ناصر محمود گورایہ
گزشتہ دو تین سال سے موسموں کی تبدیلی سے لگتا ہے جیسے دو موسم اللہ تعالی نے ختم کر دیے ہیں، خزاں اور بہار کے موسم۔ یکدم شدید سردی اور یکدم شدید گرمی شروع ہو جاتی ہے۔ اس تبدیلی سے ہماری روایتی کھیتی باڑی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ جس کی وجہ سے کسان بے چارہ بےحد پریشان ہے۔
بالکل اسی طرح جیسے آج کل میں اور آپ بے موسمی شادی کارڈز دیکھ کر پریشان ہیں۔ کبھی بچوں کے تعلیمی شیڈول دیکھ کر دن مقرر کیے جاتے تھے، پھر ہفتہ وار و سرکاری چھٹیاں دیکھ کر دن رکھے جانے لگے۔ پھر ان کے ساتھ جمعہ اور سوموار بھی شامل کر لیا گیا۔ لیکن اب تو حال یہ ہے کہ نہ بچوں کے امتحانات کی پرواہ ہے اور نہ دن کی، نان اسٹاپ 24/7 کی طرح بغیر کسی چھٹی کا خیال کئے بغیر سوموار، منگل، بدھ، جمعرات اور جمعہ، ہفتہ، اتوار میں فرق کئے ہر دن ہی شادی کا دن بنا ہوا ہے، بلکہ ایک ایک دن میں چار چار پانچ پانچ دعوت نامے موصول ہو رہے ہیں۔
بہرحال انہی شادیوں کے حوالے سے اک محترمہ بنت خالد نے معاشرہ کو جھنجھوڑنے کی کوشس کی ہے، آپ بھی ملاحضہ فرمائیں۔
آج کل شادی ہالوں کا حال کچھ ایسا ہو چکا ہے کہ لگتا ہے یہ خوشی کی تقریبات نہیں بلکہ “نمائش گاہیں” ہیں، جہاں ہر کوئی اپنے آپ کو ایک قیمتی شو پیس بنا کر پیش کرتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ یہاں چیزوں کے ساتھ ساتھ انسان بھی رکھے ہوتے ہیں — اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ہر ایک کو لگتا ہے وہی سب سے مہنگا ہے۔
معاشرتی حقیقت یہ ہے کہ ہم نے سادگی کو کمزوری اور دکھاوے کو کامیابی سمجھ لیا ہے۔ لوگ اپنی حیثیت سے بڑھ کر خرچ کرتے ہیں، صرف اس لیے کہ دوسروں کی نظروں میں “کم” نہ لگیں۔ گویا خوشی منانا مقصد نہیں رہا، بلکہ دوسروں کو متاثر کرنا اصل ہدف بن گیا ہے۔
ایسے ماحول میں اگر کوئی سادہ سا انسان آ جائے — نہ برانڈڈ کپڑے، نہ بھاری میک اپ، نہ کوئی خاص تیاری — تو وہ فوراً سب کی توجہ کا مرکز بن جاتا ہے۔ مگر تعریف کے لیے نہیں… بلکہ ایک خاموش “جائزے” کے لیے۔
لوگ بظاہر مصروف ہوتے ہیں، مگر ان کی آنکھیں بڑی ایمانداری سے اپنا کام کر رہی ہوتی ہیں: اوپر سے نیچے تک مکمل اسکین!
کوئی زبان سے کچھ نہیں کہتا، مگر چہرے ایسے تبصرے کرتے ہیں کہ الفاظ کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔
ہلکی سی مسکراہٹ، ذرا سی بھنویں چڑھانا، یا ساتھ والی کو کہنی مارنا — یہ سب وہ “مہذب طریقے” ہیں جن سے ہم کسی کو اس کی اوقات یاد دلاتے ہیں، بغیر کچھ کہے۔
اور مزے کی بات یہ ہے کہ جو لوگ دوسروں کو جج کر رہے ہوتے ہیں، وہ خود بھی اسی عمل کا شکار ہوتے ہیں۔
یعنی ایک طرف سے نظر آتی ہے:
"یہ کیا پہن لیا؟”
اور دوسری طرف سے آ رہی ہوتی ہے:
"یہ بھی کوئی کم نہیں!”
گویا پورا ہال ایک خاموش مقابلے میں مصروف ہوتا ہے، جہاں ہر کوئی جج بھی ہے اور مقابل بھی۔
اصل تنقید یہ ہے کہ ہم نے انسان کی قدر کو اس کے لباس اور ظاہری حالت تک محدود کر دیا ہے۔ ہم بھول گئے ہیں کہ ایک معمولی سا اشارہ، ایک نظر یا ایک رویہ کسی کے دل کو کتنی گہری چوٹ دے سکتا ہے۔ یہ صرف مذاق نہیں ہوتا، بلکہ ایک ایسا زخم ہوتا ہے جو اکثر نظر نہیں آتا۔
حقیقت یہ ہے کہ ہم زبان سے بڑے بڑے اصول بیان کرتے ہیں، برابری کی بات کرتے ہیں، مگر عمل میں ہم نے خود ہی طبقے بنا رکھے ہیں: اچھے کپڑے والے الگ، سادہ لوگ الگ۔ اور المیہ یہ ہے کہ ہمیں اس تضاد کا احساس بھی نہیں ہوتا۔
اگر گہرائی سے دیکھا جائے تو مسئلہ صرف شادی ہال کا نہیں، ہماری سوچ کا ہے۔ ہم نے خود کو دوسروں کی نظر سے دیکھنا شروع کر دیا ہے، اور اسی چکر میں اپنی اصل کھو بیٹھے ہیں۔
آخرکار سچ یہی ہے کہ روشنیوں سے بھرے ان ہالوں میں اصل اندھیرا بجلی کے جانے سے نہیں، بلکہ دلوں کے بدلنے سے ختم ہوگا۔
جب ہم دوسروں کو کمتر سمجھنا چھوڑ دیں گے… تب ہی ہم واقعی بہتر بن سکیں گے
