ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان کا ایک انتہائی مختصر اور اہم دورہ کیا ہے، جس کے دوران انہوں نے 24 گھنٹوں کے اندر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے دوسری ملاقات کی۔ عباس عراقچی آج شام مسقط سے اسلام آباد پہنچے، اس سے قبل وہ جمعہ کی رات بھی اسلام آباد آئے تھے جہاں انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقاتیں کی تھیں۔ ان ملاقاتوں کے بعد وہ مسقط روانہ ہوئے اور پھر دوبارہ آج پاکستان پہنچ کر عسکری حکام سے اہم مشاورت کی۔
ایرانی خبر ایجنسی کے مطابق اس مختصر دورے میں عباس عراقچی نے خطے میں امن کے قیام کے لیے ایرانی شرائط پاکستان کے سامنے پیش کیں، جن میں آبنائے ہرمز کے نئے ضابطے، معاشی ناکہ بندی کے خاتمے، جنگی معاوضے اور عدم جارحیت جیسے کلیدی نکات شامل ہیں۔ ایرانی حکام نے واضح کیا کہ ان مذاکرات کا ایٹمی معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ پاکستان کے سیاسی اور عسکری حکام سے ملاقاتوں کے بعد ایرانی وزیر خارجہ اسلام آباد سے ماسکو روانہ ہو گئے ہیں، جہاں پیر کے روز ان کی صدر پیوٹن سے اہم ملاقات متوقع ہے۔ ماسکو میں ایرانی سفیر کا کہنا ہے کہ عباس عراقچی صدر پیوٹن کو جنگ بندی کی صورتحال، مذاکرات کی تفصیلات اور جنگ کے خاتمے سے متعلق تجاویز سے آگاہ کریں گے۔
