اسرائیلی میڈیا کے مطابق حکومت نے صومالی لینڈ کے ساتھ سفارتی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے وہاں اپنے پہلے سفیر کی تقرری کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔ یہ اقدام ان تعلقات کو وسعت دینے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے جو گزشتہ برس دونوں کے درمیان قائم ہوئے تھے۔ اسرائیل نے اس اہم منصب کے لیے مائیکل لوٹم کا انتخاب کیا ہے، جو تجربہ کار سفارت کار ہیں اور اس سے قبل کینیا، آذربائیجان اور قازقستان میں بطور سفیر خدمات انجام دے چکے ہیں، جبکہ فی الوقت وہ افریقہ کے لیے اقتصادی نمائندے کے طور پر کام کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ دسمبر 2025 میں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے صومالی لینڈ کو ایک آزاد اور خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا، جسے تمام مسلم ممالک نے یکسر مسترد کرتے ہوئے شدید تشویش کا اظہار کیا تھا۔ صومالی لینڈ نے 1991 کی خانہ جنگی کے دوران صومالیہ سے علیحدگی اختیار کی تھی اور وہ عملی طور پر خود مختار ہونے کے باوجود اب تک عالمی تنہائی کا شکار تھا، کیونکہ اسرائیل کے سوا دنیا کے کسی بھی ملک نے اسے باضابطہ ریاست تسلیم نہیں کیا اور عالمی سطح پر اسے اب بھی صومالیہ کا ہی ایک انتظامی خطہ تصور کیا جاتا ہے۔
