عالمی سیاست کا بدلتا توازن بیانات، تضادات اور طاقت کا ابہام

تحریر: محمد انور بھٹی

دنیا کی سیاست بھی کسی پرانے ریلوے اسٹیشن کی طرح ہو چکی ہے جہاں ٹرینیں آتی کم ہیں، اعلانات زیادہ ہوتے ہیں اور مسافر ہر روز کسی نئے دھوکے کے ساتھ پلیٹ فارم پر کھڑے رہتے ہیں۔ کہیں جنگ کے سائرن ہیں، کہیں مذاکرات کی سرگوشیاں اور کہیں ایسے بیانات جو صبح کچھ اور ہوتے ہیں اور شام تک ان کی قبر خود انہی دینے والوں کے ہاتھوں تیار ہو چکی ہوتی ہے۔
بندن میاں کہتا ہے کہ آج کی عالمی سیاست میں سچ ایک مہمان کی طرح ہے جو صرف تصویروں میں نظر آتا ہے اور حقیقت ایک ایسے تماشے کی شکل اختیار کر چکی ہے جہاں ہر کردار اپنی لائن بھول کر کبھی اسکرپٹ پڑھتا ہے اور کبھی اسکرپٹ پھاڑ دیتا ہے۔ایران اور امریکہ کا موجودہ معاملہ بھی اسی سیاسی تھیٹر کا ایک ایسا ایکٹ ہے جس میں نہ پردہ گرتا ہے اور نہ ہی منظر ختم ہوتا ہے۔ سمندر کی ناکہ بندی، یورینیم، مذاکرات، دھمکیاں، تردیدیں، اور پھر اچانک یوٹرن یہ سب ایک ایسی فلم کے سین لگتے ہیں جس کا ڈائریکٹر بھی کنفیوز ہے کہ اصل کہانی ہے کیا۔ایر ان کا مؤقف واضح ہے کہ جب تک سمندری ناکہ بندی ختم نہیں ہوتی مذاکرات صرف لفظوں کا کھیل ہیں۔ یہ وہ بات ہے جو کسی بھی خودمختار ریاست کی زبان میں ایک اصولی مؤقف کہلاتی ہے۔ لیکن دوسری طرف عالمی طاقت کا انداز دیکھیں تو کبھی کہا جاتا ہے کہ اب تحمل کی کوئی گنجائش نہیں اور اگلے ہی لمحے اسی تحمل کو خارجہ پالیسی کا مرکزی ستون بنا دیا جاتا ہے۔یہ تضاد محض اتفاق نہیں ہوتا بندن میاں کہتا ہے کہ یہ جدید سفارت کاری کا وہ انداز ہے جس میں الفاظ کو تلوار اور تلوار کو الفاظ بنا دیا جاتا ہے اور عوام کو صرف خبرنامے کے ٹکڑے دکھائی دیتے ہیں پوری تصویر نہیں۔صدر ٹرمپ کے بیانات کا معاملہ تو جیسے ایک الگ ہی سیاسی ریڈیو اسٹیشن ہے جس کی فریکوئنسی ہر گھنٹے بعد بدلتی رہتی ہے۔ ایک دن سخت اعلان کہ اگر ایران نہ مانا تو نقشہ بدل دیا جائے گا دوسرے دن مذاکرات کی نئی تاریخ، تیسرے دن کسی بحری جہاز کی گرفتاری کا دعویٰ اور پھر چند گھنٹوں بعد اسی خبر کی مکمل تردید۔
بندن میاں مسکراتے ہوئے کہتا ہے کہ یہ وہ سیاست ہے جہاں یوٹرن لینا غلط نہیں سمجھا جاتا بلکہ بعض اوقات اسے “اسٹریٹجک موو” کا نام دے کر عزت بچا لی جاتی ہے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ سب محض غیر ذمہ داری ہے یا اس کے پیچھے کوئی بڑی حکمت عملی چھپی ہے۔
دنیا کے بڑے تجزیہ کار اس بات پر متفق ہیں کہ عالمی طاقتیں کبھی بھی صرف ایک سیدھی لکیر میں نہیں چلتیں۔ ان کے بیانات اکثر تین سطحوں پر ہوتے ہیں۔ ایک عوام کے لیے، ایک اتحادیوں کے لیے اور ایک مخالفین کے لیے۔ اور ان تینوں کے درمیان جو خلا ہوتا ہے وہی اصل سفارتکاری کا میدان ہوتا ہے۔لیکن بندن میاں کہتا ہے کہ مسئلہ یہ ہے کہ جب بیانات کی رفتار حقیقت سے زیادہ تیز ہو جائے تو پھر سچ پیچھے رہ جاتا ہے اور تاثر آگے نکل جاتا ہے۔ اور آج دنیا میں اصل طاقت سچ نہیں بلکہ تاثر بن چکا ہے۔ایران کی طرف سے مسلسل تردیدیں بھی اسی کھیل کا حصہ ہیں۔ وہ ہر بیان کو فوراً رد کر کے یہ پیغام دیتا ہے کہ وہ دباؤ میں نہیں آ رہا۔ دوسری طرف امریکہ مختلف بیانات دے کر یہ ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ تمام آپشنز میز پر موجود ہیں۔لیکن اصل سوال یہ ہے کہ جب سب کچھ میز پر ہے تو پھر میز پر رکھنے والا خود کیوں الجھا ہوا دکھائی دیتا ہے۔
یہاں بندن میاں ایک پرانی مثال دیتا ہے۔ کہتا ہے کہ یہ بالکل ایسے ہے جیسے کوئی مسافر ایک ہاتھ سے سیٹی بجا رہا ہو اور دوسرے ہاتھ سے ٹرین روکنے کی کوشش کر رہا ہو اور پھر حیران ہو کہ ٹرین اپنی سمت کیوں نہیں بدل رہی۔اب بات آتی ہے مغربی دنیا کے اندرونی اختلافات کی۔ حقیقت یہ ہے کہ آج صرف ایران اور امریکہ ہی نہیں بلکہ خود مغربی اتحاد بھی ایک مکمل ہم آہنگ دھن میں نہیں بج رہا۔ کہیں معاشی دباؤ ہے، کہیں جنگی تھکن، کہیں عوامی مخالفت اور کہیں سیاسی تقسیم۔اسی لیے بعض اوقات امریکہ کو سخت مؤقف اپنانا پڑتا ہے تاکہ اندرونی طور پر مضبوط نظر آئےاور بعض اوقات پیچھے ہٹنا پڑتا ہے تاکہ عالمی محاذ پر اکیلا نہ رہ جائے۔
بندن میاں یہاں ایک تلخ بات کہتا ہے کہ آج کی سپر پاور بھی مکمل سپر نہیں رہی وہ بھی ایک ایسے نظام کا حصہ بن چکی ہے جہاں فیصلے صرف طاقت سے نہیں بلکہ دباؤ، معیشت اور عالمی ردعمل سے بنتے ہیں۔جہاں تک سمندری ناکہ بندی ختم کرنے کے عندیے کی بات ہے تو اگر واقعی ایسا کوئی اشارہ آیا ہے تو یہ اس بات کی علامت ہو سکتا ہے کہ زمینی حقائق بیانات سے زیادہ مضبوط ہو گئے ہیں۔ کیونکہ ناکہ بندی جیسے اقدامات صرف سیاسی اعلان سے نہیں چلتے ان کے پیچھے بھاری معاشی اور عسکری قیمت ہوتی ہے۔دنیا کی تجارت، تیل کی قیمتیں، بحری راستے اور عالمی سپلائی چین سب اس ایک فیصلے سے جڑے ہوتے ہیں۔ اور جب یہ سارا دباؤ ایک جگہ جمع ہو جائے تو پھر سخت بیانات بھی نرم لہجے میں تبدیل ہونے لگتے ہیں۔
بندن میاں کہتا ہے کہ عالمی سیاست میں اصل طاقت وہ نہیں جو زور سے بولے بلکہ وہ ہے جو خاموشی سے حالات کو اپنی سمت موڑ دے۔
لیکن آج کا مسئلہ یہ ہے کہ ہر فریق بول زیادہ رہا ہے اور سمجھ کم رہا ہے۔صدر ٹرمپ کے بار بار بدلتے بیانات کو کچھ لوگ کمزوری سمجھتے ہیں کچھ اسے حکمت عملی کہتے ہیں۔ حقیقت شاید ان دونوں کے درمیان کہیں موجود ہے۔ کیونکہ سیاست میں کبھی کبھی سختی ایک پیغام ہوتی ہے اور نرمی ایک تیاری۔لیکن جب دونوں ایک ساتھ نظر آئیں تو عام آدمی کے لیے سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے کہ اصل سمت کیا ہے۔
بندن میاں آخر میں ایک تلخ مگر حقیقت پر مبنی بات کہتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ آج دنیا میں جنگیں صرف میدان میں نہیں ہوتیں بلکہ بیانات کے میدان میں بھی لڑی جاتی ہیں۔ اور اس میدان میں کبھی کبھی لفظ ہتھیار سے زیادہ خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔مگر اس سارے شور میں سب سے زیادہ نقصان عام انسان کا ہوتا ہے۔ وہ جو تیل کی قیمت سے لے کر روزمرہ کی مہنگائی تک ہر تبدیلی کو اپنی جیب میں محسوس کرتا ہےمگر فیصلے کرنے والے ایوانوں تک اس کی آواز نہیں پہنچتی۔یہی وجہ ہے کہ عالمی سیاست کا یہ کمبل جسے بڑی طاقتیں کبھی اوڑھ لیتی ہیں اور کبھی اتار دیتی ہیں اس کا وزن ہمیشہ کمزور ملکوں اور عام لوگوں کے کندھوں پر ہی رہتا ہے۔
بندن میاں آخر میں بس اتنا کہتا ہے کہ اگر واقعی دنیا امن چاہتی ہے تو بیانات کو کم اور فیصلوں کو زیادہ سنجیدہ ہونا پڑے گا ورنہ تاریخ بار بار یہی لکھے گی کہ طاقتور بولتے رہے اور دنیا سنتی رہی اور جب دنیا بولی تو بہت دیر ہو چکی تھی۔دنیا کی سیاست آج ایک ایسے اسٹیج میں داخل ہو چکی ہے جہاں حقیقت اور بیان کے درمیان فاصلہ اتنا بڑھ گیا ہے کہ عام انسان کے لیے سمجھنا مشکل ہو گیا ہے کہ اصل حقیقت کہاں ہے اور بیان بازی کہاں ختم ہوتی ہے یہ وہ دور ہے جہاں الفاظ فیصلوں سے زیادہ طاقتور ہو چکے ہیں اور ٹویٹ یا پریس اسٹیٹمنٹ کبھی جنگ کا اعلان لگتا ہے اور کبھی امن کی امید ایران اور امریکہ کے موجودہ تنازع کو اگر صرف ایک سیاسی مسئلہ سمجھا جائے تو یہ سطحی تجزیہ ہوگا حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک وسیع تر اسٹریٹجک تصادم ہے جس میں توانائی سمندری راستے علاقائی اثر و رسوخ اور عالمی معیشت سب شامل ہیں ایران کا مؤقف واضح اور سخت ہے کہ جب تک سمندری راستوں کی ناکہ بندی ختم نہیں ہوتی کسی بھی مذاکرات کی بنیاد کمزور رہے گی جبکہ امریکہ کا رویہ بظاہر سخت اور نرم بیانات کے درمیان جھولتا نظر آتا ہے کبھی مکمل دباؤ کبھی محدود مذاکرات کبھی سخت دھمکی اور اگلے ہی لمحے سفارتی نرمی یہی وہ تضاد ہے جس نے عالمی مبصرین کو حیران کر رکھا ہے اصل میں بڑی طاقتوں کی خارجہ پالیسی کبھی ایک سیدھی لکیر نہیں ہوتی اس کے اندر کئی پرتیں ہوتی ہیں جن میں داخلی سیاست عسکری حکمت عملی اتحادیوں کا دباؤ معاشی مفادات اور عالمی ردعمل شامل ہوتے ہیں یہی سب عوامل مل کر ایک ایسی پالیسی بناتے ہیں جو اکثر بظاہر متضاد دکھائی دیتی ہے امریکہ جیسے ملک میں صدر کا بیان ہمیشہ مکمل پالیسی نہیں ہوتا بلکہ ایک سیاسی پیغام بھی ہوتا ہے کبھی یہ اندرونی عوام کے لیے ہوتا ہے کبھی مخالف ملک کے لیے اور کبھی اتحادیوں کے لیے اسی لیے ایک ہی دن میں سخت دھمکی اور نرم مذاکراتی لہجہ سامنے آنا غیر معمولی نہیں سمجھا جاتا ایران اس پوری صورتحال میں ایک نسبتاً سخت اور واضح لائن پر کھڑا ہے اور اس کی حکمت عملی یہ ہے کہ وہ کسی بھی دباؤ کو تسلیم کرنے کا تاثر نہ دے وہ بار بار یہ واضح کرتا ہے کہ تیل کی ترسیل سمندری راستوں اور علاقائی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا یہی وجہ ہے کہ ہر امریکی بیان کے بعد ایرانی ردعمل فوری اور سخت ہوتا ہے تاکہ یہ تاثر برقرار رہے کہ وہ کسی دباؤ میں نہیں آ رہا اصل مسئلہ بیانات کا نہیں بلکہ حالات کی پیچیدگی ہے کیونکہ آج کی عالمی سیاست تین بڑے دباؤ میں ہے جن میں توانائی کی عالمی قیمتیں مشرق وسطیٰ کی غیر مستحکم صورتحال اور بڑی طاقتوں کے درمیان اعتماد کا بحران شامل ہے اور ان تینوں عوامل نے ہر فیصلے کو پیچیدہ بنا دیا ہے سمندری راستوں کی ناکہ بندی جیسے اقدامات صرف سیاسی نہیں ہوتے بلکہ عالمی تجارت پر براہ راست اثر ڈالتے ہیں تیل کی قیمتیں شپنگ انشورنس اور سپلائی چین فوری متاثر ہوتے ہیں اسی لیے بعض اوقات سخت بیانات کے باوجود عملی سطح پر نرمی آ جاتی ہے امریکہ کے اندر بھی صورتحال یکساں نہیں ایک طرف وہ حلقے ہیں جو سخت فوجی مؤقف چاہتے ہیں اور دوسری طرف وہ طبقہ ہے جو طویل جنگوں سے تنگ آ چکا ہے کانگریس میڈیا دفاعی ادارے اور عوامی رائے سب مل کر ایک پیچیدہ دباؤ پیدا کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات صدر کا بیان سخت ہوتا ہے لیکن چند گھنٹوں یا دنوں میں اس میں لچک آ جاتی ہے اور یہ کمزوری نہیں بلکہ ایک سیاسی مجبوری بھی ہو سکتی ہے اتحادی ممالک بھی اس معاملے میں مکمل متفق نہیں کچھ یورپی ممالک مذاکرات کے حق میں ہیں جبکہ کچھ سخت اقدامات کی حمایت کرتے ہیں اس اختلاف نے بھی پالیسی کو غیر مستقل بنا دیا ہے عام تاثر یہ بنتا ہے کہ بیانات بار بار بدل رہے ہیں لیکن عالمی سیاست میں اسے ہمیشہ کمزوری نہیں سمجھا جاتا کبھی یہ دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی ہوتی ہے کبھی مذاکرات کے لیے فضا ہموار کرنے کا طریقہ اور کبھی داخلی سیاسی ضرورت اصل مسئلہ یہ ہے کہ جب یہ سب ایک ساتھ ہو جائے تو تاثر الجھ جاتا ہے اور دنیا کو لگتا ہے کہ پالیسی غیر مستحکم ہے حالانکہ پس منظر میں فیصلے ایک سے زیادہ سطحوں پر ہو رہے ہوتے ہیں یہ تنازع صرف سیاسی نہیں بلکہ معاشی بھی ہے کیونکہ تیل کی قیمتوں میں معمولی اتار چڑھاؤ بھی عالمی مارکیٹ کو ہلا دیتا ہے اور شپنگ روٹس میں رکاوٹیں براہ راست یورپ ایشیا اور ترقی پذیر ممالک کو متاثر کرتی ہیں اسی لیے عالمی معیشت اس صورتحال کی سب سے بڑی خاموش متاثرہ فریق ہے یہ کہنا کہ امریکہ مکمل طور پر تنہائی کا شکار ہو چکا ہے حقیقت سے زیادہ جذباتی تجزیہ ہوگا البتہ یہ ضرور ہے کہ عالمی طاقتوں کے درمیان اعتماد کم ہو رہا ہے اور اتحادی ممالک بھی اب ہر فیصلے پر سوال اٹھا رہے ہیں اگر واقعی سمندری ناکہ بندی ختم کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے تو اس کے پیچھے تین ممکنہ وجوہات ہو سکتی ہیں جن میں معاشی دباؤ عملی مشکلات اور سفارتی مذاکرات کی تیاری شامل ہیں کیونکہ ایسے اقدامات طویل عرصے تک برقرار رکھنا آسان نہیں ہوتا بندن میاں کے مطابق آج کی دنیا میں طاقت صرف اس کے پاس نہیں جو زیادہ بولتا ہے بلکہ اس کے پاس ہے جو حالات کو خاموشی سے اپنی سمت موڑ دیتا ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ آج ہر فریق بول بھی رہا ہے اور کنٹرول بھی چاہتا ہے اور یہی تضاد پورے نظام کو غیر مستحکم بنا رہا ہے اصل حقیقت شاید ان سب دعوؤں کے درمیان کہیں موجود ہے نہ سب کچھ اتنا سخت ہے جتنا بیان کیا جاتا ہے اور نہ ہی سب کچھ اتنا نرم ہے جتنا بعد میں ظاہر کیا جاتا ہے یہ ایک مسلسل چلنے والی سفارتی کشمکش ہے جس میں ہر فریق اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اس سارے کھیل میں سب سے زیادہ نقصان وہی اٹھاتے ہیں جن کا ان فیصلوں پر کوئی اختیار نہیں ہوتا اور آخر میں یہی حقیقت بچتی ہے کہ اگر دنیا واقعی استحکام چاہتی ہے تو بیانات کو کم اور فیصلوں کو واضح کرنا ہوگا ورنہ یہ کمبل کبھی کسی کے لیے آرام دہ نہیں ہوگا بس وقتاً فوقتاً جلتا اور کھنچتا رہے گا اور اس کی گرمی پوری دنیا کو محسوس ہوتی رہے گی۔

Exit mobile version