ایشیا ٹائمز کی رپورٹ: خطے میں پاکستان کی کامیاب سفارت کاری نے بھارت کو پیچھے چھوڑ دیا، امریکہ کے لیے اب بھارت پر بھروسہ مشکل

بین الاقوامی جریدے ”ایشیا ٹائمز“ نے اپنی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ تیزی سے بہتر ہوتے ہوئے تعلقات کے بعد اب امریکہ کے لیے بھارت پر پہلے جیسا اعتماد برقرار رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ کشیدگی اور جنگی صورتحال میں پاکستان نے ایک کلیدی ثالث کے طور پر انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے، جبکہ اس دوران خطے کے اہم معاملات پر بھارتی سفارت کاری مکمل طور پر خاموش اور غیر مؤثر نظر آئی۔

جریدے کی رپورٹ میں موازنہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اپنی بات چیت کو محض تیل کی قیمتوں اور سپلائی چین تک محدود رکھا، اس کے برعکس پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے فعال سفارت کاری کے ذریعے خطے میں امن کی بحالی کے لیے عملی کوششیں کیں۔ پاکستان نے جنگ بندی کے لیے امریکی اور ایرانی حکام کے ساتھ مسلسل رابطے برقرار رکھے، جس کے نتائج اب مثبت صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔

ایشیا ٹائمز کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان سمیت عالمی برادری نے پاکستان کے اس مصالحتی کردار کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ صدر ٹرمپ حالیہ دنوں میں کئی بار وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت کو سراہتے ہوئے انہیں بہترین شخصیات قرار دے چکے ہیں۔ دوسری جانب، اس سفارتی ناکامی پر بھارت کے اندر اپوزیشن رہنماؤں اور میڈیا کی جانب سے نریندر مودی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ عالمی سطح پر بھارت اپنا اثر و رسوخ کھو رہا ہے۔

Exit mobile version