تحریر: قاضی محمد فضل عثمان
ایک دفعہ کا ذکر ہے ، ایک بادشاہ شکار کھیلتا کہیں دور جنگل میں جانکلا ، اپنے ساتھیوں سے بچھڑ کر اس نے ایک باغ میں تھوڑا سستانے کا ارادہ کیا ، اتنے میں بازغ کا مالک آگیا، اس نے دیکھا کہ مسافر ہے اور پیاسا ہے اس نے اپنے باغ کے مالٹوں کا رس مہمان کو پیش کیا ، مہمان نے نوش جاں کیا اور شکر بجالایا ، رس بہت میٹھا تھا ،سفر شکار ختم ہوا ، سب واپس اپنے اپنے کام پہ چلے گئے ، بادشاہ کے دل میں وہ جوس کی مٹھاس بیٹھ گئی ۔
اگلی بار پھر دانستہ پھر بادشاہ نے اسی باغ میں پناہ لی، دل میں یہ خیال کرتے ہوئے کہ اتنا اچھا باغ کیسے ٹیکس نیٹ سے باہر ہوسکتا ہے ، اس پرتو ٹیکس لگنا چاہئے یہی سوچتے ہوئے بادشاہ ایک بار پھر اسی باغ میں جا وارد ہوا ،اور اسی مالک نے بطور مہمان اس کی تواضع کی اور وہی جوس پیش کیا ، اس بار بادشاہ نے جیسے ہی منہ لگایا، جوس کا ذائقہ بہت بدمزہ اور ترش تھا ، بادشاہ نے استفسار کیا ، اس پر باغ کے سادہ لوح مالک نے عرض کی جی حضور باغ تو ویسا کا ویسا ہی ہے ، جوس کا ذائقہ بدلنے کی ایک ہی وجہ سمجھ آتی ہے کہ ہمارے بادشاہ کی نیت میں فتور آگیا ہے ۔۔
بطور تمثیل اس واقعہ کے ذکر کا صرف مقصد یہی ہے کہ ہمارے ہاں آجکل یہی سیچویشن ہے ۔
گزشتہ سال کی بنیان مرصوص کے بعد بیرونی دنیا میں پاکستان کی بلے بلے ہوچکی ہے ۔۔۔ اشرافیہ ، مقتدرہ اور حکمرانوں کا پیج اتنا سیم ہے درمیان سے ہوا کا گزر ممکن نہیں ہے ، لیکن اس کے ثمرات عوام تک نہیں پہنچ رہے
کوئی ویرانی سی ویرانی ہے
دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا
ایران ، اسرائیل اور بڑے صاحب کی جنگ کی بنیاد پر کچھ مسائل بننے سے پہلے ہی ہم نے دل پر پتھر رکھ قیمتیں اتنی بڑھالیں ، جن کی ضرورت نہ تھی ، کسان ، مزدور ، عام لوگ بمشکل اپنا گزارہ کررہے ہیں ، مہنگائی نے ہر چیز کا ستیا ناس کررکھا ہے ، نت نئے ٹیکس کی نویدیں ملتی ہیں ، کبھی کوڑا ٹیکس ، کبھی کوئی ٹیکس کبھی کوئی ٹیکس ، کبھی تجاوزات کے نام پر عوام الناس کی گیچی مروڑی جاتی ہے ، کبھی امن وامان پہ نام پر عوام کا بھرکس نکالا جاتا ہے ، کوئی مسئلہ ہو سکول بند تعلیمی نظام لپیٹ دیا جاتا ہے ، اپنے اللے تللے ویسے کے ویسے ہی ہیں ، مسجد رحمۂ اللعالمین بند ہے ، قائدین بلا جواز حبس مسلسل میں ہیں ، بغیر کسی ایف آئی آر کے ، جو گرفتار بلا ہیں ناکردہ گناہوں اور مقدموں کی بہتات ہے ۔عجب قسم کی ویرانی ہے ، دنیا کے مسائل حل کرنے کی طرف بہت توجہ ہے ، اپنے لوگ جائیں بھاڑ میں ،کوئی بات کرے تو غداری کے فتوے ہیں ، کوئی اپنا حق ما نگے تو گولیوں سے جواب دیا جاتا ہے ، سمجھ نہیں آرہا یہ سب کیا ہے ۔؟
کیا اس لئے تقدیر نے چنوائے تھے تنکے
بن جائے نشیمن تو کوئی آگ لگادے
اب عام لوگ جائیں تو کہاں جائیں ، کس کا در کھٹکھٹائیں کہ وہاں سے داد رسی کی امید ہو ۔۔سچ میں حکمرانوں کی سنگ دلی اور عوامی ترجیحات سے بے حسی اور دوری ایک بڑے انقلاب کا پیش خیمہ بن سکتی ہے ۔ حکمرانوں سے صرف ایک مطالبہ ہے کہ ہوش میں آئیں ، کم از کم عوام کو انسانیت کا درجہ تو دیں ، نہیں تو جتنے جابر حکمران جاچکے ہیں ، ان کا انجام دیکھ کر عبرت پکڑیں ۔۔
سب یہیں پڑا رہ جائے گا بس نام رہے گا اللہ کا ۔۔
