تحریر: محمد انور بھٹی
بندن میاں اُس شام ریلوے کالونی کی سنسان گلیوں سے گزرتے ہوئے سیدھے ریلوے اسٹیشن کے قریب اُس خستہ حال بینچ تک آ پہنچے جہاں وہ اکثر اپنی شامیں یادوں، تلخیوں اور زمانے کے بدلتے رویّوں کے ساتھ گزارا کرتے تھے۔ فضا میں نمی زدہ دیواروں کی اداس بُو گھلی ہوئی تھی اور زرد بلبوں کی لرزتی روشنی ایسا منظر پیش کر رہی تھی جیسے اندھیروں نے روشنی کو قید کر رکھا ہو۔ دور تک پھیلی پٹریاں خاموش پڑی تھیں مگر بندن میاں جانتے تھے کہ خاموش پٹریاں ہمیشہ اپنے اندر بہت شور دفن رکھتی ہیں۔ وہ آہستہ سے بینچ پر بیٹھے ہاتھ میں پکڑے چائے کے کپ سے اٹھتی بھاپ کو دیر تک تکتے رہے جیسے اُس دھند میں اپنے بیتے ہوئے برس تلاش کر رہے ہوں۔ قریب ہی چند ریٹائرڈ ریلوے ملازم اور چند دوست بھی خاموشی سے بیٹھے تھے۔ کسی کے ہاتھ میں سلگتی سگریٹ تھی کسی کی آنکھوں میں بجھے خوابوں کی راکھ۔ ہوا میں عجیب سی اداسی تیر رہی تھی۔ بندن میاں نے ایک گہری سانس لی اپنی دھندلائی نظریں پٹریوں پر جمائیں اور دھیرے سے بولے رفاقتوں میں پشیمانیاں تو ہوتی ہیں۔ یہ الفاظ گویا ہوا میں نہیں بلکہ ہر شخص کے دل میں اتر گئے۔ لمحہ بھر میں ایسی خاموشی چھا گئی جیسے ہر سینے میں دفن کوئی پرانا زخم جاگ اٹھا ہو۔ بندن میاں نے اپنی مخصوص تلخ مسکراہٹ کے ساتھ کہا بھائیو انسان جب دنیا میں آتا ہے تو سب سے پہلے ماں کے لمس سے جڑتا ہے پھر باپ کے سائے سے، پھر بہن بھائیوں کی محبت سے، پھر دوستوں کی رفاقت سےمگر عجیب بات یہ ہے کہ سب سے گہرے زخم بھی اُسے انہی رشتوں سے ملتے ہیں جنہیں وہ سب سے زیادہ مقدس سمجھتا ہے۔ دشمن اگر وار کرے تو انسان سنبھل جاتا ہےمگر دوست کی بے وفائی انسان کی روح تک کو زخمی کر دیتی ہے۔ایک بوڑھے ریلوے پنشنر نے سرد آہ بھرتے ہوئے کہا بندن میاں اب دوستی کہاں رہی؟ اب تو ہر شخص دوسرے کو استعمال کرنے میں لگا ہے۔ بندن میاں ہنس پڑےمگر وہ ہنسی ایسی تھی جیسے کسی سچائی کے جنازے پر ماتم ہو رہا ہو۔ بولے بابا دوستی آج بھی زندہ ہےمگر اب لوگ دوست نہیں، مفاد تلاش کرتے ہیں۔ پہلے لوگ انسانوں سے محبت کرتے تھے اب ضرورتوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ پہلے دلوں کے دروازے کھلے ہوتے تھے اب صرف موبائل کی اسکرینیں روشن ہیں۔ پہلے دوست کے دکھ اور پریشانی پر رات بھر جاگا جاتا تھااب صرف اسٹیٹس دیکھ کر افسوس لکھ دیا جاتا ہے۔
ہوا کچھ تیز ہوئی تو قریب پڑے درخت کے خشک پتے زمین پر گرنے لگے۔ بندن میاں انہیں دیکھتے رہے اور پھر گویا ہوئے یہ پتے بھی عجیب ہیں۔ جب تک درخت سے جڑے رہتے ہیں سرسبز رہتے ہیں۔ جونہی تعلق ٹوٹتا ہے سوکھ جاتے ہیں۔ انسان بھی ایسا ہی ہے۔ رشتے اگر خلوص سے جڑے ہوں تو زندگی بہار لگتی ہے اور اگر ان میں مفاد آ جائے تو انسان اندر سے خشک ہو جاتا ہے۔ ایک نوجوان نے سوال کیا مگر بندن میاں لوگ بدل کیوں جاتے ہیں؟بندن میاں نے گہری سانس لی لوگ ہمیشہ نہیں بدلتے بیٹا اکثر اُن کا اصل چہرہ سامنے آ جاتا ہے۔ ہم ہی اپنی محبت اور اعتماد کی دھند میں حقیقت دیکھ نہیں پاتے۔ انسان جب کسی پر حد سے زیادہ بھروسہ کرتا ہے تو وہ اُس کی خامیوں کو بھی خوبی سمجھنے لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹوٹنے کے بعد اُسے صرف دکھ نہیں ہوتا بلکہ حیرت بھی ہوتی ہے۔ پھر وہ شعر دہرانے لگے۔بس اس سبب سے کہ تجھ پر بہت بھروسہ تھا، گلے نہ ہوں بھی تو حیرانیاں تو ہوتی ہیں بیٹھک میں خاموشی مزید گہری ہوگئی۔ شاید ہر شخص کو اپنی زندگی کا کوئی نہ کوئی چہرہ یاد آگیا تھا۔
بندن میاں نے چائے کا آخری گھونٹ لیا اور بولے زندگی کی سب سے بڑی بدقسمتی غربت نہیں ،تنہائی نہیں، بیماری نہیں بلکہ اعتماد کا ٹوٹ جانا ہے۔ کیونکہ جب انسان کا اعتبار ٹوٹتا ہے تو وہ صرف دوسروں سے نہیں خود سے بھی ڈرنے لگتا ہے۔ پھر وہ ہر نئے تعلق کو شک کی نظر سے دیکھتا ہے۔ ہر مسکراہٹ میں دھوکہ تلاش کرتا ہے۔ ہر محبت میں مطلب ڈھونڈتا ہے۔ ایک شخص نے آہستہ سے کہا بالکل ایسے ہی جیسے اب ہر ادارے میں ہو رہا ہے۔بندن میاں فوراً سمجھ گئے۔ بولے ہاں بھائی یہی حال ہمارے معاشرے کا بھی ہے۔ یہاں حکمران عوام سے وعدے کرتے ہیں مگر نبھاتے نہیں۔ افسر ماتحتوں کو انصاف کا یقین دلاتے ہیں مگر حق مار لیتے ہیں۔ دوست وفاداری کی قسمیں کھاتے ہیں مگر وقت آنے پر پہچاننے سے انکار کر دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پورا معاشرہ عدمِ اعتماد کا شکار ہو چکا ہے۔پھر انہوں نے آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جس معاشرے میں اعتبار مر جائے وہاں محبتیں بھی دم توڑ دیتی ہیں۔
ریلوے کالونی کی ٹوٹی دیواروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بندن میاں بولے یہ دیواریں صرف اینٹوں کی نہیں یہ ہماری بے حسی کی قبریں ہیں۔ کبھی یہاں ہنسی گونجتی تھی بچوں کی آوازیں آتی تھیں لوگ ایک دوسرے کے دکھ بانٹتے تھے۔ اب ہر دروازہ بند ہے۔ ہر شخص اپنے کمرے میں قید ہے۔ کسی کو کسی کی فکر نہیں۔ پھر وہ ہنس کر بولے اب تو لوگ جنازے میں بھی اس لیے جاتے ہیں کہ کہیں کل ہمارے جنازے میں لوگ کم نہ آئیں۔ بیٹھک میں ہلکی سی تلخ مسکراہٹ پھیل گئی۔ بندن میاں نے کہا انسان جب اخلاص کھو دیتا ہے تو اُس کی عبادت بھی رسم بن جاتی ہے اُس کی محبت بھی سودا بن جاتی ہے اور اُس کی دوستی بھی کاروبار بن جاتی ہے۔
ایک نوجوان جو کافی دیر سے خاموش تھا، اچانک بولا بندن میاں پھر انسان کیا کرے؟ کسی پر اعتبار ہی نہ کرے؟ بندن میاں نے نرمی سے کہا ۔نہیں بیٹا۔ اعتبار کرنا چھوڑ دو گے تو زندگی قبرستان بن جائے گی۔ انسان کو محبت بھی کرنی چاہیے دوستی بھی نبھانی چاہیے بھروسہ بھی کرنا چاہیے۔ مگر ساتھ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ انسان فرشتہ نہیں ہوتا۔ اُس سے غلطیاں بھی ہوتی ہیں نادانیاں بھی۔ پھر انہوں نے شعر پڑھا۔رفاقتوں میں پشیمانیاں تو ہوتی ہیں، کہ دوستوں سے بھی نادانیاں تو ہوتی ہیں۔۔اور بولے۔۔اصل عظمت یہ نہیں کہ تعلق میں کبھی غلطی نہ ہواصل عظمت یہ ہے کہ غلطی کے بعد بھی خلوص باقی رہے۔
بندن میاں نے ایک پرانا واقعہ سنانا شروع کیا۔ ایک بار ایک ریلوے ملازم نے اپنے دوست پر اتنا اعتماد کیا کہ اپنی ساری جمع پونجی اُس کے حوالے کر دی۔ دوست نے وعدہ کیا کہ کاروبار کرے گا اور دونوں مل کر زندگی سنواریں گے۔ کچھ عرصے بعد وہ دوست پیسے لے کر غائب ہوگیا۔ وہ شخص ہر روز اسٹیشن پر آتا اور پٹریوں کو دیکھ کر روتا رہتا۔ میں نے پوچھااتنا غم پیسوں کا ہے؟ اُس نے کہا نہیں بندن میاں غم اس بات کا ہے کہ جسے میں نے اپنا بھائی سمجھا، وہ مجھے لوٹ کر چلا گیا۔ بندن میاں خاموش ہوگئے۔ پھر بولے انسان دولت کھو کر سنبھل جاتا ہے مگر اعتماد کھو دے تو برسوں نہیں سنبھلتا۔
ہوا میں خنکی بڑھ گئی تھی۔ دور سے کسی ٹرین کی سیٹی سنائی دی۔ بندن میاں نے مسکرا کر کہا ٹرینیں بھی عجیب سبق دیتی ہیں۔ کچھ لوگ ہماری زندگی میں چند اسٹیشنوں تک ساتھ چلتے ہیں پھر اتر جاتے ہیں۔ کچھ ہمیشہ کے لیے ساتھ رہنے کا وعدہ کرتے ہیں مگر راستے میں کہیں گم ہو جاتے ہیں۔ اور کچھ خاموشی سے ساتھ رہتے ہیں بغیر شور کے بغیر دعوؤں کے۔ اصل رفاقت وہی ہوتی ہے جسے اعلان کی ضرورت نہ ہو۔
پھر بندن میاں کا لہجہ اصلاحی ہوگیا۔ آج کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم دوسروں سے وفاداری چاہتے ہیں مگر خود وفادار نہیں بنتے۔ ہم چاہتے ہیں لوگ ہماری عزت کریں مگر ہم دوسروں کی عزت نہیں کرتے۔ ہم چاہتے ہیں ہمیں سمجھا جائے مگر ہم کسی کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ وہ بولے ہر شخص محبت مانگ رہا ہے مگر محبت دے کوئی نہیں رہا۔ ہر شخص خلوص چاہتا ہے مگر خلوص بانٹنے پر تیار نہیں۔
ایک شخص نے کہا بندن میاں آج تو سوشل میڈیا کا دور ہے۔ یہاں رشتے کہاں بچے ہیں؟بندن میاں نے قہقہہ لگایا بیٹا اب لوگ تصویر دیکھ کر محبت کرتے ہیں کردار دیکھ کر نہیں۔ اب تعلقات دل سے نہیں ڈیٹا پیکج سے چلتے ہیں۔ پہلے لوگ ایک دوسرے کے گھر جاتے تھےاب صرف پروفائل دیکھ لیتے ہیں۔ پہلے خطوں میں خلوص ہوتا تھا اب میسج میں ایموجی ہیں۔پھر وہ سنجیدہ ہوگئے مگر یاد رکھو ٹیکنالوجی کبھی محبت کا نعم البدل نہیں بن سکتی۔ انسان کو انسان کی ضرورت ہمیشہ رہے گی۔
بندن میاں نے اپنی لاٹھی زمین پر ٹکائی اور کہا یہ جو اداسیاں ہیں نا یہ صرف غربت سے نہیں آتیں۔ بہت سے امیر لوگ بھی اندر سے ویران ہوتے ہیں۔ اصل سکون دولت سے نہیں، مخلص تعلقات سے ملتا ہے۔ جس انسان کے پاس ایک سچا دوست ہووہ دنیا کا خوش نصیب ترین انسان ہے۔ پھر انہوں نے آہ بھری مگر افسوس آج لوگ دوست ڈھونڈتے نہیں مداح تلاش کرتے ہیں۔
رات مزید گہری ہوگئی تھی۔ بیٹھک میں موجود سب لوگ خاموش تھے۔ بندن میاں نے دھیرے سے کہا زندگی پریشانیوں کا دوسرا نام ہے۔ جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ ایک دن سب مسئلے ختم ہو جائیں گے وہ بہت بڑی غلط فہمی میں ہے۔ انسان جب تک زندہ ہے آزمائشیں اُس کے ساتھ رہیں گی۔ مگر اصل بات یہ ہے کہ انسان ان آزمائشوں میں اپنا کردار کتنا بچا کر رکھتا ہے۔ پھر انہوں نے شعر دہرایا اداسیوں کا سبب کیا کہیں بجز اس کے یہ زندگی ہے پریشانیاں تو ہوتی ہیں
پھر وہ بولے کچھ لوگ دکھ ملنے پر سخت ہو جاتے ہیں، اور کچھ لوگ نرم۔ جو لوگ دکھ کے باوجود دوسروں کے لیے آسانی پیدا کریں وہی اصل انسان ہیں۔ انہوں نے ایک ریلوے مزدور کی مثال دی جو اپنی معمولی تنخواہ کے باوجود ہر جمعہ غریب بچوں میں کھانا بانٹتا تھا۔ بندن میاں بولے وہ شخص امیر نہیں تھامگر اُس کا دل امیر تھا۔ یاد رکھو انسان کی اصل دولت اُس کا اخلاق ہے۔
اچانک بجلی چلی گئی۔ پورا ماحول اندھیرے میں ڈوب گیا۔ بندن میاں مسکرائے اور بولے دیکھا اندھیرا کتنی جلدی آ جاتا ہے۔ بس یہی حال انسان کے دل کا ہے۔ اگر اُس میں ایمان محبت اور خلوص کی روشنی نہ ہو تو وہ فوراً اندھیرے میں ڈوب جاتا ہے۔ پھر وہ آہستہ سے بولے مگر ایک چراغ کافی ہوتا ہے اندھیرا توڑنے کے لیے۔ تم میں سے ہر شخص اگر اپنے اندر سچائی اور محبت کا ایک چراغ روشن کر لے تو معاشرہ بدل سکتا ہے۔
کافی دیر بعد بندن میاں اٹھے۔ ان کی آنکھوں میں نمی تھی مگر لہجے میں امید۔ انہوں نے کہا یاد رکھنا رفاقتوں میں غلطیاں ہوتی رہتی ہیں۔ لوگ کبھی کبھی دل بھی دکھاتے ہیں۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم محبت کرنا چھوڑ دیں۔ اگر چند لوگ بے وفا نکل آئیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وفا دنیا سے ختم ہوگئی۔ آج بھی کہیں نہ کہیں کوئی ماں اپنے بچے کے لیے جاگ رہی ہے کوئی دوست خاموشی سے دوست کا دکھ اٹھا رہا ہےکوئی انسان بغیر مطلب کے کسی کی مدد کر رہا ہے۔ دنیا ابھی مکمل خراب نہیں ہوئی بس اچھے لوگ خاموش ہوگئے ہیں۔
پھر بندن میاں نے اپنی مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ کہا اور ہاں اگر کبھی تمہیں کوئی دھوکہ دے دے تو اُس سے نفرت ضرور کرنامگر خود دھوکے باز مت بن جانا۔ کیونکہ دوسروں کے گناہ کا بدلہ اپنا کردار خراب کرکے نہیں دیا جاتا۔انہوں نے لاٹھی سنبھالی اور چلنے لگے۔ چند قدم چل کر رکے اور پلٹ کر بولے انسان کی اصل پہچان اُس کے الفاظ نہیں اُس کا برتاؤ ہوتا ہے۔ بڑے بڑے دعوے کرنے والے اکثر چھوٹے نکل آتے ہیں اور خاموش رہنے والے کبھی کبھی پوری کائنات سے بڑے انسان ثابت ہوتے ہیں۔رات کی تاریکی میں بندن میاں دھیرے دھیرے دور جاتے رہے۔ مگر اُن کی آواز اب بھی فضا میں گونج رہی تھی رفاقتوں میں پشیمانیاں تو ہوتی ہیں اور یوں محسوس ہوتا تھا جیسے ریلوے کی خاموش پٹریاں بھی آج انسانوں کو یہی سبق دے رہی ہوں کہ تعلقات اگر خلوص، برداشت، معافی اور سچائی سے نہ جڑے ہوں تو زندگی کی تمام رفتار کے باوجود انسان اندر سے تنہا رہ جاتا ہے۔
