اکتوبر 28, 2026

منشیات فروشی میں ملوث انمول عرف پنکی کی تحقیقاتی رپورٹ: ماڈلنگ کے شوق سے جرائم کی دنیا تک کا سفر

منشیات فروشی کے کیس میں گرفتار ملزمہ انمول عرف پنکی کی مکمل تحقیقاتی رپورٹ سامنے آ گئی ہے جس میں ملزمہ نے اپنے جرائم کے نیٹ ورک کے حوالے سے سنسنی خیز انکشافات کیے ہیں۔ انمول نے بتایا کہ اس نے ابتدائی تعلیم کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ سے حاصل کی اور ماڈلنگ و اداکاری کے شوق میں 2006 میں لاہور منتقل ہوئی۔ فلم ڈائریکٹرز کے دفاتر کے چکر کاٹنے کے دوران اس کی ملاقات ایک سابق پولیس افسر سے ہوئی جس نے اس سے شادی کی اور اسے اپنے منشیات فروش گینگ کا حصہ بنا دیا۔ ملزمہ نے بتایا کہ اس نے ایک گروپ ممبر کے کہنے پر شوہر سے طلاق لی اور علیحدگی کے بعد اپنا آزادانہ کام شروع کر دیا، جس میں اسے ایک افریقی باشندے کی مدد بھی حاصل تھی جو پاکستان میں کوکین اسمگل کرتا تھا۔

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق انمول عرف پنکی نے کراچی کے لیے سات رائیڈرز پر مشتمل ایک نیٹ ورک بنا رکھا تھا اور وہ خود کراچی کی انچارج کے طور پر کام کرتی رہی۔ ملزمہ نے انکشاف کیا کہ وہ بریف کیس میں منشیات رکھ کر سپلائی کرتی تھی اور اس مقصد کے لیے اس نے ایک دوسرے شخص کے نام پر بینک اکاؤنٹ بھی کھول رکھا تھا۔ دوسری جانب پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمہ کا میڈیکل معائنہ تو کیا گیا ہے لیکن تاحال ڈرگ ٹیسٹ کے لیے خون یا بالوں کے نمونے نہیں لیے گئے جس کی وجہ سے اس کے اپنے نشہ کرنے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

رپورٹ میں پولیس کی سابقہ کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ انکشاف ہوا ہے کہ 2020 اور 2022 کے مقدمات میں ناقص تفتیش کی گئی اور اس وقت کے تفتیشی افسر نزاکت نے نہ صرف پنکی کو گرفتار نہیں کیا بلکہ اسے اشتہاری بھی قرار نہیں دیا، جس کے باعث دیگر ملزمان کو فائدہ پہنچا۔ پنکی کے بھائی ریاض سے برآمد ہونے والی منشیات کا فرانزک بھی نہیں کروایا گیا تھا۔ اب لیگل افسران کی رائے کی روشنی میں ان تمام پرانے مقدمات کی دوبارہ تفتیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ ملزمہ کے نیٹ ورک کو مکمل طور پر بے نقاب کیا جا سکے۔