اخبار: قانون، ساکھ اور حقیقت ، رجسٹریشن سے قومی دعوے تک

تحریر : محمد مظہررشید چودھری (03336963372)

پاکستان میں صحافت ہمیشہ سے ایک طاقتور ذریعہ اظہار رہی ہے، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس شعبے میں پیچیدگیاں بھی بڑھتی گئی ہیں۔ آج کے دور میں جب ہر دوسرے شہر، ضلع بلکہ بعض اوقات تحصیل کی سطح پر بھی اخبارات شائع ہو رہے ہیں، تو ایک عام قاری کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ آخر ایک اخبار کی اصل حیثیت کیا ہے؟ کیا ہر شائع ہونے والا اخبار واقعی مستند ہے؟ کیا ’قومی اخبار‘ کا دعویٰ حقیقت پر مبنی ہوتا ہے یا محض ایک لیبل ہے؟ اور سب سے اہم بات، قانونی تقاضے اس حوالے سے کیا کہتے ہیں؟سب سے پہلے اگر ہم قانونی پہلو کو دیکھیں تو پاکستان میں کسی بھی اخبار کی اشاعت بغیر رجسٹریشن کے ممکن نہیں ہونی چاہیے۔پریس، اخبارات، خبر رساں ایجنسیوں اور کتب کی رجسٹریشن آرڈیننس 2002واضح طور پر یہ تقاضا کرتا ہے کہ ہر اخبار کے لیے باقاعدہ ڈیکلریشن، این او سی اور رجسٹریشن سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ضروری ہے۔ یہ عمل بظاہر سادہ لگتا ہے، مگر اس کے پیچھے ایک مکمل نظام موجود ہے جو اس بات کو یقینی بنانے کے لیے بنایا گیا ہے کہ صرف سنجیدہ اور ذمہ دار افراد ہی اشاعتی میدان میں قدم رکھیں۔لیکن عملی صورتحال اس سے کچھ مختلف نظر آتی ہے۔ ملک کے مختلف حصوں میں ایسے اخبارات بھی گردش میں ہیں جن کی رجسٹریشن مشکوک ہوتی ہے یا بعض اوقات سرے سے موجود ہی نہیں ہوتی۔ یہ اخبارات بظاہر مکمل نظر آتے ہیں، ان میں خبریں بھی ہوتی ہیں اور اشتہارات بھی، لیکن ان کی قانونی حیثیت سوالیہ نشان بنی رہتی ہے۔ یہاں ایک عام قاری کے لیے سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ وہ اخبار کے ’طباعتی و اشاعتی معلومات‘ کو دیکھے، جہاں پرنٹر، پبلشر، ایڈیٹر اور رجسٹریشن کی تفصیلات درج ہوتی ہیں۔ اگر یہ معلومات غائب ہوں یا مبہم ہوں تو احتیاط برتنا ضروری ہے۔سانچ کے قارئین کرام ! ABC ( Audit Bureau of Circulations) کی۔ قانونی طور پر یہ سرٹیفکیٹ لازمی نہیں، لیکن اس کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ABC دراصل ایک ایسا ادارہ ہے جو اخبار کی اصل فروخت شدہ کاپیوں کی تصدیق کرتا ہے۔ اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ جو اخبار ABC سرٹیفائیڈ ہے، وہ اپنی گردش کے بارے میں ایک مستند دعویٰ کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سرکاری اشتہارات کے حصول کے لیے سنٹرل میڈیا لسٹ (CML) میں شامل ہونا ضروری ہے، اور CML میں شمولیت کے لیے ABC سرٹیفکیٹ بنیادی شرط ہے۔یہاں ایک اہم نکتہ سامنے آتا ہے۔ بہت سے چھوٹے یا علاقائی اخبارات ABC سرٹیفائیڈ نہیں ہوتے، اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ غیر قانونی ہیں، بلکہ وہ صرف محدود دائرے میں کام کر رہے ہوتے ہیں۔ ان کا ہدف مقامی قارئین ہوتے ہیں اور وہ سرکاری اشتہارات کے بغیر بھی اپنی بقا برقرار رکھتے ہیں۔ تاہم جب کوئی اخبار خود کو بڑے پیمانے پر پیش کرنا چاہے تو ABC سرٹیفیکیشن اس کے لیے تقریباً ناگزیر ہو جاتی ہے۔ جوسوال اکثر بحث کا موضوع بنتا ہے کہ کیا کوئی بھی اخبار خود کو ’قومی‘ کہہ سکتا ہے؟ اس کا سادہ جواب یہ ہے کہ جی ہاں، قانونی طور پر اس پر کوئی پابندی نہیں۔ پاکستان کے قوانین میں ’قومی اخبار‘ کی کوئی واضح تعریف موجود نہیں۔ یہ ایک غیر رسمی اصطلاح ہے جو عام طور پر ان اخبارات کے لیے استعمال ہوتی ہے جن کی رسائی ملک بھر میں ہو، جن کی اشاعت بڑے شہروں میں ہوتی ہو اور جو قومی سطح کے مسائل پر لکھتے ہوں۔لیکن یہاں مسئلہ تاثر کا ہے، قانون کا نہیں۔ اگر ایک چھوٹا علاقائی اخبار خود کو ’قومی‘ کہے تو قانونی کارروائی شاید نہ ہو، مگر اس کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔ قارئین اور اشتہاری ادارے دونوں اس دعوے کو شک کی نظر سے دیکھ سکتے ہیں۔ اس لیے یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ ’قومی‘ ہونا ایک حیثیت ہے جو وقت کے ساتھ، معیار کے ذریعے اور قارئین کے اعتماد سے حاصل ہوتی ہے، نہ کہ صرف ایک لفظ لکھ دینے سے۔صحافت میں ساکھ سب سے قیمتی سرمایہ ہوتی ہے۔ ایک اخبار چاہے کتنا ہی خوبصورت کیوں نہ ہو، اگر اس کی بنیاد شفاف نہ ہو تو وہ زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا۔ اسی لیے APNS (آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی) کی رکنیت،’پریس کونسل آف پاکستان ‘ کے اخلاقی ضابطوں کی پابندی، اور مستقل اشاعت جیسے عوامل بھی کسی اخبار کی credibility کو مضبوط بناتے ہیں۔بدقسمتی سے، کچھ عناصر اس نظام کا غلط استعمال بھی کرتے ہیں۔ ’ڈمی اخبارات‘کی اصطلاح اسی تناظر میں سامنے آتی ہے، جو صرف اشتہارات کے حصول کے لیے بنائے جاتے ہیں اور حقیقی صحافتی سرگرمی سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ ایسے اخبارات وقتی فائدہ تو حاصل کر لیتے ہیں، لیکن طویل مدت میں نہ صرف خود نقصان اٹھاتے ہیں بلکہ پورے میڈیا سیکٹر کی ساکھ کو بھی متاثر کرتے ہیں۔آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پاکستان میں اخبارات کا نظام بظاہر پیچیدہ ضرور ہے، مگر اس کے بنیادی اصول واضح ہیں، قانونی رجسٹریشن، شفافیت، اور ذمہ داری۔ ABC سرٹیفیکیشن اور CML میں شمولیت ترقی کے راستے ہیں، جبکہ ’قومی‘ کا درجہ ایک اعزاز ہے جو محنت اور اعتماد سے حاصل ہوتا ہے۔ایک باشعور قاری کے طور پر ہماری بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم ہر خبر کو آنکھ بند کر کے قبول نہ کریں، بلکہ اس کے ماخذ کو جانچیں۔ کیونکہ مضبوط صحافت صرف اداروں سے نہیں بنتی، بلکہ قارئین کے شعور سے بھی پروان چڑھتی ہے٭

Exit mobile version