بدھووال میں خونی کھیل: نامعلوم قاتلوں نے بوڑھے میاں بیوی کو کلہاڑیوں اور خنجروں سے بے دردی سے ذبح کر دیا

ڈنگہ (کرائم رپورٹر) ڈنگہ کے نواحی گاؤں بدھووال میں دوہرے قتل کی ایک ہولناک اور دل دہلا دینے والی واردات سامنے آئی ہے، جہاں سفاک، نا معلوم قاتلوں نے ایک ضعیف العمر میاں بیوی کو کلہاڑیوں اور خنجروں کے بے دردی سے وار کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا۔

تفصیلات کے مطابق، مقتول محمد عنصر ولد فضل داد گوجر (عمر 54/55 سال) اور ان کی اہلیہ منزہ بی بی (عمر 54/55 سال) اپنے گھر میں اکیلے رہائش پذیر تھے۔ ان کا اکلوتا بیٹا اپنی فیملی کے ساتھ بیرون ملک مقیم ہے۔ واردات کے وقت مقتول محمد عنصر کا بھائی، غلام سرور ولد فضل داد، اور اس کا چچا زاد بھائی، عبداللہ خان ولد اکبر علی گوجر، گھر کی بالائی منزل پر سو رہے تھے، جبکہ محمد عنصر اور ان کی اہلیہ منزہ نیچے والے کمروں میں آرام کر رہے تھے۔

مورخہ 18 اپریل کو رات کے تقریباً 12 بج کر 45 منٹ پر، غلام سرور اور عبداللہ خان نے نیچے والی منزل سے چیخ و پکار اور شور واویلا کی آوازیں سنیں۔ وہ گھبرا کر نیچے اترے تو ایک وحشتناک منظر ان کا منتظر تھا۔ انہوں نے دیکھا کہ چند نا معلوم افراد ان کی بھابھی، منزہ بی بی، پر کلہاڑیوں اور خنجروں سے پے در پے وار کر رہے تھے۔ گھر والوں کو دیکھتے ہی تمام ملزمان ہال کے شمالی دروازے سے فرار ہو گئے۔ بدقسمتی سے، منزہ بی بی شدید زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر ہی جاں بحق ہو گئی۔

جب غلام سرور اور عبداللہ خان خوف کے عالم میں بیٹھک کی طرف بڑھے، تو وہاں ان کے بھائی محمد عنصر کی خون میں لت پت لاش پڑی تھی۔ انہیں بھی اسی بے دردی سے کلہاڑیوں اور خنجروں سے وار کر کے قتل کیا گیا تھا۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی ڈنگہ پولیس کی بھاری نفری فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی۔ گوجرانوالہ سے کرائم یونٹ کی خصوصی ٹیم بھی طلب کی گئی، جس نے جائے وقوعہ کا باریک بینی سے جائزہ لیا اور شواہد اکٹھے کیے۔ ایس ایچ او تھانہ ڈنگہ، جہانگیر احمد چدھڑ، نے مقتول محمد عنصر کے بھائی غلام سرور کی درخواست پر نامعلوم ملزمان کے خلاف دوہرے قتل کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔

پولیس نے دونوں لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لئے ٹی ایچ کیو ہسپتال، کھاریاں، منتقل کیا۔ پوسٹ مارٹم کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد میتیں ورثاء کے حوالے کر دی گئیں۔ ورثاء نے پولیس کو کسی بھی دشمنی یا مشکوک افراد کے بارے میں کچھ نہیں بتایا ہے۔ پولیس نے مقدمہ درج کر کے مختلف زاویوں سے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے تاکہ ان سفاک قاتلوں کو جلد از جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔

Exit mobile version