خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے کے کاشتکاروں اور زمینداروں کے معاشی تحفظ کے لیے ایک انتہائی اہم اور بڑے فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے امسال زمینداروں سے براہِ راست 2 لاکھ 25 ہزار ٹن گندم خریدنے کی منظوری دے دی ہے۔ مشیرِ خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے اس سرکاری فیصلے کا باقاعدہ اعلان کرتے ہوئے پریس کانفرنس میں بتایا کہ کے پی حکومت اپنے تمام تر دستیاب وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے 3500 روپے فی من کے سرکاری نرخ کے حساب سے زمینداروں سے یہ گندم خریدنے جا رہی ہے، تاکہ کسانوں کو ان کی محنت کا پورا صلہ مل سکے۔
صوبائی مشیرِ خزانہ نے کاشتکاروں کو ادائیگیوں کے طریقہ کار کے حوالے سے ایک بڑی سہولت کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا کہ زمینداروں کو گندم کی فروخت کے بعد کسی قسم کے انتظار یا طویل دفتری عمل سے نہیں گزرنا پڑے گا، بلکہ مال سپلائی کرنے کے محض 24 گھنٹے کے اندر اندر انہیں ان کی پوری رقم ادا کر دی جائے گی۔ اس اقدام کا مقصد صوبے میں گندم کی منصفانہ قیمتوں کو برقرار رکھنا اور کسانوں کو مڈل مین یا آڑھتیوں کے استحصال سے بچانا ہے۔
دوسری جانب، خیبرپختونخوا میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال، گیس کی مسلسل بندش اور آٹے کے حالیہ سنگین بحران پر صوبائی حکومت، اپوزیشن جماعتیں اور گورنر خیبرپختونخوا تمام تر سیاسی اختلافات بھلا کر عوام کی خاطر ایک ہی پیج پر آ گئے ہیں۔ پشاور میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی مشترکہ اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ صوبے میں گیس کی لوڈ شیڈنگ اور آٹے کے بحران نے عام آدمی کی مشکلات اور سحر و افطار کے مسائل میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امن و امان کو برقرار رکھنا بھی صوبائی حکومت کے لیے اس وقت ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے، جبکہ ان تمام تر حالات میں وفاقی حکومت صوبے کو اس کا جائز اور آئینی حق نہیں دے رہی، جس کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو مل کر آواز اٹھانی ہوگی۔





