تحریر: محمد انور بھٹی
بندن میاں اُس دن ریلوے کالونی کی شکستہ سڑک پر آہستہ آہستہ چل رہے تھے گرمی ایسی تھی کہ سورج بھی شاید حکومت کے کسی محکمے میں نوکری کر رہا تھا اور اپنی پوری حاضری لگا رہا تھا ہوا میں گرد تھی اور چہروں پر وہی پرانی تھکن جو اس ملک کے ریٹائرڈ ملازمین کے نصیب میں لکھ دی گئی ہے سامنے ایک بوڑھا پنشنر ہاتھ میں پرانی فائل دبائے بجلی کے بل کو اس طرح دیکھ رہا تھا جیسے کوئی ڈاکٹر مریض کو آخری رپورٹ سناتا ہے بندن میاں اُس کے قریب جا کر بیٹھ گئے اور بولے بابا خیریت ہے بوڑھے نے لمبی سانس لے کر کہا بیٹا خیریت اب صرف اخبارات کے اشتہاروں میں رہ گئی ہے ہمارے حصے میں تو صرف بل آئے ہیں کبھی بجلی کا کبھی گیس کا کبھی دوائی کا اور کبھی زندگی کا بندن میاں نے داڑھی پر ہاتھ پھیرا اور آسمان کی طرف دیکھا پھر ہنس کر بولے لگتا ہے حکومت نے عوام کو زندہ رکھنے کے لیے نہیں بلکہ برداشت کی مشق کروانے کے لیے چھوڑ رکھا ہے۔
اسی دوران بندن میاں نے دیکھا کہ ریلوے کالونی کی مسجد کے باہر چند پنشنرز جمع تھے کوئی شوگر کا مریض تھا کوئی دل کا کوئی گھٹنوں کے اور کمر کے درد سے دوہرا ہوا جارہا تھا مگر سب کے چہروں پر ایک عجیب خاموشی تھی وہ خاموشی جو مسلسل ذلت سہنے کے بعد انسان کے اندر پیدا ہوجاتی ہے ایک بزرگ نے بندن میاں کو دیکھتے ہی کہا او بھئی بندن میاں تم لکھنے والے آدمی ہو ہماری بھی فریاد لکھ دو شاید کسی وزیر کسی مشیر کسی افسر یا کسی ایسے دل تک پہنچ جائے جس میں ابھی انسانیت کا ایک قطرہ باقی ہو بندن میاں نے جیب سے پرانا رجسٹر نکالا اور بولے بابا آپ بولتے جائیں آج دل کی عدالت لگاتے ہیں۔
ایک بزرگ نے کانپتی آواز میں کہا بیٹا ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے جوانی اس ملک کی خدمت میں گزار دی کوئی ریلوے کی پٹریوں پر دھوپ میں جلتا رہا کوئی ورکشاپ میں مشینوں کے شور میں اپنی سماعت کھو بیٹھا کوئی سرد راتوں میں سگنل دیتا رہا تاکہ ٹرینیں محفوظ رہیں مگر آج جب بڑھاپا آیا تو لگتا ہے ریاست نے ہمیں پرانی فائل سمجھ کر الماری میں پھینک دیا ہے بندن میاں بولے بابا آپ غلط کہہ رہے ہیں فائلوں کو تو کبھی کبھی جھاڑ پونچھ لیا جاتا ہے یہاں تو پنشنرز کو دیکھ کر یوں نظریں چرائی جاتی ہیں جیسے محلے کا کوئی مقروض سامنے آگیا ہو۔ایک اور بابا بولے بندن میاں مہنگائی اب خبر نہیں عذاب بن چکی ہے کل دوا لینے گیا تو دکاندار نے قیمت بتائی میں نے کہا بھائی دوا دے رہے ہو یا سونا اس نے کہا بابا دعا کرو ابھی سانس لینے پر ٹیکس نہیں لگا بندن میاں قہقہہ لگا کر بولے بابا ابھی حکومت کو یہ مشورہ نہ دو ورنہ کل اعلان ہوگا کہ جو شہری دن میں زیادہ سانس لے گا اُس پر اضافی سرچارج عائد ہوگا۔
وہاں موجود ایک بیوہ خاتون نے آنکھوں میں آنسو لیے کہا بیٹا میرے شوہر ریلوے میں تھے پوری زندگی ڈیوٹی کرتے رہے بچوں کو ایمانداری کا سبق دیا مگر آج ان کے مرنے کے بعد پنشن اتنی کم ہے کہ گھر کا چولہا جلانا مشکل ہوگیا ہے دوائیں خریدوں یا بچوں کے لیے آٹا لاؤں سمجھ نہیں آتا بندن میاں چند لمحے خاموش رہے پھر دھیمی آواز میں بولے اماں اس ملک میں غریب کی سب سے بڑی غلطی یہی ہے کہ وہ ایمانداری سے جیتا ہے اگر آپ کے مرحوم شوہر نے بھی کسی ٹھیکے میں ہاتھ مارا ہوتا کسی فائل میں کمیشن لیا ہوتا کسی پٹری کا لوہا بیچا ہوتا تو آج شاید آپ کے گھر میں بھی اے سی چل رہا ہوتا مگر افسوس انہوں نے حلال کی کمائی کھائی اور یہی اس ملک میں سب سے بڑا جرم بنتا جارہا ہے۔
بندن میاں نے پھر قلم اٹھایا اور لکھنا شروع کیا کہ وزیر اعظم جناب محمد شہباز شریف صاحب اپنی عوام سے بہت محبت کرتے ہیں وہ جب بھی کوئی سخت فیصلہ کرتے ہیں تو سینے پر بھاری پتھر رکھ کر کرتے ہیں اب قوم سوچتی ہے کہ حضور کے سینے پر اتنے پتھر رکھنے کے باوجود سینہ سلامت کیسے ہے شاید یہی سیاسی تربیت ہوتی ہے کیونکہ عام آدمی تو ایک بجلی کا بل دیکھ کر ہی سینہ پکڑ لیتا ہے مگر ہمارے حکمران پوری قوم پر مہنگائی گرا کر بھی مسکراتے رہتے ہیں بندن میاں بولے وزیر اعظم صاحب نے سینے پر پتھر رکھ کر وزیروں مشیروں ارکان اسمبلی سینیٹرز جج صاحبان اور اعلیٰ افسران کی تنخواہیں بڑھائیں یقیناً یہ بہت مشکل مرحلہ ہوگا کیونکہ قوم کا خزانہ بھی قوم کا ہی ہوتا ہے اور قوم بھی وہی ہوتی ہے جو ایوانوں میں بیٹھی ہوتی ہے باقی جو سڑکوں پر پھر رہی ہے وہ شاید کسی اور سیارے کی مخلوق ہے۔
ایک پنشنر نے تلخ مسکراہٹ کے ساتھ کہا،بندن میاں ذرا یہ بھی بتاؤ کیا ہماری سانسیں سستی ہیں کیا ہمارے بچوں کی بھوک آدھی بھوک ہوتی ہےکیا ہماری دوائیں کم بیماریوں کے لیے ہوتی ہیں کیا بڑھاپے کا درد ہم پر کم اترتا ہے۔بندن میاں نے گہرا سانس لیا اور دھیرے سے بولےنہیں بابا ایسا ہرگز نہیں فرق صرف اتنا ہے کہ آپ ووٹ دے کر خاموشی سے اپنے گھر لوٹ آتے ہیں اور وہ ووٹ لے کر اقتدار کے ایوانوں میں پہنچ جاتے ہیں ۔پھر ایک دن آپ پنشن کے لیے قطار میں کھڑے ہوتے ہیں اور وہ پروٹوکول کے حصار میں سفر کرتے ہیں آپ اپنی فائلوں کو بغل میں دبا کر دفتروں کے دھکے کھاتے ہیں اور اُن کے لیے دروازے خود بخود کھلتے چلے جاتے ہیں آپ بڑھاپے میں دوا کے پیسے گنتے ہیں اور وہ قوم کے نام پر مراعات کے نئے حساب لکھتے ہیں۔ایک بوڑھے ریلوے ملازم نے اپنی جیب سے پرچی نکالی اور کہا دیکھو یہ میری دوائیوں کی فہرست ہے ایک مہینے کی دوا آدھی پنشن کھا جاتی ہے باقی آدھی بجلی گیس پانی اور بچوں کی ضروریات لے جاتی ہیں آخر انسان زندہ کیسے رہے بندن میاں بولے بابا اس ملک میں زندہ رہنا اب عبادت سے کم نہیں رہا پہلے لوگ جنت پانے کے لیے صبر کرتے تھے اب صرف زندہ رہنے کے لیے صبر کرنا پڑتا ہے
بندن میاں نے بڑے دکھ سے کہا کہ ریٹائرڈ ملازمین اس قوم کا وہ طبقہ ہیں جنہوں نے اپنی جوانی ریاست کے نام کردی مگر بڑھاپا تنہائی اور محرومی کے حوالے ہوگیا کوئی عدالتوں کے چکر لگا رہا ہے کوئی پنشن کے کاغذات کے لیے دفتروں میں ذلیل ہورہا ہے کوئی بقایاجات کے انتظار میں قبر تک پہنچ گیا ہے اور افسوس یہ ہے کہ زندہ آدمی کو اس کے حق کے لیے اتنا انتظار کروایا جاتا ہے جتنا شاید قیامت کے دن حساب کے لیے بھی نہ ہو۔ایک ریلوے پنشنر غصے سے بولا بندن میاں ہمارے تین تین سال سے بقایاجات رکے ہوئے ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں بندن میاں نے سر ہلاتے ہوئے کہا بابا ریلوے میں اگر ٹرین دس منٹ لیٹ ہوجائے تو ذمہ دار ملازم کے خلاف فوری ایکشن ہوتا ہے اسے فوری سزا دی جاتی ہے۔ مگر پنشنر کی فائل تین سال ایک میز پر پڑی رہے تو دفتروں میں ایسی خاموشی ہوتی ہے جیسے سب کے کانوں میں روئی ٹھونس دی گئی ہو یہاں فائلیں اس طرح گھمائی جاتی ہیں جیسے محلے کے بچے عید پر لٹو گھماتے ہیں ایک میز سے دوسری میز دوسری سے تیسری اور آخر میں بابو چشمہ سیدھا کرکے کہتا ہے بابا ابھی فنڈ نہیں آئے بابا نے آہ بھری اور کہا مگر افسران کی گاڑیاں تو وقت پر آجاتی ہیں ۔ان کے پٹرول کے فنڈ کبھی نہیں رکتے۔ بندن میاں ہنسے اور بولے بابا یہی تو اس ملک کا اصل کمال ہے یہاں غریب کی دوا رک سکتی ہے پنشن رک سکتی ہے بچے کی فیس رک سکتی ہے مگر صاحب لوگوں کی مراعات ایسے چلتی ہیں جیسےنان اسٹاپ وی آئی پی ٹرین چلتی ہے۔ اتنے میں ایک شخص بولا بندن میاں حکومت تو کہتی ہے ملک ترقی کررہا ہے ۔
بندن میاں نے فوراً جواب دیا ہاں بابا ترقی ضرور ہورہی ہے مگر مہنگائی کی غربت کی بے حسی کی اور حکمرانوں کی آسائشوں کی عوام تو صرف تقریروں میں ترقی کرتی ہے حقیقت میں تو چولہے ٹھنڈے اور جیبیں خالی ہیں۔پھر بندن میاں نے قلم روکا اور دھیرے سے کہا وزیر اعظم صاحب پنشن کسی سرکاری فائل کا نمبر نہیں ہوتی یہ ایک سفید بالوں والے بزرگ کی عزت کی آخری چادر ہوتی ہے یہی اس کے گھر کا چولہا ہے یہی اس کی دوائی ہے یہی اس کے بچوں اور پوتوں کے لیے اس کی خاموش محبت ہے خدا کے لیے اس چادر کو اتنا چھوٹا نہ کیجیے کہ ایک عزت دار پنشنر اپنی ضروریات بھی نہ ڈھانپ سکے یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ساری زندگی ڈیوٹی کی دھوپ میں گزار دی مگر کبھی کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلایا آج جب بڑھاپا کمزور جسم اور بیماریوں کا بوجھ ان کے کندھوں پر ہے تو انہیں اپنی ہی اولاد کے سامنے ضرورت مند بننا پڑے یہ ان کے لیے صرف تکلیف نہیں بلکہ ایک زندہ شرمندگی ہے بندن میاں بولے جناب وزیر اعظم صاحب بھوک سے زیادہ انسان کو وہ لمحہ مارتا ہے جب وہ اپنی عمر بھر کی محنت کے بعد بھی اپنی دوائی یا گھر کا خرچ پورا نہ کرسکے اور خاموشی سے بچوں کی طرف دیکھنے لگے۔
بندن میاں نے پھرطنز سے کہا ہمارے حکمران جب عوام کے لیے تقریر کرتے ہیں تو یوں لگتا ہے جیسے باپ اپنے بچوں کے لیے فکر مند ہو مگر جب بجٹ آتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ یہ باپ صرف امیر بچوں سے محبت کرتا ہے غریب اولاد تو شاید سوتیلی ہےایک بیمار پنشنر نے کہا بندن میاں ڈاکٹر کی فیس ہزاروں میں ہوگئی ہے سرکاری اسپتالوں میں دوائی نہیں ملتی نجی اسپتالوں میں جانے کی جیب اجازت نہیں دیتی ہے آخر ہم جائیں تو کہاں جائیں ۔بندن میاں نے جواب دیا بابا اس ملک میں غریب کے لیے سب سے سستا علاج یہی رہ گیا ہے کہ وہ بیماری کو قسمت سمجھ کر برداشت کرتا رہے کیونکہ علاج اب صرف امیروں کے لیے رہ گیا ہے۔
بندن میاں نے حکومت سے مخاطب ہوکر لکھا کہ حضور اگر آپ نے وزیروں مشیروں ارکان اسمبلی اور اعلیٰ افسران کی تنخواہوں میں اضافہ کیا ہے تو یقیناً ان کی ضروریات بہت بڑھ گئی ہوں گی مگر کبھی اُن بوڑھے پنشنرز کا بھی خیال کرلیجیے جنہوں نے اپنی پوری زندگی ایمانداری سے خدمت کی اور اب دو وقت کی روٹی کے لیے پریشان ہیں ان کے میڈیکل الاؤنس میں اضافہ کیجیے ان کی پینشن بڑھائیے ان کے بقایاجات ادا کیجیے کیونکہ بوڑھے انسان کے پاس وقت کم ہوتا ہے فائلوں کے چکر لگانے کی طاقت نہیں ہوتی
بندن میاں نے آخر میں رجسٹر بند کیا اور بولے بابا اس ملک کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ خزانہ خالی ہے بلکہ یہ ہے کہ دل خالی ہوگئے ہیں حکمرانوں کے ایوان روشن ہیں مگر پنشنرز کے گھروں میں اندھیرے بڑھتے جارہے ہیں ایک طرف تنخواہوں اور مراعات کی بارش ہے دوسری طرف پنشنرز کی آنکھوں میں آنسو ہیں ایک طرف سرکاری دعوتیں ہیں دوسری طرف دوائی کے لیے ترستے بزرگ ہیں ایک طرف پروٹوکول کی گاڑیاں ہیں دوسری طرف بس اسٹاپ پر کھڑا وہ بوڑھا آدمی ہے جو آدھی پنشن کرائے میں دے دیتا ہے
بندن میاں کھڑے ہوئے اور بولے لکھ دو کہ پنشن خیرات نہیں ہوتی یہ اُس مزدور اُس کلرک اُس گارڈ اُس ڈرائیور اُس فٹر اُس لائن مین اور اُس سگنل مین کا حق ہوتی ہے جس نے اپنی جوانی ریاست کے حوالے کردی اگر ریاست اپنے بوڑھے ملازمین کا سہارا نہیں بن سکتی تو پھر ترقی کے سارے دعوے کھوکھلے ہیں کیونکہ کسی بھی قوم کی اصل عظمت اس کے پلوں سڑکوں اور عمارتوں سے نہیں بلکہ اس بات سے ناپی جاتی ہے کہ وہ اپنے بوڑھوں بیواؤں یتیموں اور کمزور شہریوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتی ہے
بندن میاں جاتے جاتے رک گئے پھر مسکرا کر بولے وزیر اعظم صاحب آپ واقعی بڑے حوصلے والے انسان ہیں کیونکہ اتنی مہنگائی کے بعد بھی عوام سے محبت کا دعویٰ کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں مگر حضور اب ایک آخری پتھر اور سینے پر رکھ لیجیے اور اُن ریٹائرڈ ملازمین کی پینشن میں اضافہ کردیجیے جن کے گھروں میں چولہے بجھ رہے ہیں جن کے بچے دوائی کے بغیر سو رہے ہیں جن کی بیوائیں آنسوؤں سے بجلی کے بل دیکھتی ہیں اور جن کے بقایاجات ریلوے کی فائلوں میں دفن ہوچکے ہیں شاید یہی وہ فیصلہ ہوگا جس پر واقعی قوم آپ کو دعائیں دے گی کیونکہ بھوکے آدمی کو تقریر نہیں روٹی چاہیے بیمار بوڑھے کو وعدہ نہیں دوا چاہیے اور ریٹائرڈ ملازم کو ترس نہیں اُس کا حق چاہیے۔
