دنیا کی قدیم ترین اور معتبر ترین "بوسٹن میراتھون” کے 130ویں ایڈیشن میں پاکستان اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے 14 رنرز پیر کے روز اپنی مہارت کے جوہر دکھائیں گے، اس تاریخی میراتھون میں رواں سال 137 ممالک سے 30 ہزار سے زائد رنرز حصہ لے رہے ہیں، پاکستانی دستے میں کراچی پولیس کے کانسٹیبل امجد علی سب کی توجہ کا مرکز ہیں، جنہوں نے کراچی میراتھون میں شاندار کارکردگی کی بنیاد پر بوسٹن میراتھون کے لیے کوالیفائی کیا، امجد علی 2024 میں استنبول میراتھون میں بھی پاکستان کے تیز ترین رنر رہ چکے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے کراچی کی سڑکوں پر سخت محنت کی ہے اور وہ اپنا بہترین وقت (Personal Best) دینے کے لیے پرعزم ہیں، ان کے ساتھ ساتھ کراچی کے نامور میکسلوفیشل سرجن اور سماجی کارکن ڈاکٹر جہانزیب مغل بھی اس دوڑ کا حصہ ہیں، جو بوسٹن میں اپنا چھٹا "ورلڈ میجر اسٹار” حاصل کریں گے، ڈاکٹر جہانزیب مغل اپنی اس دوڑ کو اورل کینسر کے مریضوں کے مفت علاج کے مقصد سے جوڑے ہوئے ہیں، اس سال پاکستانی رنرز کی فہرست میں عامر بٹ، بلال احسان، حمید بٹ، ماہین شیخ، اور نوشیروان علی سمیت دیگر کئی باصلاحیت ایتھلیٹس شامل ہیں، ماہرین کے مطابق محدود سہولیات کے باوجود عالمی سطح پر پاکستانی رنرز کی بڑھتی ہوئی شرکت ملک میں میراتھون رننگ کے بڑھتے ہوئے رجحان کی عکاس ہے۔
بوسٹن میراتھون 2026: کراچی کے پولیس کانسٹیبل سمیت 14 پاکستانی رنرز دنیا کی قدیم ترین دوڑ میں ایکشن میں نظر آئیں گے
