک دوسرے کے لیے دعا بن جائے۔پھر بندن میاں ایک اور تلخ حقیقت بیان کرتے ہیں کہ آج شادی سے پہلے کردار نہیں بینک بیلنس دیکھا جاتا ہے دین نہیں ڈگری دیکھی جاتی ہے اخلاق نہیں گاڑی دیکھی جاتی ہے اور جب بنیاد ہی مادیت پر ہو تو پھر رشتے کتنے دن قائم رہیں گے اسلام نے تو صاف فرمایا تھا کہ اگر دین اور اخلاق اچھے ہوں تو نکاح کر دو مگر ہم نے معیار بدل دیے پھر شکوہ بھی ہم ہی کرتے ہیں کہ سکون کیوں نہیں۔طلاقوں کی ایک بڑی وجہ بے جا توقعات بھی ہیں آج ہر لڑکی شہزادی بن کر جانا چاہتی ہے اور ہر لڑکا بادشاہ بن کر رہنا چاہتا ہے مگر کوئی خادم بننے کو تیار نہیں حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو گھر کے کاموں میں بھی مدد فرمائی کپڑے بھی سیے جوتے بھی درست کیے اور امت کو سکھایا کہ اصل عظمت خدمت میں ہے غرور میں نہیں۔
بندن میاں کہتے ہیں کہ آج کی سب سے بڑی بیماری انا ہے میاں بیوی دونوں معافی مانگنے کو اپنی توہین سمجھتے ہیں حالانکہ رشتہ ہمیشہ وہی بچاتا ہے جو جھکنا جانتا ہے درخت جتنا پھلدار ہوتا ہے اتنا جھکتا ہے مگر آج کے لوگ خالی درختوں کی طرح اکڑے ہوئے ہیں اسی لیے پہلی آندھی میں گر جاتے ہیں
اسلام آباد کی عدالتوں میں آنے والے بیشتر کیسز میں ایک اور خطرناک پہلو بھی سامنے آ رہا ہے کہ شادی کے صرف ایک سے تین ماہ بعد ہی طلاق کی درخواست دائر ہو رہی ہے بندن میاں حیرت سے کہتے ہیں ارے بھئی ابھی تو مہندی کے رنگ بھی پورے نہیں اترے اور رشتہ قبرستان پہنچ گیا اس کا مطلب صاف ہے کہ شادی کو سمجھا ہی نہیں گیا اسے صرف ایک تقریب سمجھ لیا گیا ایک فیشن ایک وقتی جوش حالانکہ شادی پوری زندگی کی ذمہ داری ہے۔بندن میاں نے ایک نوجوان سے پوچھا بیٹا تم طلاق کیوں دے رہے ہو اس نے کہا سر وہ مجھے سمجھتی نہیں بندن میاں نے پوچھا تم نے اسے سمجھنے کی کتنی کوشش کی نوجوان خاموش ہو گیا پھر ایک لڑکی سے پوچھا تم علیحدگی کیوں چاہتی ہو اس نے کہا وہ مجھے وقت نہیں دیتا بندن میاں نے پوچھا تم نے کبھی اس کے حالات سمجھنے کی کوشش کی لڑکی بھی خاموش ہو گئی بندن میاں نے آسمان کی طرف دیکھا اور کہا یا اللہ یہ کیسا دور آ گیا جہاں ہر شخص سمجھا جانا چاہتا ہے مگر کسی کو سمجھنا نہیں چاہتا۔معاشرتی بگاڑ کی ایک بڑی وجہ والدین کا کردار بھی ہے کچھ والدین اولاد کی ہر ضد پوری کرتے کرتے انہیں برداشت سے محروم کر دیتے ہیں بچپن سے ہی بچوں کو سکھایا جاتا ہے کہ تم ہمیشہ صحیح ہو نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ شادی کے بعد وہ کسی کی بات سننے کے قابل ہی نہیں رہتے پھر معمولی اختلاف بھی جنگ بن جاتا ہے۔ایک اور خطرناک حقیقت یہ ہے کہ دین سے دوری بڑھتی جا رہی ہے گھروں سے قرآن کی آواز کم ہو گئی ہے نماز صرف جنازوں تک محدود ہو رہی ہے اور جہاں اللہ کی یاد ختم ہو جائے وہاں سکون کیسے باقی رہ سکتا ہے بندن میاں کہتے ہیں پہلے میاں بیوی لڑتے بھی تھے تو وضو کر کے نماز پڑھ لیتے تھے پھر دل نرم ہو جاتے تھے اب لوگ غصے میں موبائل اٹھاتے ہیں اور وکیل کو کال کر دیتے ہیں۔
کورٹ میرجز کی بڑھتی تعداد بھی کئی سوالات اٹھا رہی ہے محبت بری چیز نہیں مگر جذبات میں کیے گئے فیصلے اکثر زندگی بھر کے زخم بن جاتے ہیں جب خاندان اعتماد مشورہ اور تجربہ سے الگ ہو جائیں تو رشتے کمزور پڑ جاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ بہت سی جلد بازی میں ہونے والی شادیاں چند مہینوں میں ٹوٹ جاتی ہیں۔
بندن میاں کہتے ہیں کہ مغرب کی اندھی تقلید نے ہمارے معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کر دیا ہے وہاں خاندانی نظام پہلے ہی کمزور ہو چکا تھا مگر ہمارا تو سرمایہ ہی خاندان تھا ہم نے بھی وہی راستہ اختیار کر لیا جہاں آزادی کے نام پر خود غرضی اور حقوق کے نام پر فرائض فراموش کر دیے گئے
آج کے نوجوانوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ شادی صرف محبت کا نام نہیں بلکہ ذمہ داری صبر برداشت ایثار اور قربانی کا نام ہے محبت تو وقت کے ساتھ کم زیادہ ہوتی رہتی ہے مگر احترام باقی رہے تو رشتہ زندہ رہتا ہے۔بندن میاں ایک لمحے کے لیے خاموش ہوئے پھر بولے اصل مسئلہ صرف طلاق نہیں اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے رشتوں کی روح کھو دی ہے ہم نے دین کو رسموں میں بدل دیا ہے ہم نے شادی کو کاروبار بنا دیا ہے ہم نے عورت کو مقابلہ اور مرد کو حکمراں بنا دیا ہے حالانکہ اسلام نے دونوں کو ایک دوسرے کا سکون بنایا تھا۔پھر بندن میاں نے ایک خوبصورت بات کہی کہ اگر گھر میں ماں باپ ایک دوسرے کا احترام کریں تو بچے محبت سیکھتے ہیں اگر باپ بیوی کی عزت کرے تو بیٹا وفاداری سیکھتا ہے اگر ماں شوہر کی قدر کرے تو بیٹی صبر سیکھتی ہے مگر آج بچے گھروں میں لڑائیاں دیکھ رہے ہیں طنز سن رہے ہیں چیخیں سن رہے ہیں اسی لیے وہ رشتوں سے خوفزدہ ہو رہے ہیں۔اسلام آباد کے یہ اعداد و شمار صرف نمبرز نہیں یہ بکھرتے ہوئے خواب ہیں یہ یتیم ہوتی خواہشیں ہیں یہ ٹوٹتے ہوئے بچوں کی نفسیات ہیں کیونکہ ہر طلاق صرف دو افراد کو الگ نہیں کرتی بلکہ آنے والی نسلوں کے دلوں پر بھی زخم چھوڑتی ہے۔
بندن میاں کہتے ہیں سب سے زیادہ ظلم اس وقت ہوتا ہے جب ماں باپ اپنی انا کی جنگ میں بچوں کو ہتھیار بنا لیتے ہیں بچہ ماں اور باپ دونوں کو چاہتا ہے مگر اسے مجبور کیا جاتا ہے کہ کسی ایک کو چنے یہ ظلم صرف عدالتوں میں نہیں پورے معاشرے کی روح پر ہوتا ہے۔پھر بندن میاں نے مسجد کے ایک امام صاحب کی بات سنائی انہوں نے کہا تھا کہ اگر نکاح سے پہلے لڑکے اور لڑکی کو صرف ایک ماہ اسلامی تربیت دی جائے انہیں حقوق و فرائض سمجھائے جائیں صبر برداشت اور اخلاق کی تعلیم دی جائے تو شاید آدھے مسائل ختم ہو جائیں۔واقعی آج ہمیں صرف ڈگری یافتہ نہیں بلکہ تربیت یافتہ نسل کی ضرورت ہے ایسی نسل جو جانتی ہو کہ رشتہ صرف لینے کا نہیں دینے کا نام ہے ایسی نسل جو اختلاف کو دشمنی نہ سمجھے ایسی نسل جو غصے میں طلاق کا لفظ زبان پر نہ لائے۔حل کیا ہے بندن میاں کہتے ہیں حل عدالتوں میں نہیں گھروں میں ہے حل قانون سے پہلے تربیت میں ہے حل موبائل بند کرنے اور دل کھولنے میں ہے حل یہ ہے کہ شادیوں کو آسان بنایا جائے نوجوانوں کو دین اور اخلاق کی تعلیم دی جائے والدین بچوں کے سامنے ایک دوسرے کی عزت کریں علماء صرف نکاح نہ پڑھائیں بلکہ نکاح کی حقیقت بھی سمجھائیں میڈیا بے حیائی اور سازشوں پر مبنی ڈراموں کے بجائے خاندانی اقدار کو فروغ دے
سب سے بڑھ کر یہ کہ ہمیں دوبارہ اللہ کی طرف لوٹنا ہوگا کیونکہ جس گھر میں نماز ہو وہاں رحمت اترتی ہے جس گھر میں قرآن ہو وہاں سکون رہتا ہے جس گھر میں معافی ہو وہاں محبت زندہ رہتی ہے۔
بندن میاں نے عدالت کی سیڑھیوں سے اترتے ہوئے آخری بار آسمان کی طرف دیکھا اور دھیرے سے کہا یا اللہ ہمارے گھروں کو بچا لے ہماری نسلوں کو بچا لے ہمارے دلوں میں محبت پیدا کر دے ہمیں انا سے نکال کر عاجزی دے ہمیں دکھاوے سے نکال کر اخلاص دے اور ہمیں یہ سمجھا دے کہ گھر صرف دیواروں سے نہیں بلکہ صبر احترام وفا اور دعا سے بنتے ہیں۔پھر بندن میاں اپنی مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ بولے ارے بھائی گھر جیتنے سے نہیں بچتے گھر تو ہار مان لینے سے بچ جاتے ہیں کبھی شوہر تھوڑا جھک جائے کبھی بیوی تھوڑا صبر کر لے کبھی ماں تھوڑی دعا کر لے کبھی باپ تھوڑا پیار دے تو یقین کرو عدالتوں کے دروازے سنسان ہو جائیں اور گھروں کے آنگن پھر سے بچوں کی ہنسیوں سے آباد ہو جائیں کیونکہ معاشرے کی اصل ترقی میٹرو بسوں بلند عمارتوں اور چمکتے مالز سے نہیں بلکہ مضبوط خاندانوں سے ہوتی ہے اور جس قوم کے گھر ٹوٹ جائیں اس کی سڑکیں چاہے سونے کی کیوں نہ ہوں وہ قوم اندر سے کھوکھلی ہو جاتی ہے۔





