شمالی کوریا کا ایک بار پھر متعدد بیلسٹک میزائلوں کا تجربہ، جنوبی کوریا میں ہنگامی سکیورٹی اجلاس طلب

شمالی کوریا نے عالمی پابندیوں کو ہوا میں اڑاتے ہوئے آج ایک بار پھر متعدد بیلسٹک میزائلوں کا تجربہ کیا ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔ جنوبی کوریا کی فوج کے مطابق، یہ میزائل شمالی کوریا کے مشرقی ساحلی شہر سنپو کے قریب سے مقامی وقت کے مطابق صبح 6 بج کر 10 منٹ پر فائر کیے گئے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، میزائلوں نے تقریباً 140 کلومیٹر تک پرواز کی اور جزیرہ نما کوریا کے مشرقی ساحل کے قریب سمندر میں جا گرے۔

رپورٹ کے مطابق، رواں ماہ میں شمالی کوریا کا یہ چوتھا جبکہ رواں سال کا ساتواں میزائل تجربہ ہے۔ جاپانی حکومت نے بھی سوشل میڈیا کے ذریعے ان میزائلوں کے سمندر میں گرنے کی تصدیق کی ہے۔ میزائل تجربات کے فوری بعد جنوبی کوریا کے صدارتی دفتر ‘بلیو ہاؤس’ نے ہنگامی سکیورٹی اجلاس طلب کر لیا۔ جنوبی کوریا نے ان تجربات کو کھلی اشتعال انگیزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔

اگرچہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ فائر کیے گئے میزائل کس نوعیت کے تھے، تاہم دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ سنپو کا علاقہ شمالی کوریا کی آبدوزوں اور آبدوز سے داغے جانے والے بیلسٹک میزائلوں (SLBM) کے تجربات کے لیے مشہور ہے، جس سے اس تجربے کی حساسیت مزید بڑھ گئی ہے۔

Exit mobile version