وزیراعظم شہباز شریف نے کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کا دشمن اب اس پر بری نظر ڈالنے کی جرات نہیں کرے گا کیونکہ ایک سال قبل پاک فضائیہ کے شاہینوں اور فتح میزائلوں نے درست نشانوں پر وار کر کے دشمن کو ناقابلِ فراموش سبق سکھا دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے پاکستان کی مخلصانہ مذاکرات کی پیشکش کو کمزوری سمجھ کر جارحیت کا راستہ چنا تھا، لیکن اسے منہ توڑ جواب ملا۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ گزشتہ دو دہائیوں سے جاری انسدادِ دہشت گردی کے سلسلے میں آپریشن ‘غضب للحق’ نے دشمنوں کے دلوں میں خوف پیدا کر دیا ہے اور افغان طالبان کے زیرِ اثر دہشت گرد پراکسی عناصر (ٹی ٹی پی اور بی ایل اے) کے خلاف افغان حکومت کو ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے۔ امریکہ ایران تنازع پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس جنگ نے خطے کو معاشی کمزوری میں دھکیلا، تاہم پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں 8 اپریل کو جنگ بندی ممکن ہوئی، جس پر وہ صدر ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی قیادت کے شکر گزار ہیں۔ انہوں نے فلسطین اور کشمیر کے مظلوم عوام کی اخلاقی و سفارتی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ قومی دفاع کے لیے ایک مضبوط معیشت ناگزیر ہے اور پوری قوم پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے





