امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت ترین موقف اپناتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ان کے خصوصی نمائندے مذاکرات کے لیے اسلام آباد پہنچ رہے ہیں۔ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل” پر جاری بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکی وفد کل شام تک اسلام آباد میں موجود ہوگا تاکہ اہم معاملات پر بات چیت کی جا سکے۔
صدر ٹرمپ نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں فائرنگ کے واقعے کو سیز فائر کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کا آبنائے ہرمز بند کرنے کا اعلان مضحکہ خیز ہے، کیونکہ امریکی ناکہ بندی کی وجہ سے یہ راستہ پہلے ہی بند ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ اس بندش سے ایران کو روزانہ 500 ملین ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے جبکہ امریکہ پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑ رہا۔
ایرانی قیادت کو حتمی وارننگ دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا، "ہم ایران کو ایک اچھے معاہدے کی پیشکش کر رہے ہیں، امید ہے وہ اسے قبول کر لے گا، ورنہ امریکہ ایران کے ہر پاور پلانٹ اور ہر پل کو تباہ کر دے گا۔” انہوں نے مزید کہا کہ اب مزید نرمی نہیں برتی جائے گی اور وہ ایران کی "کلنگ مشین” کو ختم کرنے کے لیے وہ سب کچھ کریں گے جو گزشتہ 47 سالوں میں دیگر صدور کو کرنا چاہیے تھا۔
