لاہور: کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے کپتان سعود شکیل نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے گیارہویں سیزن میں اپنی ٹیم کی مایوس کن کارکردگی پر کھل کر بات کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ ایونٹ کے لیے بنائے گئے منصوبے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ لاہور میں جیو نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کپتان کا کہنا تھا کہ اس سیزن میں ٹیم کا وہ کمبی نیشن نہیں بن سکا جس کی توقع کی جا رہی تھی، جس کا براہِ راست اثر نتائج پر پڑا۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ ٹیم کے اہم کھلاڑی (Main Players) وہ کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے جو جیت کے لیے ناگزیر تھی۔
سعود شکیل نے ٹیم کی ساخت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پہلی مرتبہ آکشن (Auction) کے ذریعے نئی ٹیم تشکیل دی گئی تھی، جس کی وجہ سے ہم آہنگی پیدا ہونے میں وقت لگ رہا ہے۔ انہوں نے نوجوان ٹیلنٹ خواجہ نافع کے بارے میں کہا کہ وہ ایک باصلاحیت کھلاڑی ہیں لیکن شاید بہت زیادہ توقعات کے بوجھ نے ان کی کارکردگی کو متاثر کیا، تاہم وہ اس تجربے سے جلد سیکھ لیں گے۔ اسپنرز کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کپتان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے بولرز پر پہلے دن سے اعتماد تھا کیونکہ انہی اسپنرز نے گزشتہ سیزن میں ٹیم کو فتوحات دلوائی تھیں، مگر اس بار قسمت نے ساتھ نہ دیا۔
اپنی انفرادی کارکردگی پر تبصرہ کرتے ہوئے سعود شکیل نے کہا کہ ٹورنامنٹ کا آغاز ان کے لیے اچھا رہا لیکن دوسرے مرحلے میں فارم برقرار نہ رہ سکی۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ وائٹ بال کرکٹ میں اپنی کارکردگی پر کڑی محنت کر رہے ہیں اور مستقبل میں شائقین کو ایک "مختلف سعود شکیل” نظر آئے گا۔ کپتان نے مزید کہا کہ اسٹیو اسمتھ اور گلین میکسویل جیسے عالمی ستاروں کی موجودگی نے نوجوان کھلاڑیوں کو سیکھنے کا بہترین موقع فراہم کیا ہے۔ تاہم، انہوں نے خالی اسٹینڈز پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تماشائیوں کے بغیر کرکٹ کا وہ جوش و خروش (Charm) ختم ہو جاتا ہے جسے تمام کرکٹرز نے شدت سے محسوس کیا۔
