لندن میراتھون 2026؛ پاکستان کے 18 رنرز عالمی اسٹیج پر جلوہ گر ہونے کو تیار، سارہ لودھی اور عدنان گاندھی سمیت نمایاں ایتھلیٹس شریک

دنیا بھر کے ایتھلیٹس کی توجہ کا مرکز بننے والی لندن میراتھون کل بروز اتوار منعقد ہونے جا رہی ہے، جس میں پاکستان اور دنیا کے مختلف ممالک میں مقیم 18 پاکستانی رنرز سبز ہلالی پرچم کی نمائندگی کریں گے۔ اس 46 ویں لندن میراتھون میں 50 ہزار سے زائد رنرز لندن کے تاریخی مقامات کے درمیان 42.195 کلومیٹر طویل فاصلہ طے کریں گے، جو نہ صرف ایک عالمی کھیل ہے بلکہ فلاحی سرگرمیوں کے حوالے سے بھی دنیا کا سب سے بڑا پلیٹ فارم مانا جاتا ہے۔

اس سال پاکستانی دستے میں شامل رنرز کی فہرست اور ان کا جوش و جذبہ دیدنی ہے۔ دبئی میں مقیم سارہ لودھی، جو کراچی میراتھون 2026 کی فاتح بھی رہ چکی ہیں، اپنے کیریئر کی 12ویں میراتھون دوڑنے کے لیے تیار ہیں، جبکہ کراچی سے ریحان آدم جی اور امین مکاتی بھی ایکشن میں نظر آئیں گے۔ امین مکاتی کا ہدف اس ریس کو 3 گھنٹے سے کم وقت میں مکمل کرنا ہے۔ اسی طرح 6 اسٹار فِنشر عدنان گاندھی (کراچی) اور ان کی اہلیہ حرا دیوان گاندھی (برطانیہ) بھی اس میگا ایونٹ کا حصہ ہیں، جہاں عدنان گاندھی برٹش ایشین ٹرسٹ کے لیے فنڈز جمع کرنے کے فلاحی مشن پر ہیں۔

عالمی سطح پر مقیم دیگر پاکستانیوں میں امریکہ سے قمر ضیا اور نوید حسین، آسٹریا سے احمر خان، اور ڈنمارک سے ذیشان رب شامل ہیں، جو اپنی زندگی کی 55 ویں میراتھون مکمل کر کے ایک نیا ریکارڈ قائم کریں گے۔ ناروے سے عمران غیور احمد اور لاہور سے فیصل شفیع بھی میدان میں اتریں گے۔ برطانیہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کی نمائندگی عبداللہ اطہر، عرف محمد، جاوید حسین، آدم محمد، وسیم اختر، عادل علی اور یوسف حسن کریں گے، جو لندن کی سڑکوں پر پاکستان کا نام روشن کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

پاکستانی رنرز کی اتنی بڑی تعداد میں شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی سطح پر پاکستانی کمیونٹی کھیلوں اور سماجی خدمت کے شعبوں میں اپنا بھرپور اور مثبت کردار ادا کر رہی ہے۔ یہ تمام رنرز نہ صرف اپنی جسمانی مہارت ثابت کرنے کے لیے پرعزم ہیں بلکہ ان کی شرکت پاکستان کا ایک مثبت چہرہ دنیا کے سامنے پیش کر رہی ہے۔

Exit mobile version