اسلام آباد: ترجمان پاور ڈویژن نے ملک میں بجلی کی صورتحال پر تفصیلی بیان جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ایل این جی کی عدم دستیابی کے باعث 5 ہزار میگاواٹ کی پیداواری صلاحیت رکھنے والے پاور پلانٹس اس وقت بجلی پیدا کرنے سے قاصر ہیں۔ تاہم، 27 اپریل کی رات پیک اوقات میں تربیلا ڈیم سے پانی کے اخراج میں اضافے کی وجہ سے پن بجلی (ہائیڈل) کی پیداوار 6 ہزار میگاواٹ تک پہنچ گئی، جبکہ ملک کی کل پن بجلی کی استعداد 11500 میگاواٹ ہے۔
ترجمان کے مطابق، مقامی گیس کی فراہمی سے کچھ پاور پلانٹس کی کارکردگی بہتر ہوئی ہے جس سے سسٹم میں 100 میگاواٹ کا اضافہ ہوا، جبکہ ملک کے جنوبی حصوں سے 500 میگاواٹ بجلی کی ترسیل ممکن بنائی گئی۔ پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے پیک اوقات میں صرف ایک سے دو گھنٹے کی لوڈ مینجمنٹ کی ہے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ زیادہ نقصانات والے فیڈرز پر ‘اکنامک مینجمنٹ پالیسی’ کے تحت بجلی بند کی جا رہی ہے، جس کا پیک آورز کی لوڈ شیڈنگ سے کوئی تعلق نہیں۔ امید ظاہر کی گئی ہے کہ ایل این جی کی فراہمی اور پانی کے اخراج میں مزید اضافے سے رات کے اوقات کا شارٹ فال جلد ختم ہو جائے گا۔
