ایران کا ‘تحمل کی پالیسی’ ختم کرنے کا اعلان: ‘امریکی بحری جہازوں اور اڈوں پر شدید حملوں کے لیے تیار ہیں’

ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے امریکہ کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ایران نے اب باقاعدہ طور پر اپنی ’تحمل کی پالیسی‘ ختم کر دی ہے۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ اگر ایرانی بحری جہازوں کے خلاف کوئی بھی کارروائی کی گئی تو اس کا جواب امریکی بحری جہازوں اور خطے میں موجود ان کے فوجی اڈوں پر فیصلہ کن اور شدید حملوں کی صورت میں دیا جائے گا۔

ابراہیم رضائی نے اپنے بیان میں امریکی حکام کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی افواج کے لیے وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "امریکی افواج کے اپنے مفاد میں یہی ہے کہ وہ مزید حماقتوں سے گریز کریں اور اس دلدل میں مزید نہ پھنسیں جو انہوں نے خود اپنے لیے پیدا کی ہے”۔

ترجمان نے امریکی انتظامیہ کو مشورہ دیا کہ ان کے لیے اب بہترین راستہ صرف ‘ہتھیار ڈالنا’ ہی بچا ہے، کیونکہ امریکہ کو خطے میں ابھرنے والے نئے نظام اور بدلتی ہوئی حقیقتوں کو تسلیم کرنا ہوگا۔ اس بیان نے خطے میں پہلے سے موجود شدید کشیدگی کو ایک نئے اور خطرناک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے، جہاں کسی بھی چھوٹی سی جھڑپ کے بڑے تنازع میں بدلنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

Exit mobile version