تحریر : بنت شبیر احمد قریشی
ہمارا معاشرہ عجیب معیار بنا چکا ہے۔
جس مرد کے ہاتھ میں پیسہ ہو، جو اچھا کماتا ہو، لوگ اُسے کامیاب کہہ دیتے ہیں۔
جو اونچی آواز میں بولے، اُسے طاقتور سمجھ لیا جاتا ہے۔
اور جو گھر پر اپنی مرضی چلائے، اسے “اصل مرد” کہا جانے لگتا ہے۔
حالانکہ سچ یہ ہے کہ
مردانگی نہ دولت کا نام ہے،
نہ غصے کا، نہ ہی سخت لہجے کا
اگر صرف کمانا ہی مرد ہونے کی نشانی ہوتی ہے
تو عورتیں بھی کماتی ہیں،
خواجہ سرا بھی تو کماتے ہیں،
اور دنیا میں بے شمار لوگ رزق حاصل کرتے ہیں۔
مگر “مرد” صرف وہ نہیں جو پیسہ کمائے…
"مرد وہ ہے جو اعتماد کمائے”، اپنے لہجے میں نرمی رکھے،
اصل مرد وہ ہے
جو عورت پر اختیار نہیں، احترام رکھتا ہو۔
جو بچوں پر خوف نہیں، محبت چھوڑے۔
جو غصے میں بھی اپنے لفظوں کی حد کو پہچانتا ہو۔
جو کمزور پر طاقت آزمانے کے بجائے ، اس کی ڈھال بن جائے۔
مرد وہ نہیں
جو ہر بات پر اپنی انا بلند کرے، بلکہ مرد وہ ہے
جو رشتوں کو بچانے کے لیے
اپنی انا کو چھوٹا کر لے۔
آج بہت سے "مرد چہرے” لوگ مل جاتے ہیں،
مگر کردار والے مرد کم نظر آتے ہیں۔
کیونکہ مرد بننا جسم کا نہیں،
ضمیر کا سفر ہے۔
اور یاد رکھو…
سب سے زیادہ خوبصورت وہ مرد ہوتا ہے
جس کے لہجے میں عزت،
دل میں رحم، اور کردار میں وفا ہو۔
