قلم پر پہرے، سچ کی صدا: وقت کا تقاضا

تحریر: ڈاکٹر تصور حسین مرزا

ہر سال 3 مئی کو دنیا بھر میں یومِ آزادیٔ صحافت منایا جاتا ہے۔ بظاہر یہ دن صحافیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا ہے، مگر حقیقت میں یہ احتساب کا دن بھی ہے—ریاست کا بھی، معاشرے کا بھی اور خود صحافت کا بھی۔ ہمارے ہاں بدقسمتی سے یہ دن اکثر رسمی بیانات، تصویری تقاریب اور روایتی دعوؤں تک محدود رہ جاتا ہے، جبکہ زمینی حقائق اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور سنجیدہ ہیں۔

صحافت کو ریاست کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے، مگر ستون کی مضبوطی کا اندازہ اسی وقت ہوتا ہے جب اس پر دباؤ ڈالا جائے۔ آج کی صحافت اسی دباؤ کی کیفیت سے گزر رہی ہے۔ کہیں قانونی دائرہ کار کی سختیاں ہیں، کہیں ادارہ جاتی حدود، اور کہیں معاشی مسائل۔ یہ تمام عوامل مل کر ایک ایسا ماحول پیدا کرتے ہیں جہاں سچ کہنا مشکل ضرور ہو جاتا ہے، مگر ناممکن نہیں۔

پاکستان جیسے معاشرے میں صحافت کا کردار نہایت حساس ہے۔ یہاں ایک خبر صرف اطلاع نہیں ہوتی بلکہ رائے عامہ کی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اسی لیے صحافی پر ذمہ داری دوگنی ہو جاتی ہے کہ وہ نہ صرف درست خبر دے بلکہ اس کا انداز بھی ایسا ہو جو معاشرے میں توازن پیدا کرے، نہ کہ انتشار۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ میڈیا کو درپیش مسائل صرف بیرونی نہیں بلکہ اندرونی بھی ہیں۔ سنسنی خیزی، غیر مصدقہ معلومات کی تیزی سے ترسیل، اور ریٹنگ کی دوڑ نے صحافت کے معیار کو متاثر کیا ہے۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں خبر کی رفتار تو بڑھ گئی ہے، مگر بعض اوقات اس کی صداقت متاثر ہو جاتی ہے۔ ایسے میں ایک ذمہ دار صحافی کے لیے ضروری ہے کہ وہ تحقیق، تصدیق اور توازن کو مقدم رکھے۔

ریاستی اداروں اور میڈیا کے درمیان ایک متوازن تعلق وقت کی اہم ضرورت ہے۔ تنقید کو اگر اصلاح کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ نظام کو مضبوط کرتی ہے، کمزور نہیں۔ اسی طرح صحافیوں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ حدود کا خیال رکھتے ہوئے رپورٹنگ کریں، تاکہ اعتماد کا رشتہ قائم رہ سکے۔

اسلامی تعلیمات اس حوالے سے واضح رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔ قرآنِ مجید میں ارشاد ہے:
"اور جب بات کہو تو انصاف کی کہو” (الانعام: 152)۔
یہ اصول صحافت کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اسی طرح یہ بھی حکم دیا گیا کہ خبر کو تحقیق کے بعد ہی آگے بڑھایا جائے۔ اس تعلیم کا تقاضا ہے کہ صحافی ہر اطلاع کو پرکھے، اس کی تصدیق کرے اور پھر ذمہ داری کے ساتھ عوام تک پہنچائے۔

حضور نبی کریم ﷺ کی تعلیمات بھی اسی اعتدال کی طرف رہنمائی کرتی ہیں کہ انسان وہی بات کہے جو درست ہو اور معاشرے کے لیے مفید ہو۔ اس تناظر میں صحافت ایک امانت ہے، جسے دیانت اور ذمہ داری کے ساتھ نبھانا ضروری ہے۔

آج کے حالات میں یہ بات بھی اہم ہے کہ صحافت کو نہ تو غیر ضروری دباؤ کا شکار بنایا جائے اور نہ ہی اسے غیر ذمہ دارانہ آزادی دی جائے۔ اصل ضرورت ایک ایسے متوازن نظام کی ہے جہاں قانون، اخلاق اور پیشہ ورانہ اصول ایک ساتھ چلیں۔

حکومت اور متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ صحافیوں کے تحفظ اور ان کے پیشہ ورانہ حقوق کو یقینی بنائیں، جبکہ میڈیا اداروں کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے معیاری اور تحقیق پر مبنی صحافت کو فروغ دینا چاہیے۔ اسی طرح عوام کا کردار بھی اہم ہے کہ وہ ذمہ دار صحافت کی حوصلہ افزائی کریں اور غیر مصدقہ اطلاعات سے گریز کریں۔

یومِ صحافت ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ سچ کو دبایا جا سکتا ہے مگر ختم نہیں کیا جا سکتا۔ ایک ذمہ دار قلم وقتی دباؤ کے باوجود اپنا راستہ تلاش کر لیتا ہے۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ اعتدال، سچائی اور دیانت ہی وہ اصول ہیں جو کسی بھی معاشرے کو استحکام دیتے ہیں۔

آخر میں بات سادہ ہے: صحافت اگر ذمہ داری، دیانت اور توازن کے ساتھ کی جائے تو یہ معاشرے کی اصلاح کا بہترین ذریعہ بن سکتی ہے۔ اور اگر یہی اصول نظرانداز ہو جائیں تو یہی قوت کمزوری میں بدل سکتی ہے۔ اس لیے وقت کا تقاضا ہے کہ ہم سب—ریاست، میڈیا اور عوام—مل کر ایک ایسی صحافت کو فروغ دیں جو سچ پر مبنی ہو، قانون کے دائرے میں ہو اور ملک و قوم کی بہتری کا ذریعہ بنے۔

Exit mobile version