تحریر:محمد انور بھٹی
ویران ریلوے اسٹیشن کی اس شام میں وقت جیسے اپنے قدم روک کر کھڑا ہو گیا تھا اور اس ٹھہراؤ میں ایک ایسی گہرائی شامل تھی جو صرف دیکھنے والوں کو نہیں بلکہ محسوس کرنے والوں کو بھی اپنی گرفت میں لے لیتی ہے فضا میں ایک سنجیدہ خاموشی تیر رہی تھی جس میں ماضی کی بازگشت اور حال کی ویرانی بھی شامل تھی۔ ٹوٹے ہوئے پلیٹ فارم کے فرش پر جمی ہوئی گرد اس حقیقت کی گواہی دے رہی تھی کہ یہاں مدتوں سے کوئی زندگی کا نشان نہیں ابھرا دیواروں کی دراڑیں محض اینٹوں کی کمزوری نہیں ہیں بلکہ ایک طویل لاپرواہی کا نوحہ بیان کررہی ہیں اور چھت کے جھڑے ہوئے حصے اس بے اعتنائی کی علامت تھے جو آہستہ آہستہ ہر آباد جگہ کو کھنڈر میں بدل دیتی ہے دور تک پھیلی ہوئی پٹریاں ایسی محسوس ہو رہی تھیں جیسے امید کے دھاگے کو کسی نے کھینچ کر زمین پر بکھیر دیا ہو اور اب وہ بے جان سا منظر صرف ایک اداس یاد کی صورت میں باقی رہ گیا ہو اور اسی اداسی کے بیچ بندن میاں کی شخصیت ایک ایسے خاموش راوی کی طرح ابھرتی ہے جو لفظوں سے زیادہ اپنی نگاہوں سے کہانی سنانے کا ہنر رکھتا ہے مگر اس بار بندن میاں کسی کردار کے طور پر نہیں بلکہ ایک فکری علامت کے طور پر موجودہے ایک ایسا ذہن جو ویرانی کو صرف دیکھتا نہیں بلکہ اس کے اندر چھپی ہوئی تہذیبی اور انسانی کہانی کو پڑھتا ہے وہ اس لمحے میں ایک عام انسان نہیں ہے بلکہ ایک ایسا شعورہے جو خاموشی کو بولتے ہوئے سن سکتا ہے اور ٹوٹی ہوئی چیزوں کے اندر چھپی مکمل کہانی کو سمجھ سکتا ہے۔
اسی سنسانی کے بیچ ایک ٹوٹے ہوئے بنچ پر بیٹھا ہوا وہ شخص محض ایک تماشائی نہیں ہےبلکہ اس پورے منظر کا ایک انٰی ساقاری ہے اس کی خاموشی میں وہ تمام سوال چھپے ہوئے ہیں جو کچھ افرادسوچتے تو ہیں مگر زبان پر نہیں لا پاتے اور اس کی نگاہوں میں وہ تمام جوابات جھلک رہےہوتے ہیں جو برسوں کے تجربے اور مشاہدے کے بعد دل کے اندر کہیں پختہ ہو تے ہیں بندن میاں کی موجودگی اس بات کی دلیل ہے کہ کچھ لوگ وقت کے بہاؤ میں بہہ جانے کے بجائے اس کے اندر چھپے ہوئے اسرار کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں مگر اس صلاحیت کا مطلب برتری نہیں ہے بلکہ ایک ذمہ داری ہے ایک ایسا بوجھ جس میں انسان دوسروں کے دکھ کو اپنی سوچ میں محسوس کرنے لگتا ہے وہ اس اسٹیشن کو دیکھ تو رہے تھے مگر دراصل وہ ایک پورے معاشرے کو پڑھ رہے ہیں ان کے لیے یہ جگہ صرف اینٹوں اور لوہے کا مجموعہ نہیں ہیں بلکہ ایک زندہ استعارہ ہے ایک ایسا استعارہ جس میں وقت، لاپرواہی اور انسانی بے حسی ایک دوسرے میں گڈمڈ ہو چکے ہیں۔
یہ ادراک بندن میاں کے ذہن میں محض ایک خیال نہیں تھا بلکہ ایک مکمل فکری نظام ہے جو اس ویران مقام سے نکل کر انسانی رویوں تک پھیل رہا ہے وہ سمجھ رہے ہیں کہ جس طرح یہ اسٹیشن ایک دن میں ویران نہیں ہوا اسی طرح انسانی رشتے بھی ایک لمحے میں نہیں ٹوٹتے یہ ایک مسلسل عمل ہے، ایک خاموش سفر ہے جس میں احساس کی موت آہستہ آہستہ واقع ہوتی ہے پہلے لوگ قریب ہوتے ہیں، پھر وہ مصروف ہو جاتے ہیں، پھر وہ صرف رسمی رہ جاتے ہیں، پھر وہ خاموش ہو جاتے ہیں اور آخرکار وہ ایک دوسرے کی زندگی سے ایسے نکل جاتے ہیں جیسے کبھی تھے ہی نہیں اور یہی سب سے بڑا المیہ ہے کہ ٹوٹنا محسوس بھی نہیں ہوتا بس ایک دن انسان کو اندازہ ہوتا ہے کہ جو چیز کبھی زندگی تھی وہ اب صرف یاد ہے۔
انسانی فطرت کا یہ پہلو بندن میاں کے لیے ہمیشہ غور طلب رہا کہ لوگ براہ راست ختم کیوں نہیں کرتے بلکہ آہستہ آہستہ دور کیوں ہو جاتے ہیں وہ جانتے وہ سمجھتے ہیں کہ اس کے پیچھے کمزوری بھی ہے اور خودغرضی بھی کیونکہ انسان اکثر اس سچائی کا سامنا نہیں کر پاتا کہ وہ کسی رشتے کو مزید نہیں نبھا سکتا اس لیے وہ ایک ایسا راستہ اختیار کرتا ہے جس میں فیصلہ بھی اس کا نہ لگے اور ذمہ داری بھی اس پر نہ آئےاور وہ رویوں کو بدل دیتا ہے لہجوں کو سرد کر دیتا ہے ملاقاتوں کو کم کر دیتا ہے اور دوسرے انسان کو اس مقام تک پہنچا دیتا ہے جہاں وہ خود ہی پیچھےہٹ جائے اور یہی وہ خاموش طریقہ ہے جو سب سے زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے کیونکہ اس میں نہ کوئی واضح انجام ہوتا ہے اور نہ کوئی آخری لفظ صرف ایک دھند ہوتی ہے جو آہستہ آہستہ ہر تعلق کو نگل لیتی ہے۔
یہی کیفیت اس اسٹیشن کی دیواروں میں بھی جھلک رہی ہے جو اپنی جگہ موجود تو ہیں مگر ان کی معنویت ختم ہو چکی ہے جیسے کسی انسان کا جسم تو زندہ ہو مگر اس کی روح کہیں کھو گئی ہو یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب بندن میاں کو احساس ہوتاہے کہ موجود ہونا کافی نہیں ہوتا جینا تب ہی مکمل ہوتا ہے جب اس موجودگی میں توجہ، احساس اور تسلسل شامل ہو ورنہ ہر چیز صرف ایک خالی ڈھانچہ بن کر رہ جاتی ہے اور یہی بات معاشرے پر بھی لاگو ہوتی ہے جہاں ادارے، رشتے، خاندان اور نظام سب موجود ہوتے ہیں مگر ان کے اندر زندگی کی حرارت کم ہوتی جاتی ہے۔
پٹریاں جو کبھی اس جگہ کی حرکت کی علامت تھیں اب خاموش زنگ آلود نشان بن چکے ہیں یہ ٹوٹی ہوئی پٹریاں بندن میاں کے لیے صرف فولاد کے ٹکڑے نہیں ہیں بلکہ بکھرے ہوئے انسانی تعلقات کی تصویرہیں وہ تعلقات ہیں جو کبھی ایک سمت میں چلتے تھے ایک دوسرے سے جڑے ہوتے تھے ایک دوسرے کو منزل تک لے جاتے تھے مگر اب وہ یا تو ٹوٹ چکے تھے یا اپنی سمت کھو چکےہیں اور یہی سب سے بڑا نقصان ہوتا ہے کہ انسان چل رہا ہوتا ہے مگر اس کی سمت ختم ہو چکی ہوتی ہے۔
اس ویرانی کے اندر بندن میاں کو ایک اور گہری حقیقت یہ دکھائی دی کہ ہر بربادی کے پیچھے صرف بڑا حادثہ نہیں ہوتا بلکہ چھوٹے چھوٹے نظر انداز کیے گئے لمحے ہوتے ہیں وہ لمحے جب کسی کی بات کو بھی اہمیت نہیں دی گئی جب کسی کے احساس کو نظر انداز کیا گیا جب کسی کی خاموشی کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی گئی یہی چھوٹے لمحے بڑے انجام کو جنم دیتے ہیں اور انسان کو اس وقت سمجھ آتی ہے جب کچھ باقی نہیں رہتا۔
یہ اسٹیشن بندن میاں کے لیے ایک آئینہ بن گیا ہے ایک ایسا آئینہ جس میں وہ صرف عمارت نہیں بلکہ انسانی رویوں کی مکمل تصویر دیکھ رہے ہیں وہ سمجھ رہے ہیں کہ معاشرہ بھی اسی طرح ٹوٹتا ہے نہ ایک دن میں، نہ ایک حادثے میں، بلکہ مسلسل لاپرواہی میں جب ہر فرد اپنی ذمہ داری سے ہٹ جاتا ہے جب ہر شخص صرف اپنے فائدے کو دیکھتا ہے جب احساس کی جگہ مفاد لے لیتا ہے تب ایک ایسا ماحول پیدا ہوتا ہے جہاں سب کچھ موجود ہوتا ہے مگر کچھ بھی زندہ نہیں ہوتا۔
یہی وہ مقام تھا جہاں بندن میاں کی سوچ فرد سے نکل کر اجتماع تک پہنچ گئی وہ اب صرف ایک اسٹیشن کو نہیں دیکھ رہے تھے بلکہ ایک پوری تہذیب کو دیکھ رہے تھے جو اپنی بنیادوں سے دور ہو رہی تھی وہ سمجھ رہے ہیں کہ معاشرتی زوال کسی شور سے نہیں آتا بلکہ خاموشی سے آتا ہے اور یہی خاموشی سب سے زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔
اس خاموشی کے اندر ایک عجیب سا سبق چھپا ہوا ہوتا ہے کہ انسان اگر اپنے تعلقات کو وقت نہ دے اگر وہ احساس کو زندہ نہ رکھے اگر وہ توجہ کو معمولی سمجھ لے تو وہی انجام اس کا بھی ہوتا ہے جو اس اسٹیشن کا ہوا ہے ایک دن وہ بھی صرف ایک جگہ رہ جاتا ہے جہاں سب کچھ موجود ہوتا ہے مگر کوئی بھی اسے زندہ نہیں سمجھتا۔
بندن میاں نے اس لمحے میں یہ بھی محسوس کیا کہ انسان کی اصل آزمائش یہی ہے کہ وہ ویرانی سے پہلے بیدار ہو جائے، وہ ٹوٹنے سے پہلے سنبھل جائے، وہ ختم ہونے سے پہلے سمجھ جائے مگر اکثر انسان اس وقت سمجھتا ہے جب کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔
یہ اسٹیشن اب صرف ایک مقام نہیں تھا بلکہ ایک زندہ سبق کی صورت اختیار کر چکا ہے ایک ایسی خاموش مگر واضح یاد دہانی جو ہر آنے والے ذہن کو یہ احساس دلا رہی تھی کہ لاپرواہی وقت کے ساتھ مل کر کس طرح ہر شے کی بنیادیں ہلا دیتی ہے اور جو چیز آج معمول، عام اور محفوظ محسوس ہوتی ہے وہ کل ایک شکستہ کھنڈر میں تبدیل ہو سکتی ہے جہاں نہ صرف راستے ختم ہو جاتے ہیں بلکہ معنی بھی اپنی آخری سانس لے لیتے ہیں۔
اور بندن میاں کے لیے یہی اس پورے منظر کی سب سے بڑی اور گہری سچائی ہے کہ ویرانی کبھی اچانک نازل نہیں ہوتی بلکہ یہ ہمیشہ اندر سے جنم لیتی ہے آہستہ آہستہ احساس کی زمین میں دراڑیں ڈالتی ہے تعلقات کی بنیادوں کو کھوکھلا کرتی ہے اور جب اندر کی یہ خاموش ٹوٹ پھوٹ مکمل ہو جاتی ہے تو پھر باہر صرف ایک بے جان ڈھانچہ باقی رہ جاتا ہے ایک ایسا نشان جو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ جو کچھ نظر آ رہا ہے وہ کبھی زندہ ضرور تھا مگر اب صرف ماضی کی ایک خاموش علامت بن چکا ہے۔
یہی اس منظرنامے کا اصل شعور ہے جو خاموشی کے پردوں میں چھپا ہوا ہے اور جسے صرف وہی دل پڑھ سکتے ہیں جو شور میں بھی معنی تلاش کرنے اور خاموشی میں بھی آواز سننے کا ہنر رکھتے ہیں کیونکہ ویرانی کبھی صرف جگہوں پر نہیں اترتی بلکہ یہ پہلے احساسات میں اترتی ہے اور پھر رفتہ رفتہ پوری فضا کو اپنے رنگ میں رنگ دیتی ہے اور یہی وہ حقیقت ہے جو اس پورے فکری منظرنامے کو ایک گہرا ادراک عطا کرتی ہے۔
