ہم کب اتنے بدل گئے؟

تحریر: بنت شبیر احمد قریشی

یہ سوال آج ہر حساس دل کے کسی نہ کسی کونے میں ضرور اٹھتا ہے کہ آخر ہم کب اتنے بدل گئے؟ کب ہمارے دلوں سے وہ نرمی، وہ خلوص، اور وہ احساس ختم ہو گیا جو کبھی ہماری پہچان ہوا کرتا تھا؟

کبھی ہم ایسے نہیں تھے۔
ہمیں دوسروں کے درد کا شدت سے احساس ہوتا تھا۔ کسی کے چہرے کی اداسی دیکھ کر دل بے چین ہو جاتا، کسی کے آنسو ہمیں رات بھر سونے نہیں دیتے تھے۔ رشتے صرف رسمی تعلقات نہیں تھے بلکہ ایک زندہ احساس تھے، ایک ایسا تعلق جس میں دکھ بانٹے جاتے تھے اور خوشیاں بڑھائی جاتی تھیں۔

مگر آج منظر یکسر بدل چکا ہے۔
ہم ایک ایسی دنیا میں جی رہے ہیں جہاں آوازیں تو بہت ہیں مگر سننے والا کوئی نہیں۔ ہر شخص اپنی زندگی میں اس قدر مصروف ہے کہ اسے دوسرے کے درد کا احساس ہی نہیں ہوتا۔ اگر کوئی دل کی بات کہنا بھی چاہے تو سننے والے کے پاس وقت نہیں، اور اگر وقت ہو بھی تو دل نہیں۔

آج کا انسان عجیب دوراہے پر کھڑا ہے۔
ایک طرف اس کے پاس سہولیات کی بھرمار ہے، رابطوں کے بے شمار ذرائع ہیں، مگر دوسری طرف وہ اندر سے خالی ہوتا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر سینکڑوں دوست، ہزاروں فالوورز، مگر حقیقت میں کوئی ایک ایسا نہیں جس کے سامنے دل کھول کر رو لیا جائے۔

ہم نے رشتوں کو بھی عجیب پیمانوں میں تولنا شروع کر دیا ہے۔
اب تعلقات خلوص پر نہیں بلکہ مفاد پر قائم ہوتے ہیں۔ جہاں فائدہ ختم، وہاں رشتہ بھی ختم۔ دوستی اب ایثار کا نام نہیں رہی بلکہ وقتی ضرورت بن چکی ہے۔ ہم ایک دوسرے کے ساتھ ہوتے ہوئے بھی ایک دوسرے سے دور ہو چکے ہیں۔

سب سے زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ
اب ہمیں اس بے حسی کا احساس بھی نہیں رہا۔
ہم نے اسے معمول سمجھ لیا ہے۔ ہم نے مان لیا ہے کہ یہی زندگی ہے، یہی طریقہ ہے، اور شاید یہی ترقی ہے۔ مگر کیا واقعی ایسا ہے؟

کیا ترقی کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنے احساسات کھو دیں؟
کیا جدید ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ہم دوسروں کے درد سے آنکھیں چرا لیں؟ اگر ایسا ہے تو پھر یہ ترقی نہیں، یہ زوال ہے—ایسا زوال جو انسان کو باہر سے نہیں بلکہ اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ
انسان کی اصل خوبصورتی اس کے احساس میں ہے۔
وہ دل جو دوسروں کے لیے دھڑکتا ہے، وہی زندہ دل ہے۔ ورنہ صرف سانس لینا تو ایک مشین بھی کر سکتی ہے۔

آج ہمیں خود سے ایک سوال کرنے کی ضرورت ہے۔
کیا ہم واقعی زندہ ہیں؟ یا صرف زندگی گزار رہے ہیں؟
کیا ہمارے رشتوں میں اب بھی وہ حرارت باقی ہے، یا وہ صرف نام کے رہ گئے ہیں؟

اب بھی وقت ہے…
ہم رک سکتے ہیں، سوچ سکتے ہیں، اور خود کو بدل سکتے ہیں۔
ہم کسی کے لیے وقت نکال سکتے ہیں، کسی کی بات دل سے سن سکتے ہیں، کسی کے درد کو اپنا درد سمجھ سکتے ہیں۔

یاد رکھیں،
رشتے بڑی چیزوں سے نہیں، چھوٹے چھوٹے احساسات سے زندہ رہتے ہیں۔
"ایک مخلص جملہ، ایک سچی توجہ، ایک خالص جذبہ،” یہی وہ چیزیں ہیں جو ٹوٹتے دلوں کو جوڑ سکتی ہیں۔

اور اگر ہم نے آج بھی خود کو نہ بدلا…
تو آنے والا وقت ہمیں سب کچھ دے کر بھی خالی چھوڑ جائے گا۔
ہمارے پاس لوگ تو ہوں گے، مگر تعلق نہیں…
باتیں تو ہوں گی، مگر احساس نہیں…
اور زندگی تو ہوگی، مگر اس میں کوئی زندگی نہیں ہوگی۔

Exit mobile version