شیشہ، ادارہ اور رشتہ کی ٹوٹتی بنیادوں کا نوحہ اور اصلاح کی آخری صدا

تحریر: محمد انور بھٹی

ادارہ، شیشہ اور رشتہ بظاہر تین مختلف حقیقتیں ہیں مگر اپنی ساخت اپنی بقا اور اپنے انجام کے اعتبار سے ایک ہی دھاگے میں پروئے ہوئے دکھائی دیتے ہیں کیونکہ یہ تینوں اپنی ظاہری مضبوطی کے باوجود ایک ایسی باطنی نزاکت رکھتے ہیں جو ذرا سی لغزش ایک لمحاتی کوتاہی یا ایک غیر محسوس غلط فہمی کے بوجھ تلے ٹوٹ کر بکھر جاتے ہیں فرق صرف اتنا ہے کہ شیشہ ہاتھ کی معمولی بےاحتیاطی سے زمین پرگرکرریزہ ریزہ ہو جاتا ہے ادارہ وقت کے ساتھ ساتھ غفلت، نااہلی اور بےحسی کی دیمک سے اندر ہی اندر کھوکھلا ہو کر ایک دن اچانک اپنی شناخت کھو دیتا ہے جبکہ رشتہ دلوں کے درمیان پیدا ہونے والی ایک غیر مرئی غلط فہمی کے سبب ٹوٹ کر ایسے بکھرتا ہے کہ اس کی آواز باہر کم اور اندر زیادہ سنائی دیتی ہے اور بندن میاں آج انہی تینوں حقیقتوں کے بیچ الجھے ہوئے اپنے اندر ایک ایسی اداسی لیے بیٹھے تھے جو کسی پرانے زخم کی طرح وقت کے ساتھ بھرنے کے بجائے اور گہری ہوتی چلی جاتی ہے۔
ان کے کمرے کی فضا ایک عجیب سی خاموشی میں ڈوبی ہوئی تھی جہاں دیواروں پر چپکی ہوئی گرد وقت کے گزرنے کی گواہی دے رہی تھی اور کھڑکی سے اندر آتی ہوئی دھوپ کی ایک کمزور لکیر جیسے زندگی کی آخری امید کی مانند فرش پر پھیلی ہوئی تھی بندن میاں کی نگاہیں اس لکیر پر جمی ہوئی تھیں مگر ان کی سوچیں اس سے بہت دور کسی ایسی دنیا میں بھٹک رہی تھیں جہاں وقت نے ابھی تھکنا نہیں سیکھا تھا جہاں قدموں میں چستی تھی، آنکھوں میں خواب تھے اور دل میں ایک انجانی سی طمانیت بسی ہوئی تھی مگر آج وہ سب کچھ ایک دھندلی تصویر کی مانند ان کے ذہن کے پردے پر ابھرتا اور مٹتا جا رہا تھا اور یہی کیفیت انہیں اس بات پر مجبور کر رہی تھی کہ وہ اپنے حال کی گھٹن سے نکل کر ماضی کی کسی کھلی فضا میں سانس لینے کی کوشش کریں۔
انہوں نے آہستہ سے اپنی چھڑی اٹھائی جیسے کوئی شخص اپنے ہی وجود کے بکھرے ہوئے حصوں کو سمیٹنے کی کوشش کر رہا ہو وہ دروازے کی طرف بڑھے ان کے قدموں میں ایک عجیب سی سستی تھی مگر دل کے اندر ایک بےچینی بھی تھی جیسے کوئی ان دیکھی قوت انہیں پکار رہی ہو، جیسے کوئی ادھورا قصہ انہیں اپنی طرف کھینچ رہا ہو یوں وہ دروازہ کھول کر گھرسےباہر نکل آئے گلی کی فضا میں ایک معمولی سی ہلچل تھی مگر بندن میاں کے لیے یہ سب کچھ ایک پس منظر سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا تھا کیونکہ ان کا اصل سفر باہر کی دنیا کا نہیں بلکہ اپنے ہی ماضی کی طرف تھا۔
وہ خرامہ خرامہ چلتے ہوئے اس راستے پر گامزن ہو گئے جو کبھی ان کے لیے محض ایک معمولی گزرگاہ تھا مگر آج ایک یادگار بن چکا تھا ہر قدم کے ساتھ کوئی نہ کوئی یاد ان کے ذہن میں دستک دے رہی تھی کہیں کسی پرانے ساتھی کی آواز سنائی دے رہی تھی کہیں کسی قہقہے کی بازگشت محسوس ہورہی تھی کہیں کسی تھکے ہوئے مزدور کے چہرے پر پھیلی ہوئی مسکراہٹ ان کی آنکھوں کے سامنے آ جاتی تھی اور یہ سب مناظر مل کر ایک ایسی دنیا تشکیل دے رہے تھے جو حقیقت سے زیادہ سچی اور حال سے زیادہ زندہ محسوس ہو رہی تھی۔
جیسے ہی وہ اسٹیشن کے قریب پہنچے تو ان کے دل کی دھڑکن میں ایک ہلکا سا ارتعاش پیدا ہوا یہ وہی جگہ تھی جہاں انہوں نے اپنی زندگی کے بےشمار دن اور راتیں گزاریں تھیں جہاں انہوں نے محنت کو عبادت بنتے دیکھا تھا جہاں انہوں نے دیانت کو عزت میں بدلتے دیکھا تھا اور جہاں انہوں نے انسانوں کو ایک نظام کا حصہ بن کر ایک دوسرے کے لیے سہارا بنتے دیکھا تھا اور اب وہ اسی جگہ کی طرف لوٹ رہے تھے جیسے کوئی شخص اپنے بچھڑے ہوئے گھر کی دہلیز پر دوبارہ قدم رکھنے جا رہا ہو۔
مگر جیسے ہی انہوں نے اس مقام پر قدم رکھا تو ماضی نے ایک دم سے اپنے دروازے کھول دیے اور ایک بھرپور زندگی کا منظر ان کے سامنے یوں ابھرا جیسے وقت نے الٹا سفر شروع کر دیا ہو گڈز پلیٹ فارم پر قطار در قطار کھڑی ویگنیں کسی منظم قافلے کی طرح نظر آ رہی تھیں ہر ویگن اپنے اندر ایک دنیا سموئے ہوئے تھی کہیں گھی کے کنستر احتیاط سے نیچے اتارے جا رہے تھے، کہیں چینی اور شکر کی بوریاں ترتیب سے رکھی جا رہی تھیں، کہیں دالوں اور مرچوں کی خوشبو فضا میں گھل کر ایک عجیب سا رنگ پیدا کر رہی تھی اور کہیں نمک کی سفیدی سورج کی روشنی میں چمک کر محنت کی سچائی کا اعلان کر رہی تھی۔
ہر طرف ایک منظم ہلچل تھی ایک ایسا شور جو بےترتیبی کا نہیں بلکہ نظم و ضبط کا مظہر تھا ہر شخص اپنے اپنے کام میں اس طرح مصروف تھا جیسے اس کے بغیر یہ نظام ایک لمحے کے لیے بھی نہیں چل سکتا کسی کے ہاتھ میں رسی تھی، کسی کے کندھے پر بوری تھی، کسی کے ماتھے پر پسینہ تھا اور کسی کے چہرے پر تھکن کے باوجود ایک عجیب سی اطمینان کی جھلک تھی۔ بندن میاں کو یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ کسی عام جگہ پر نہیں بلکہ ایک ایسے مقدس مقام پر کھڑے ہیں جہاں محنت، دیانت اور اخلاص ایک عبادت کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔
ان کی نگاہ بیل گاڑیوں کی طرف گئی جو اپنی مخصوص چوں چوں کی آواز کے ساتھ ایک دلکش آہنگ پیدا کر رہی تھیں وہ آوازیں کسی ساز کی دھن کی مانند فضا میں پھیل رہی تھیں اور اس سارے منظر کو ایک عجیب سی موسیقیت عطا کر رہی تھیں ایک طرف شہر کی طرف جانے والا سامان تھا اور دوسری طرف دیہات سے آنے والی ضروریات گویا یہ پلیٹ فارم ایک ایسا دل تھا جو شہر اور دیہات کے درمیان خون کی طرح زندگی کو گردش میں رکھے ہوئے تھا اور ہر بیل گاڑی اس دھڑکن کا ایک لازمی حصہ تھی۔
اسی دوران دور سے ایک بھاپ سےچلنےوالے انجن کی کوک سنائی دی جو آہستہ آہستہ قریب آتی محسوس ہو رہی تھی یہ آواز جیسے کسی اعلان کی مانند فضا میں گونجی اور محنت کشوں کے اندر ایک نئی چستی بھر گئی چلو چلو ایک بجے والی لنڈی آ رہی ہے ایک بج چکا ہے کی صدا نے پورے ماحول کو ایک نئی ترتیب دے دی اور سب لوگ اپنے اپنے کام سمیٹ کر کھانے کی طرف متوجہ ہو گئے وہ منظر جہاں سب مزدور زمین پر کپڑا بچھا کر بیٹھتے تھے بندن میاں کے دل میں ایک ایسی لہر پیدا کر رہا تھا جو خوشی اور افسوس دونوں کا امتزاج تھی۔
سب اپنے اپنے ٹفن کھول کر بیٹھ گئے کسی کے پاس اچار تھا، کسی کے پاس دال، کسی کے پاس سبزی، اور کسی کے پاس دیسی گھی میں ملی ہوئی شکر مگر اصل حسن اس بات میں تھا کہ سب کچھ بانٹا جا رہا تھا کوئی کسی سے بڑا نہیں تھا کوئی کسی سے چھوٹا نہیں تھا سب ایک ہی صف میں بیٹھے تھے جیسے زندگی نے اس لمحے میں برابری کا حقیقی سبق سکھا دیا ہو اور کھانے کے بعد سب کا اللہ کا شکر ادا کرنا اس بات کی علامت تھا کہ یہ محنت صرف جسم کی ضرورت نہیں بلکہ روح کی تسکین بھی ہے۔
مگر اسی لمحے بندن میاں کے ذہن میں ایک اور تصویر ابھری ایک ایسا منظر جہاں انہی لوگوں میں سے کچھ چہرے وقت کے ساتھ بدل رہے ہیں جہاں دیانت کی جگہ مفاد نے لے لی ہے جہاں اخلاص کی جگہ خود غرضی نے قدم جما لیے ہوں جہاں نظام کی مضبوطی کو برقرار رکھنے کے بجائے اسے کمزور کرنے کا عمل شروع ہو گیا ہو یہ تبدیلی اچانک نہیں آئی تھی بلکہ آہستہ آہستہ، خاموشی سے، جیسے دیمک لکڑی کو اندر ہی اندر کھا جاتی ہے، اور ایک دن وہ لکڑی باہر سے سلامت دکھائی دیتے ہوئے بھی اندر سے مکمل طور پر کھوکھلی ہو جاتی ہے۔
بندن میاں ان خیالات میں اس قدر ڈوب گئے تھے کہ انہیں اپنے قدموں کا ہوش نہ رہا اور اچانک پلیٹ فارم پر ایک اکھڑی ہوئی اینٹ سے ٹکرا کر وہ لڑکھڑا گئے اور زمین پر گرتے گرتے بڑی مشکل سے سنبھل سکے۔ یہ ٹھوکر محض ایک جسمانی جھٹکا نہیں تھی بلکہ ایک ایسا دھچکا تھا جس نے انہیں ماضی کی حسین دنیا سے نکال کر حال کی تلخ حقیقت کے سامنے لا کھڑا کیا انہوں نے سنبھل کر اردگرد دیکھا تو وہی جگہ جو ابھی کچھ دیر پہلے ان کے ذہن میں زندگی سے بھرپور تھی اب ایک ویران اور اجاڑ منظر میں تبدیل ہو چکی تھی۔
ان کی نظر سب سے پہلے ایک پرانی گڈز ویگن پر پڑی جو سائیڈنگ پر یوں کھڑی تھی جیسے وقت کے کارواں سے بچھڑا ہوا کوئی مسافر تھکن کے مارے ایک کونے میں ساکت ہو گیا ہو یہ محض ایک ویگن نہیں تھی بلکہ ایک پوری تاریخ کا ملبہ اپنے اندر سموئے ہوئے ایک خاموش نوحہ تھی اس کا رنگ جو کبھی تازگی اور حرکت کی علامت ہوا کرتا تھا اب اکھڑ کر زنگ آلود چھالوں میں تبدیل ہو چکا تھا اور وہ زنگ کسی عام زنگ کی مانند نہیں بلکہ ایک ایسی بیماری کا نشان تھا جو برسوں سے اس کے وجود کو اندر ہی اندر چاٹتی رہی تھی بریک بلاک غائب تھے جیسے اس کے قدموں سے حرکت کی طاقت چھین لی گئی ہو اور اس کی باڈی جگہ جگہ سے گل کر یوں جھڑ رہی تھی جیسے کسی بوڑھے درخت کی سوکھی چھال وقت کے تھپیڑوں سے اترتی کر گر رہی ہوتی ہے یہ وہی ویگن تھی جو کبھی سامان سے لبریز رہتی تھی۔ جس کے اندر گندم کی خوشبو، چینی کی مٹھاس اور دیہات کی مٹی کی مہک بسی ہوتی تھی مگر آج وہ خود ایک ایسا بوجھ بن چکی تھی جسے نہ کوئی اٹھانے والا تھا اور نہ ہی کسی کے لیے اس میں کوئی کشش باقی رہی تھی بندن میاں کو یوں محسوس ہوا جیسے یہ ویگن صرف لوہے کا ایک ڈھانچہ نہیں بلکہ ایک شکستہ آئینہ ہے جس میں ماضی کی رونقیں اور حال کی بےبسی ایک ساتھ جھلک رہی ہیں اور اس کے ہر زنگ آلود کونے سے ایک خاموش فریاد اٹھ رہی ہے کہ اسے وقت نے نہیں بلکہ غفلت، لاپرواہی اور بےحسی نے اس انجام تک پہنچایا ہے اور یہ فریاد اتنی گہری تھی کہ بندن میاں کے دل میں اتر کر ایک ایسی خلش پیدا کر گئی جو محض ایک منظر نہیں بلکہ ایک مکمل المیہ بن کر ان کے اندر بس گئی۔
وہ آگے بڑھے تو گڈز شیڈ کا منظر ان کے سامنے تھا وہ شیڈ اب کسی پناہ گاہ کے بجائے ایک کھنڈر کی صورت اختیار کر چکا تھا پلیٹ فارم جگہ جگہ سے ٹوٹ چکا تھا لوہے کے جنگلے غائب تھے دیواروں میں دراڑیں تھیں اور ہر طرف ایک ایسی خاموشی چھائی ہوئی تھی جو کسی چیخ سے کم نہیں تھی۔ہر طرف ایک اجنبیت تھی، ایک ویرانی تھی، ایک ایسا سناٹا تھا جو کانوں میں شور کی طرح گونج رہا تھا چند آوارہ کتے اس جگہ کو اپنا مسکن بنائے ہوئے تھے اور ان کا بھونکنا اس بات کی علامت تھا کہ جہاں کبھی انسانوں کی محنت کی گونج تھی وہاں اب بےمقصد زندگی کا راج ہے
اس ویرانی کی تہہ میں صرف وقت کی مار نہیں تھی بلکہ ایک سوچے سمجھے زوال کی کہانی دفن تھی ایک ایسا زوال جسے حالات نے نہیں بلکہ انسانوں نے خود اپنے ہاتھوں سے تراشا تھاکبھی اس شیڈ کی چھتیں محنت کی سانسوں سے گرم رہتی تھیں مگر آج ان پر سیاست کی سرد پرچھائیاں جم چکی تھیں وہ ریل کی پٹریاں جو کبھی ملک کی معیشت کی شہ رگ سمجھی جاتی تھیں آج خود سانس لینے کو ترس رہی تھیں ہر اینٹ ہر دراڑ اور ہر زنگ آلود لوہا جیسے چیخ چیخ کر یہ بتا رہا تھا کہ اس ادارے کو وقت نے نہیں بلکہ مفادات نے کھایا ہے یہاں فیصلے میرٹ پر نہیں بلکہ مصلحتوں کے ترازو میں تولے گئے ہوں یہاں قابلیت کو پس پشت ڈال کر تعلقات کو فوقیت دی گئی ہو یہاں محنت کش کے پسینے کی قیمت کم اور کرسی کے وقار کی قیمت زیادہ لگائی گئی ہو اور یوں آہستہ آہستہ ایک مضبوط ستون کو اندر سے کھوکھلا کر دیا گیا ہو۔ یہاں تک کہ وہ باہر سے کھڑا دکھائی دیتا رہا مگر حقیقت میں اپنی بنیاد کھو چکا ہے۔
وہ کمرے جہاں بیٹھ کر کبھی ملازمین اپنی ذمی داریاں نبھاتے تھے اپنی ڈیوٹی سرانجام دیتے تھے اب سنسان پڑے تھے مگر اس سنسانی میں بھی ایک داستان چھپی ہوئی تھی یہ صرف خالی کمروں کی ویرانی نہیں تھی بلکہ ان خوابوں کی ویرانی تھی جو کبھی ان کمروں میں بیٹھ کر بنائے جاتے تھے وہ لوگ جو کبھی اس ادارے کی ریڑھ کی ہڈی تھے آج خود اپنی زندگی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں نہ رہائش کی سہولیات، نہ صحت کی آسانیاں اور نہ وہ عزت جو ایک محنت کش کا حق ہوتی ہے ریلوے کالونیوں کے بوسیدہ مکانات اپنی خستہ دیواروں کے ساتھ یہ گواہی دے رہے ہیں کہ یہاں رہنے والے صرف زندہ نہیں بلکہ زندہ رہنے کی جدوجہد کر رہے ہیں اسپتالوں کے بورڈ تو آج بھی آویزاں ہیں ڈاکٹر بھی کہیں نہ کہیں موجود ہیں مگر علاج ایک خواب بن چکا ہے ادویات نایاب ہیں اور علاج کی سہولیات محض کاغذی وعدوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں محنت کش آج بھی ڈیوٹی پر حاضر ہوتے ہیں مگر ان کے چہروں سے وہ اطمینان غائب ہے جو کبھی ان کی پہچان ہوا کرتا تھا اب ان کی آنکھوں میں صرف تھکن نہیں بلکہ ایک بےبسی بھی ہے ایک ایسا سوال جو ہر گزرتے دن کے ساتھ گہرا ہوتا جا رہا ہے کہ آخر ان کی محنت کا صلہ کہاں گم ہو گیاہے۔ بندن میاں کو یوں محسوس ہوا جیسے یہ ویران شیڈ، یہ ٹوٹی دیواریں اور یہ خاموش کمرے سب مل کر ایک ہی فریاد کر رہے ہوں کہ ادارے کبھی خود نہیں مرتے انہیں مارا جاتا ہے اور جب انہیں مارا جاتا ہے تو ان کے ساتھ جڑی ہوئی نسلوں کی امیدیں بھی دفن ہو جاتی ہیں۔
انہوں نے ایک لمحے کے لیے توقف کیا اور پھر ایک تلخ مگر بامعنی مسکراہٹ کے ساتھ گویا ہوئے کہ شیشہ، ادارہ اور رشتہ تینوں اپنی اپنی صورت میں زندگی کے ستون ہیں مگر ان کی بقا کا راز ان کی مضبوطی میں نہیں بلکہ ان کی حفاظت میں پوشیدہ ہے شیشہ اگرچہ سخت دکھائی دیتا ہے مگر ایک معمولی لغزش سے ٹوٹ جاتا ہے ادارہ اگرچہ وسیع اور طاقتور نظر آتا ہے مگر نااہلی، بدعنوانی، اقربا پروری اور سیاسی مصلحتوں کے بوجھ تلے آہستہ آہستہ اپنی روح کھو دیتا ہے اور رشتہ بظاہر محبت اور اعتماد کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے مگر غلط فہمی، انا، بےتوجہی اور خاموش دوریوں کی دیمک اسے اندر ہی اندر چاٹ جاتی ہے انہوں نے آہستہ سے کہا کہ ان تینوں کی تباہی کی اصل وجہ ایک ہی ہے اور وہ ہے بےحسی وہ بےحسی جو انسان کو اپنی ذمہ داریوں سے غافل کر دیتی ہے وہ بےحسی جو سچ کو دیکھ کر بھی آنکھیں بند کر لیتی ہے وہ بےحسی جو وقتی فائدے کے لیے دائمی نقصان کو نظر انداز کر دیتی ہے بندن میاں کی آواز میں ایک عجیب سا کرب تھا جب انہوں نے کہا کہ ادارے اس وقت برباد ہوتے ہیں جب انہیں امانت کے بجائے ملکیت سمجھ لیا جائے جب فیصلے اصولوں کے بجائے مفادات کی بنیاد پر کیے جائیں جب محنت کرنے والوں کو نظر انداز کر کے چاپلوسوں کو آگے بڑھایا جائے اور رشتے اس وقت ٹوٹتے ہیں جب بات کرنے کی جگہ خاموشی لے لے، جب سمجھنے کی جگہ الزام لے لے، اور جب محبت کی جگہ انا آ کر بیٹھ جائے۔ انہوں نے ایک گہری سانس لے کر کہا کہ اگر ان تینوں کو بچانا ہے تو سب سے پہلے نیت کو درست کرنا ہوگا، ادارے کو امانت سمجھ کر چلانا ہوگا، شیشے کو احتیاط سے سنبھالنا ہوگا اور رشتے کو سچائی، برداشت اور مکالمے کے ذریعے مضبوط کرنا ہوگا، کیونکہ یہ تینوں ٹوٹ جائیں تو صرف چیزیں نہیں ٹوٹتیں بلکہ انسان کی شناخت، اس کی بنیاد اور اس کا وجود بھی بکھر جاتا ہے۔
بندن میاں نے آخری بار اس ویران پلیٹ فارم کی طرف دیکھا ان کی آنکھوں میں نمی تھی مگر اس نمی میں صرف غم نہیں بلکہ ایک بیداری بھی تھی ایک ایسا شعور جو انہیں یہ سکھا چکا تھا کہ حقیقت کا شیشہ، ادارے کی بنیاد اور رشتے کی ڈور تینوں کو بچانا اس لیے ضروری ہے کہ یہی وہ عناصر ہیں جو معاشرے کو جوڑتے ہیں، جو انسان کو انسان سے اور حال کو مستقبل سے ملاتے ہیں اگر شیشہ ٹوٹ جائے تو عکس بکھر جاتا ہے اگر ادارہ ٹوٹ جائے تو نظام بکھر جاتا ہے اور اگر رشتہ ٹوٹ جائے تو انسان اندر سے ٹوٹ جاتا ہے انہوں نے دل ہی دل میں عہد کیا کہ اصلاح ہمیشہ اوپر سے نہیں بلکہ اندر سے شروع ہوتی ہے ہر فرد اگر اپنے حصے کی دیانت، سچائی اور ذمہ داری کو نبھانا شروع کر دے تو ادارے بھی سنور سکتے ہیں اور رشتے بھی بچ سکتے ہیں اور یہی وہ پیغام تھا جو وہ اس ویرانی سے لے کر جا رہے تھے کہ ٹوٹ پھوٹ کا ماتم کرنے سے بہتر ہے کہ اس کے اسباب کو پہچان کر انہیں دور کیا جائے کیونکہ زندگی کی اصل خوبصورتی تعمیر میں ہے نہ کہ ملبے پر آنسو بہانے میں پھر وہ آہستہ آہستہ پلٹ گئے مگر اس بار ان کے قدموں میں صرف تھکن نہیں بلکہ ایک مقصد بھی شامل تھا جیسے کوئی شخص ویرانی سے سبق لے کر واپسی پر ایک نئی روشنی اپنے اندر سمیٹ لایا ہو۔

Exit mobile version