فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے باضابطہ طور پر تصدیق کر دی ہے کہ اس کے عسکری ونگ ‘القسام بریگیڈز’ کے سربراہ عزالدین الحداد (جنہیں ابو صہیب بھی کہا جاتا تھا) جمعہ کی شام غزہ میں ایک سفاکانہ اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں جامِ شہادت نوش کر گئے ہیں۔ حماس کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، اس بزدلانہ حملے میں کمانڈر عزالدین الحداد کے ساتھ ساتھ ان کی اہلیہ، بیٹی اور دیگر کئی بے گناہ فلسطینی شہری بھی شہید ہوئے ہیں۔ حماس نے اپنے کمانڈر کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی آزادیِ قدس کی مزاحمت، جدوجہد اور فلسطینی عوام کے دفاع کے لیے وقف کر رکھی تھی۔
دوسری جانب، اسرائیلی حکومت نے اس ٹارگٹڈ حملے کی ذمہ داری کھل کر قبول کر لی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے خود فوج کو کمانڈر عزالدین الحداد کو ہدف بنانے کا حکم دیا تھا۔ اسرائیلی حکام نے دعویٰ کیا کہ ابو صہیب مبینہ طور پر اسرائیلی فوجیوں اور شہریوں پر حملوں، اغوا اور یرغمالیوں کو حراست میں رکھنے کے ذمہ دار تھے، اور یہ کارروائی تمام دشمنوں کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ اسرائیل جلد یا بدیر ان تک پہنچ جائے گا۔
حماس نے اسرائیلی قیادت کے ان دعوؤں اور کارروائیوں کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ حماس کا کہنا ہے کہ غزہ میں جاری حالیہ جنگ بندی معاہدے کے باوجود اس قسم کی فضائی کارروائیاں اور ٹارگٹ کلنگ اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ صیہونی ریاست کسی بین الاقوامی قانون یا معاہدے کا احترام نہیں کرتی۔ فلسطینی قیادت نے عزم کا اظہار کیا ہے کہ کمانڈر عزالدین الحداد اور ان کے معصوم اہل خانہ کا خون رائیگاں نہیں جائے گا اور اسرائیل طاقت کے بل بوتے پر فلسطینیوں کے جذبہِ آزادی کو کبھی دبا نہیں سکتا۔
