آزاد کشمیر الیکشن کمیشن کی جانبداری؟ تحریک انصاف کی رجسٹریشن مسترد ہونے پر بیرسٹر گوہر کا شدید احتجاج

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے الیکشن کمیشن آزاد کشمیر کے روئیے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے شکایات کے انبار لگا دیے ہیں۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ ایک بار پھر منظم انداز میں امتیازی سلوک روا رکھا جا رہا ہے اور اس مرتبہ نشانہ آزاد کشمیر کی قیادت اور کارکنان کو بنایا گیا ہے۔ بیرسٹر گوہر نے تفصیلات بتاتے ہوئے واضح کیا کہ آزاد کشمیر میں رواں سال جولائی میں انتخابات شیڈول ہیں، جس کے لیے آزاد کشمیر ہائی کورٹ نے الیکشن ایکٹ 2020 کے تحت تمام سیاسی جماعتوں کو ازسرنو رجسٹریشن کرانے کی ہدایت کی تھی۔ عدالتی احکامات کی روشنی میں تحریک انصاف آزاد کشمیر نے 20 نومبر 2023 کو اپنی تمام قانونی دستاویزات الیکشن کمیشن میں جمع کروا دی تھیں۔

​ان کا مزید کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن)، جے یو آئی اور جماعت اسلامی جیسی دیگر تمام بڑی جماعتوں کی رجسٹریشن تو فوری طور پر منظور کر لی، لیکن تحریک انصاف کی درخواست کو جان بوجھ کر زیر التوا رکھا گیا۔ بیرسٹر گوہر نے افسوس کا اظہار کیا کہ تقریباً 30 ماہ کا طویل عرصہ گزارنے کے بعد اب الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے ایک پریس ریلیز کے ذریعے پی ٹی آئی کی رجسٹریشن کو بلاجواز مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن پر سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام کا واحد مقصد تحریک انصاف کو انتخابی عمل سے باہر رکھنا اور اسے دیگر جماعتوں کے مقابلے میں مساوی مواقع فراہم کرنے سے انکار کرنا ہے، جو سراسر ناانصافی اور جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے۔

Exit mobile version