ڈنگہ (سٹاف رپورٹر) ایم پی اے اور راہنما مسلم لیگ ق چوہدری اعجاز احمد رنیاں نے کہا ہے کہ ماضی میں ہمیشہ بڑے شہروں اور مرکزی شاہراہوں کی تعمیر پر زور دیا جاتا رہا جس کے باعث ہزاروں دیہات اچھی سڑکوں سے محروم رہ جاتے تھے اور کسانوں کو کھیت سے منڈی تک اپنی اجناس پہنچانے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا، تاہم میں نے یہ عزم کر رکھا تھا کہ دیہات کی مرکزی سڑکوں تک رسائی کے لئے رابطہ سڑکوں کی تعمیر کو ہر صورت یقینی بناؤں گا۔ انہوں نے اس سلسلے میں اپنی مرکزی قیادت اور وزیر اعلیٰ پنجاب کو باور کروایا کہ میرے حلقہ پی پی 34 میں اوورسیز پاکستانیوں کی بڑی تعداد رہائش پذیر ہے جو ملک کے لیے محنت کر کے سالانہ بھاری زر مبادلہ بھیجتے ہیں، اسی بنیاد پر میں نے مطالبہ کیا کہ میرے حلقہ کو دیگر حلقوں کے مقابلے میں ترجیحی فنڈز دیئے جائیں جس پر مسلم لیگ ق کی مرکزی قیادت اور وزیر اعلیٰ پنجاب نے اتفاق کیا اور جب تمام صوبائی حلقوں کو 40 کروڑ کے فنڈز ملے تو میرے حلقہ پی پی 34 کے لیے خصوصی طور پر 80 کروڑ روپے کے فنڈز جاری کیے گئے۔ چوہدری اعجاز احمد رنیاں نے بتایا کہ ان فنڈز کے تحت 7 بڑے منصوبے شروع کیے گئے ہیں جن میں نہر اپر جہلم سے گاؤں کراڑی والا اور چنن براستہ گردنانوالہ ساڑھے 4 کلو میٹر روڈ کی تعمیر شامل ہے جس پر 27 کروڑ روپے لاگت آئے گی اور یہاں منگل سے مشینری پہنچ جائے گی، جبکہ دیگر جاری منصوبوں میں گاکھڑہ تا راجیکی براستہ جامبولا، ودھرا، سیکریالی اور بخت جمال کارپٹ روڈ پر 25 کروڑ روپے، چھماں اڈا تا شیر گڑھ روڈ پر 9 کروڑ 48 لاکھ روپے، منگووال تا شاہ روڈو سڑک پر 5 کروڑ روپے اور خوجہ تا نہر اپر جہلم روڈ پر 19 کروڑ 66 لاکھ روپے خرچ کیے جائیں گے، یوں مجموعی طور پر 80 کروڑ روپے کی لاگت سے ان کارپٹ سڑکوں کی تعمیر کا کام مکمل کیا جائے گا۔
حلقہ پی پی 34 میں 80 کروڑ روپے کے فنڈز سے 7 بڑے منصوبے شروع کیے گئے ہیں: چوہدری اعجاز احمد رنیاں
