ایک امریکی اخبار نے اپنی حالیہ رپورٹ میں سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے "پراجیکٹ فریڈم” کے لیے اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہ دینے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ آپریشن روکنے پر مجبور ہونا پڑا۔ رپورٹ کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو فون کر کے منانے کی بھرپور کوشش کی، تاہم ان کی یہ کوشش ناکام رہی اور سعودی عرب نے اپنے موقف پر سختی سے قائم رہنے کا فیصلہ کیا۔ اس کشیدگی کی بنیادی وجہ پراجیکٹ فریڈم کے حوالے سے سعودی عرب کو بروقت اطلاع نہ دینا بتائی جا رہی ہے، جس پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے سعودی حکام نے ریاض کے فوجی اڈے پر امریکی فوجیوں کی رسائی محدود کر دی تھی اور واضح کر دیا تھا کہ امریکی طیارے اس اڈے سے پرواز نہیں کر سکتے۔
اخبار کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب میں واقع اس امریکی اڈے پر امریکی لڑاکا طیارے، ری فیولنگ ٹینکرز اور جدید ائیر ڈیفنس سسٹمز تعینات ہیں، جو خطے میں امریکی فوجی آپریشنز کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ پراجیکٹ فریڈم کی کامیابی اور امریکی بحری جہازوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ان طیاروں کی پروازیں ناگزیر تھیں، لیکن سعودی عرب کے دو ٹوک انکار کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کے پاس اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا تھا کہ وہ امریکی فوجیوں کی اپنے ہی فوجی اڈے تک رسائی کو بحال رکھنے کی خاطر اس آپریشن کو مکمل طور پر روک دے۔ اس واقعے نے پاک و ہند کے خطے سمیت عالمی سطح پر سعودی عرب کے بڑھتے ہوئے خود مختارانہ فیصلے اور امریکہ کے ساتھ تعلقات میں پیدا ہونے والے نئے زاویوں کو نمایاں کر دیا ہے۔
