ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دیں گے، یورینیم حاصل کریں گے اور دوبارہ حملے بھی ہو سکتے ہیں: صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت وارننگ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے انتہائی سخت اور جارحانہ موقف اختیار کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ وہ ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ٹروتھ سوشل’ پر جاری کردہ اپنے ایک تفصیلی اور تند و تیز بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران کا یورینیم حاصل کرے گا اور اگر ضرورت پڑی تو ایران پر دوبارہ حملے بھی کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایران گزشتہ 47 سالوں سے امریکا اور پوری دنیا کے ساتھ تاخیری حربوں کا کھیل کھیل رہا ہے اور عالمی برادری کو مسلسل الجھائے ہوئے ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں سابق صدور کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایران نے سب سے بڑی کامیابی اس وقت حاصل کی جب بارک اوباما صدر بنے، جو نہ صرف ایران کے لیے نرم گوشہ رکھتے تھے بلکہ ان کے حق میں بھی چلے گئے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اوباما نے ایران کو دوبارہ طاقت اور استحکام حاصل کرنے کا سنہری موقع فراہم کیا اور ان کے دور میں سینکڑوں ارب ڈالر سمیت 1.7 ارب ڈالر کی نقد رقم جہازوں کے ذریعے تہران بھیجی گئی۔ ٹرمپ کے مطابق یہ رقم اتنی بڑی تھی کہ خود ایرانی بھی اسے دیکھ کر حیران رہ گئے تھے اور انہیں سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اس کا کیا کریں۔ انہوں نے اوباما کو ایک کمزور اور نادان صدر قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ امریکی لیڈر کے طور پر ایک تباہی تھے، تاہم موجودہ صدر جو بائیڈن ان سے بھی زیادہ برے ثابت ہوئے۔

صدر ٹرمپ نے ایران کے اندرونی حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے مزید الزام لگایا کہ ایرانی حکومت نے حال ہی میں 42 ہزار بے گناہ اور غیر مسلح مظاہرین کو ہلاک کیا ہے۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ایران کو اب مزید انتظار کروانے یا دنیا کو دھوکا دینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا، جس میں ان کے یورینیم کے ذخائر پر قبضہ یا دوبارہ فوجی کارروائی جیسے سخت ترین آپشنز بھی شامل ہو سکتے ہیں۔

Exit mobile version