اردو صحافت کا درخشندہ ستارہ غروب؛ ‘اردو ڈائجسٹ’ کے بانی اور مایہ ناز دانشور الطاف حسن قریشی انتقال کر گئے، نمازِ جنازہ کل جامعہ اشرفیہ میں ہو گی

پاکستان کے ممتاز و سینیئر صحافی، مایہ ناز دانشور اور مایا ناز جریدے ‘اردو ڈائجسٹ’ کے بانی الطاف حسن قریشی طویل علالت کے بعد خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ مرحوم کے بیٹے کامران الطاف کے مطابق ان کی نمازِ جنازہ کل بعد نمازِ ظہر جامعہ اشرفیہ لاہور میں ادا کی جائے گی، جس میں ملک بھر سے صحافتی، سیاسی، سماجی اور مذہبی شخصیات کی شرکت متوقع ہے۔ ان کے انتقال کی خبر پھیلتے ہی ملک بھر کے صحافتی اور عوامی حلقوں میں سوگ کی لہر دوڑ گئی ہے اور اسے ملکی تاریخ کا ایک بڑا فکری و تعلیمی نقصان قرار دیا جا رہا ہے۔

الطاف حسن قریشی کی رحلت پر تعزیت کا سلسلہ جاری ہے؛ وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کے لیے دعائے مغفرت اور اہل خانہ کے لیے صبر کی دعا کی ہے۔ وزیرِ اعظم نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ الطاف حسن قریشی کے انتقال سے پاکستانی صحافت کے شعبے میں ایک ایسا گہرا خلا پیدا ہو گیا ہے جو شاید ہی کبھی پُر ہو سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مرحوم نے ہمیشہ ملکی مفاد اور مثبت اقدار کو اپنی تحریروں کا محور بنائے رکھا اور ان کا کام آنے والی نسلوں کی رہنمائی کرتا رہے گا۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے بھی الطاف حسن قریشی کی وفات پر دلی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج صحافت، فکر و دانش اور قومی مکالمے کے میدان میں ایک روشن مینار بجھ گیا ہے۔ انہوں نے اپنی فکری بصیرت اور مضبوط نظریاتی مؤقف کے ذریعے صحافت کو نئی بلندیوں اور جہتوں سے روشناس کروایا۔ احسن اقبال کا کہنا تھا کہ الطاف حسن قریشی نے زندگی بھر دیانتدارانہ اور باوقار صحافت کو فروغ دیا، اور ان کا بے داغ کردار نوجوان صحافیوں کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ رہے گا۔

سابق امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے بھی ان کے انتقال کو ملکی تاریخ کا بڑا المیہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ الطاف حسن قریشی نے صحافت، فکر اور قومی شعور کی بیداری میں گراں قدر اور ناقابلِ فراموش خدمات انجام دیں۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم نے ہمیشہ قلم کا حق ادا کیا اور اپنے نظریات پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ ملک کے تمام صحافتی وفود نے الطاف حسن قریشی کی مغفرت اور درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعائیں کی ہیں۔

Exit mobile version