بچوں کی تربیت اور موسمی حالات

از قلم: فیصل جنجوعہ

دنیا میں وہی اقوام اور افراد ترقی کی منازل طے کرتے ہیں جو حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے اور مشکلات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ انسانی شخصیت کی مضبوطی صرف کتابی علم سے پیدا نہیں ہوتی بلکہ عملی زندگی کے تجربات، برداشت اور مختلف حالات سے گزرنے کے عمل سے بھی تشکیل پاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بچوں کی تعلیم و تربیت میں قدرتی ماحول اور موسمی حالات کا کردار نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔

آج کے جدید دور میں والدین کی ایک بڑی خواہش یہ بن چکی ہے کہ بچوں کو ہر ممکن آرام دہ ماحول فراہم کیا جائے۔ ایئر کنڈیشنڈ کمروں، بند ماحول اور ہر قسم کی موسمی شدت سے مکمل حفاظت کو بہتر تربیت تصور کیا جانے لگا ہے۔ بلاشبہ بچوں کی صحت اور حفاظت والدین اور تعلیمی اداروں کی اولین ذمہ داری ہے، لیکن اگر بچوں کو مکمل طور پر فطری ماحول سے الگ تھلگ کر دیا جائے تو یہ ان کی جسمانی اور ذہنی نشوونما پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

قدرتی ماحول میں تعلیم حاصل کرنے والے بچے عموماً زیادہ مضبوط اعصاب، بہتر قوتِ برداشت اور حالات سے مطابقت پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ گرمی، سردی، بارش اور دیگر موسمی تبدیلیاں انسانی جسم اور ذہن کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ یہی حالات بچوں میں صبر، مستقل مزاجی اور مشکلات کا سامنا کرنے کا حوصلہ پیدا کرتے ہیں۔ مستقبل کی عملی زندگی میں ہر وقت آرام دہ ماحول میسر نہیں ہوتا، اس لئے بچپن سے ہی مختلف حالات کا تجربہ انسان کو مضبوط بناتا ہے۔

بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں بعض اوقات سہولت کو تربیت پر ترجیح دی جاتی ہے۔ بچوں کو ہر مشکل سے بچانے کی کوشش میں ہم غیر محسوس انداز میں انہیں کمزور بنا دیتے ہیں۔ دنیا کے کامیاب افراد کی زندگیوں کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے سخت حالات میں رہ کر ہی خود کو منوایا۔ مشکلات انسان کی صلاحیتوں کو نکھارتی اور شخصیت کو مضبوط بناتی ہیں۔

البتہ اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ شدید موسمی حالات میں احتیاط اور حفاظتی اقدامات بے حد ضروری ہیں۔ تعلیمی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کی صحت، پانی، ہوا اور بنیادی سہولیات کا مکمل خیال رکھیں۔ متوازن طرزِ عمل یہی ہے کہ بچوں کو محفوظ حدود میں رہتے ہوئے قدرتی ماحول کا تجربہ بھی دیا جائے تاکہ وہ جسمانی طور پر توانا، ذہنی طور پر پختہ اور عملی زندگی کے لئے بہتر انداز میں تیار ہو سکیں۔

درحقیقت مضبوط قومیں وہی ہوتی ہیں جو اپنی نئی نسل کو صرف سہولت نہیں بلکہ حالات کا مقابلہ کرنے کی تربیت بھی دیتی ہیں۔

Exit mobile version