اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے دفاعی تعاون میں تاریخی پیش رفت: امارات میں ’آئرن ڈوم‘ کی تعیناتی کا انکشاف

امریکی نیوز ویب سائٹ ‘ایگزیوس’ نے ایک سنسنی خیز دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے ابتدائی مرحلے میں اسرائیل نے اپنا جدید ترین فضائی دفاعی نظام ’آئرن ڈوم‘ متحدہ عرب امارات کو فراہم کر دیا تھا۔ اسرائیلی حکام کے مطابق، وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اماراتی صدر محمد بن زاید النہیان کے ساتھ ٹیلیفونک رابطے کے بعد اسرائیلی فوج کو فوری طور پر یہ نظام، متعدد انٹرسیپٹر میزائل اور درجنوں فوجی اہلکار امارات بھیجنے کی ہدایت جاری کی تھی۔ یہ تاریخ میں پہلا موقع تھا کہ اسرائیل نے اپنا یہ حساس دفاعی نظام کسی دوسرے ملک کو فراہم کیا، جس کے بعد امارات، امریکہ اور اسرائیل کے علاوہ دنیا کا وہ پہلا ملک بن گیا جہاں یہ ٹیکنالوجی نصب کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق، جنگ کے دوران دونوں ممالک کے درمیان فوجی، سکیورٹی اور انٹیلی جنس تعاون غیر معمولی سطح تک پہنچ چکا تھا۔ ایک سینئر اسرائیلی عہدیدار نے تصدیق کی کہ امارات میں نصب اس فضائی دفاعی نظام نے درجنوں ایرانی میزائل حملوں کو کامیابی سے ناکام بنایا۔ مزید برآں، اسرائیلی فضائیہ نے جنوبی ایران میں نصب کم فاصلے تک مار کرنے والے ان میزائلوں کو بھی نشانہ بنایا جو متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک کے لیے خطرہ بن سکتے تھے۔ یہ انکشاف خطے کی بدلتی ہوئی دفاعی صورتحال اور اسرائیل و امارات کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی شراکت داری کی عکاسی کرتا ہے۔

Exit mobile version