امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز پر مکمل امریکی کنٹرول کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ بہتر ڈیل کے لیے تیار ہیں اور معاہدہ ہونے کی صورت میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دیا جائے گا۔ وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کو ایک بہتر ڈیل کے لیے موقع دیا جا رہا ہے کیونکہ ناکہ بندی کی وجہ سے ایران کا کاروبار معطل ہو کر رہ گیا ہے، تاہم انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران اس وقت اندرونی انتشار کا شکار ہے جس کی وجہ سے یہ واضح نہیں کہ وہاں قیادت کون کر رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکہ ایران میں اپنے 75 فیصد تک اہداف حاصل کر چکا ہے اور اگرچہ ایران نے دو ہفتوں کی جنگ بندی کے دوران اپنی عسکری صلاحیت بحال کرنے کی کوشش کی ہو، لیکن امریکی فوج اسے ایک ہی دن میں ختم کرنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ کسی جلد بازی میں نہیں بلکہ ایک طویل المدتی اور دیرپا امن معاہدہ چاہتے ہیں، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایران کے معاملے میں ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال نہیں کیا جائے گا۔ اس صورتحال کے تناظر میں صدر ٹرمپ نے امریکی عوام کو خبردار کیا کہ انہیں آنے والے کچھ عرصے کے لیے پیٹرول اور گیس کی قیمتیں زیادہ ادا کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
ایران کے ساتھ معاہدہ ہونے کی صورت میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دیا جائے گا: ٹرمپ
