ضلع گجرات کی ممتاز مذہبی و علمی شخصیت اور ممبر اسلامی نظریاتی کونسل، سجادہ نشین آستانہ عالیہ بوکن شریف پیر سید عتیق الرحمان بخاری کی جانب سے ضلع گجرات کے صحافیوں کے اعزاز میں گجرات جمخانہ میں ایک پروقار اور شاندار گرینڈ ظہرانے کا اہتمام کیا گیا۔ اس پروقار تقریب میں ضلع بھر سے تعلق رکھنے والے پرنٹ، الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا کے سینیئر صحافیوں، مختلف صحافتی تنظیموں کے رہنماؤں اور پریس کلبز کے نمائندگان نے بہت بڑی تعداد میں شرکت کر کے اسے ایک یادگار تقریب بنا دیا۔
اس موقع پر گلیانہ پریس کلب (رجسٹرڈ) کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے سینیئر نائب صدر ملک مدثر منظور اعوان کی خصوصی قیادت میں تقریب میں شرکت کی۔ وفد کے دیگر معزز ارکان میں گروپ لیڈر ڈاکٹر انصر فاروق مغل، جنرل سیکرٹری آصف حسین عطاری اور فنانس سیکرٹری ذوالفقار علی دھم بھی شامل تھے۔ تقریب میں آمد پر پیر سید ہارون بخاری نے تمام مہمان صحافیوں کا انتہائی پرتپاک استقبال کیا، انہیں گلدستے پیش کیے اور صحافی برادری کی اس بھرپور آمد کو اپنے اور آستانہ عالیہ کے لیے باعثِ فخر و اعزاز قرار دیا۔

تقریب سے اپنے صدارتی خطاب میں ممبر اسلامی نظریاتی کونسل پیر سید عتیق الرحمان بخاری نے صحافت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ صحافت ریاست اور معاشرے کا چوتھا اہم ترین ستون ہے اور صحافی برادری عوامی مسائل کو اربابِ اختیار تک پہنچانے میں ہمیشہ کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ ڈیجیٹل دور میں مثبت، ذمہ دار، سچی اور غیرجانبدار صحافت وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے تاکہ معاشرے کی صحیح سمت میں اصلاح ہو سکے۔
ظہرانے کے بعد باقاعدہ فکری نشست کا آغاز ہوا، جس کے دوران حاضر سروس صحافیوں نے ملک کی موجودہ صورتحال، سماجی برائیوں اور علاقائی ترقیاتی امور پر انتہائی سخت اور اہم ترین سوالات کیے۔ پیر سید عتیق الرحمان بخاری نے تمام تیکھے سوالات کو انتہائی کھلے دل کے ساتھ سنا اور ان کے نہایت مدلل، فصیح اور جامع جوابات دیے۔ ان کے اس واضح مؤقف، دور اندیشی اور کھلے پن کو وہاں موجود تمام شرکاء نے دل سے سراہا۔
تقریب کے اختتام پر گلیانہ پریس کلب کے وفد نے اس شاندار میزبانی اور پرتکلف ظہرانے پر پیر سید عتیق الرحمان بخاری کا شکریہ ادا کیا اور صحافیوں کے حقوق کے لیے ان کی آواز کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ یہ تقریب انتہائی خوشگوار فضا میں اختتام پذیر ہوئی جہاں صحافیوں نے باہمی روابط اور پیشہ ورانہ امور پر بھی کھل کر تبادلہ خیال کیا۔