دنیا بارود کے دہانے پر، بندن میاں کی آوازِ تدبر

تحریر: محمد انور بھٹی

بندن میاں نہ خود کو کسی مسند کا آدمی سمجھتے ہیں نہ کسی بڑے فلسفی کا دعویٰ رکھتے ہیں نہ وہ اپنے قلم کو کوئی آہنی نیزہ سمجھتے ہیں جو ایک ہی وار میں زمانے کے سینے کو چیر دے بلکہ وہ تو ایک معمولی سا طالب علم ہیں ایک ایسا طالب علم جو ابھی لفظوں کی سیڑھیاں چڑھ رہا ہے جو ابھی کتابوں کی خوشبو سے اپنے شعور کو آشنا کر رہا ہے جو ابھی سیکھنے سمجھنے اور ٹوٹے پھوٹے جملوں کو فکر کی لڑی میں پرونے کے مرحلے سے گزر رہا ہے مگر بعض اوقات تاریخ کے بڑے موڑوں پر سادہ دلوں کی آواز ہی سب سے سچی محسوس ہوتی ہے ۔اور بندن میاں کی یہی سادگی اس تحریر کی اصل روح ہے کہ وہ دنیا کے پیچیدہ ترین معاملات کو بھی انسانیت کی آنکھ سے دیکھتے ہیں طاقت کی نہیں مفاد کی نہیں بلکہ امن اور بقا کی آنکھ سے دیکھتے ہیں۔دو روز قبل تک دنیا کی نظریں پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد پر مرکوز تھیں جہاں سفارت کاری کے چراغ روشن تھے اور امید کی شمعیں جل رہی تھیں دنیا کے بڑے بڑے ایوانوں میں بیٹھے ہوئے لوگ اسی شہر کی طرف متوجہ تھے جہاں یہ کوشش کی جا رہی تھی کہ دہائیوں پر محیط بداعتمادی اور کشیدگی کو کسی نہ کسی طرح مکالمے کی میز تک لایا جائے مگر آج ایک بار پھر تمام نگاہیں آبنائے ہرمز کی طرف اٹھ گئی ہیں جہاں سے آنے والی خبریں نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے اضطراب اور بے چینی کا باعث بن رہی ہیں حالیہ اطلاعات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سخت اور دھمکی آمیز بیانات کے بعد امریکی بحریہ نے آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی کے اقدامات شروع کیے ہیں جس نے عالمی سطح پر تشویش کی نئی لہر دوڑا دی ہے اور عالمی میڈیا بھی اس صورتحال کو انتہائی نازک قرار دے رہا ہے۔ �
بندن میاں کے نزدیک یہ محض ایک سمندری گزرگاہ کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ پوری دنیا کی معاشی شہ رگ کا سوال ہے کیونکہ آبنائے ہرمز وہ مقام ہے جہاں سے عالمی تجارت خصوصاً تیل کی ترسیل کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے اور یہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی کا مطلب صرف جنگی خطرہ نہیں بلکہ دنیا بھر میں مہنگائی بے یقینی اور اقتصادی دباؤ کا بڑھ جانا بھی ہے یہی وجہ ہے کہ برطانیہ چین روس ترکی اور دیگر کئی ممالک نے اس صورتحال کو نیک شگون نہیں سمجھا اور مذاکرات کی میز پر واپسی کو ہی مسئلے کا واحد پائیدار حل قرار دیا ہے۔ �
بندن میاں بار بار یہی عرض کرتے ہیں کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتی جنگ ہمیشہ قبروں کی تعداد بڑھاتی ہے امن کے چراغ گل کرتی ہے معیشتوں کو کھوکھلا کرتی ہے اور نسلوں کے مستقبل کو اندھیروں میں دھکیل دیتی ہے جنگ کے بعد فاتح بھی زخمی ہوتا ہے اور مفتوح بھی برباد ہوتا ہے اس لیے اصل کامیابی بندوق کی نالی سے نہیں بلکہ سفارت کاری کی میز سے جنم لیتی ہے بندن میاں کے نزدیک خون سے لکھی گئی سرحدیں کبھی دلوں میں امن پیدا نہیں کرتیں بلکہ صرف نفرت کی نئی دیواریں کھڑی کرتی ہیں۔یہاں پاکستان کے کردار کو نظر انداز کرنا ناانصافی ہوگی اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات نے کم از کم یہ ثابت کیا کہ پاکستان نے ایک سنجیدہ اور ذمہ دار ریاست کے طور پر اپنے سفارتی کردار کو نہایت متانت اور دانشمندی سے نبھایا ہے دنیا کی دو متصادم قوتوں کو ایک میز پر لانا کوئی معمولی کارنامہ نہیں ہوتا بالخصوص ایسے وقت میں جب نصف صدی سے زائد عرصے پر محیط بداعتمادی کے سائے موجود ہوں پاکستان نے یہ ثابت کیا کہ اگر نیت صاف ہو پالیسی متوازن ہو اور قیادت میں تدبر ہو تو ناممکن دکھائی دینے والے راستے بھی ہموار کیے جا سکتے ہیں یہی وہ لمحہ ہے جہاں پاکستانی حکمرانوں اور سفارتی حلقوں کو داد تحسین پیش کرنا بنتا ہے کہ انہوں نے عالمی امن کے لیے ایک مثبت اور قابل قدر کردار ادا کیا۔ �
بندن میاں یہ بھی سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی یہ کوشش محض ایک علاقائی اقدام نہیں بلکہ عالمی ذمہ داری کا اظہار ہے کیونکہ جب دنیا کے طاقتور ممالک تصادم کی طرف بڑھ رہے ہوں تو ایسے میں کوئی ملک اگر مفاہمت اور مکالمے کا دروازہ کھولے تو وہ دراصل پوری انسانیت کی خدمت کر رہا ہوتا ہے پاکستان نے اسی جذبے کے ساتھ یہ کردار ادا کیا اور یہ امید کی جا سکتی ہے کہ دنیا اس سنجیدہ کوشش کو محض ایک سفارتی واقعہ نہیں بلکہ امن کی ایک بنیاد کے طور پر دیکھے گی۔امریکہ کے لیے بھی بندن میاں کا پیغام نہایت واضح اور دو ٹوک ہے کہ طاقت کا استعمال وقتی دباؤ تو پیدا کر سکتا ہے مگر دیرپا امن نہیں امریکہ اگر واقعی خود کو عالمی امن کا داعی سمجھتا ہے تو اسے دھمکی آمیز لہجے سے نکل کر سنجیدہ سفارت کاری کی راہ اپنانی ہوگی بحری ناکہ بندی اور سخت بیانات وقتی سیاسی فائدہ تو دے سکتے ہیں مگر یہ اقدامات پورے خطے کو ایک وسیع تر بحران میں دھکیل سکتے ہیں جس کے اثرات واشنگٹن سے لے کر ایشیا اور یورپ تک محسوس کیے جائیں گے۔ �
بندن میاں امریکہ کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ طاقت کا اصل حسن اس کے بےمحابا استعمال میں نہیں بلکہ اس کے ضبط، تحمل اور دانشمندانہ استعمال میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ عظمت اس میں نہیں کہ آپ دنیا کے دلوں میں خوف، اضطراب اور بے یقینی کو جنم دیں بلکہ حقیقی بزرگی اس میں ہے کہ آپ اپنے اثر و رسوخ کو امن، استحکام اور مفاہمت کے فروغ کے لیے بروئے کار لائیں۔ اگر امریکہ واقعی اپنی عالمی ساکھ، سیاسی وقار اور اخلاقی حیثیت کو مستحکم رکھنا چاہتا ہے تو اسے دھمکی آمیز بیانات، اشتعال انگیز لہجے اور طاقت کے مظاہرے سے گریز کرتے ہوئے سنجیدگی کے ساتھ مذاکرات کی میز پر واپس آنا ہوگا۔ دنیا پہلے ہی جنگوں، معاشی دباؤ اور انسانی المیوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے، ایسے میں مزید سخت بیانات نہ صرف خطے میں کشیدگی کو بڑھا سکتے ہیں بلکہ عالمی امن کے امکانات کو بھی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ امریکہ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ طاقتور وہ نہیں جو اپنے مخالف کو دباؤ میں لے آئے بلکہ اصل قوت اس قیادت میں ہوتی ہے جو بگڑتے ہوئے حالات کو تدبر، بردباری اور سفارت کاری کے ذریعے سنبھال لے۔ آج وقت کا تقاضا یہی ہے کہ الفاظ میں تلخی کے بجائے نرمی، بیانات میں دھمکی کے بجائے مفاہمت، اور پالیسی میں تصادم کے بجائے امن کی سنجیدہ خواہش نظر آئے تاکہ دنیا ایک اور بڑے بحران سے محفوظ رہ سکے اور مذاکرات کا راستہ دوبارہ روشن ہو سکے۔
بندن میاں اپنی سادہ مگر درد مند نگاہ سے جب عالم اسلام کے افق پر چھائے ہوئے یہ گہرے بادل دیکھتے ہیں تو ان کا دل بے اختیار امت کے نام ایک سنجیدہ پیغام بن جاتا ہے۔ وہ عرض کرتے ہیں کہ یہ وقت خاموش تماشائی بنے رہنے کا نہیں بلکہ بیداری، اتحاد اور بصیرت کا ہے۔ آج اگر کسی ایک مسلم خطے میں آگ بھڑکتی ہے تو اس کی تپش صرف اسی سرزمین تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کی چنگاریاں پوری امت کے دامن کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہیں۔ بندن میاں عالم اسلام کے تمام قائدین، اہل دانش اور بااثر ریاستوں سے یہ التجا کرتے ہیں کہ وہ اپنے باہمی اختلافات، وقتی سیاسی مفادات اور داخلی کشمکش سے بلند ہو کر امت کے اجتماعی امن، وقار اور بقا کو مقدم رکھیں۔ یہ وقت صرف مذمتی بیانات جاری کرنے یا رسمی تشویش کے اظہار کا نہیں بلکہ عملی حکمت، سنجیدہ سفارت کاری اور مشترکہ لائحۂ عمل اختیار کرنے کا ہے۔ اگر آج بھی مسلم دنیا منتشر آوازوں میں بات کرتی رہی تو تاریخ اس خاموشی کو کمزوری نہیں بلکہ غفلت کے نام سے یاد کرے گی۔ بندن میاں چاہتے ہیں کہ عالم اسلام اپنی تمام سیاسی، سفارتی اور اخلاقی قوت کو بروئے کار لاتے ہوئے دنیا کو یہ واضح پیغام دے کہ امن ہماری اولین ترجیح ہے مگر کسی ایک طاقت کو یہ اختیار نہیں دیا جا سکتا کہ وہ اپنی منشا کے مطابق پورے خطے کے امن کو یرغمال بنا لے۔ امت مسلمہ کو چاہیے کہ وہ ایک مضبوط، متفق اور باوقار آواز کے ساتھ مذاکرات، تحمل اور انصاف پر مبنی حل کی حمایت کرے تاکہ مزید خون خرابہ، معاشی تباہی اور انسانی المیے سے بچا جا سکے۔ بندن میاں کے نزدیک اتحاد ہی وہ قوت ہے جو امت کو کمزوری سے نکال کر وقار، استحکام اور امن کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے۔اور اگر آج عالم اسلام نے اپنی اجتماعی دانش اور صلاحیت کو بروئے کار نہ لایا تو آنے والی نسلیں اس خاموشی کی قیمت ادا کریں گی۔ یہی وقت ہے کہ مسلم دنیا بیدار ہواپنے کردار کا احساس کرے اور دنیا میں امن کے قیام کے لیے اپنی ذمہ داری پوری کرے۔
بندن میاں اپنے مخصوص دھیمے مگر دل میں اتر جانے والے انداز میں عالم کی بڑی طاقتوں کو یوں مخاطب کرتے ہیں کہ اے چین، اے روس، اے برطانیہ، اے جرمنی اور اے مغرب کی دیگر بااثر ریاستو اب وقت محض خاموش نظارہ کرنے کا نہیں رہا۔ دنیا اس وقت ایک ایسے دہانے پر کھڑی ہے جہاں ایک غلط بیان، ایک اشتعال انگیز اقدام اور ایک غیر ذمہ دارانہ فیصلہ پوری انسانیت کو ایک نئے بحران میں دھکیل سکتا ہے۔ بندن میاں کہتے ہیں کہ اگر آپ واقعی خود کو عالمی امن کے نگہبان سمجھتے ہیں تو پھر لازم ہے کہ آپ اپنی سفارتی قوت، سیاسی اثر و رسوخ اور بین الاقوامی اداروں میں اپنی آواز کو پوری سنجیدگی کے ساتھ بروئے کار لائیں۔ ایسے تمام عناصر، قوتوں اور کرداروں کو ایک واضح اور دو ٹوک شٹ اپ کال دی جائے جن کے قول و فعل سے جنگ کے شعلے مزید بھڑکتے ہوں، جن کی زبان سے نکلنے والے الفاظ بارود کا کام کرتے ہوں اور جن کے فیصلے دنیا کے امن کو یرغمال بنانے کا سبب بن رہے ہوں۔
بندن میاں عرض کرتے ہیں کہ طاقتور قوموں کی اصل ذمہ داری صرف اپنے مفادات کی حفاظت نہیں بلکہ انسانیت کے اجتماعی مستقبل کی پاسبانی بھی ہے۔ اگر کوئی قوت اپنی خواہش ضد یا سیاسی مفاد کے تحت دنیا کو مسلسل تصادم کی طرف دھکیل رہی ہے تو اسے سفارتی سطح پر سخت اور واضح پیغام دیا جانا چاہیے کہ اب دنیا مزید آگ اور خون کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ چین اپنی حکمت، روس اپنی عالمی رسائی، برطانیہ اپنی سفارتی روایت، جرمنی اپنی سیاسی سنجیدگی اور یورپ و مغرب کے دیگر ممالک اپنی مشترکہ قوت کے ساتھ ایسے تمام رویوں کی مؤثر روک تھام کریں جو کشیدگی کو طول دیتے ہیں۔ بندن میاں کے نزدیک سرکوبی کا اصل مفہوم تلوار نہیں بلکہ تدبر ہے، توپ نہیں بلکہ سفارت ہے اور شور نہیں بلکہ ایسا مؤثر عالمی دباؤ ہے جو جنگ کے خواہش مند ذہنوں کو خاموش کر دے اور انہیں مذاکرات کی میز تک لے آئے وہ کہتے ہیں کہ اگر آج بڑی طاقتیں اپنی ذمہ داری سے پہلو تہی کرتی رہیں تو کل تاریخ ان کے سکوت کو جرم کے مترادف لکھے گی۔ اس لیے ضروری ہے کہ دنیا کی تمام بڑی ریاستیں مل کر ان آوازوں کو روکیں جو نفرت، دھمکی اور تصادم کو ہوا دے رہی ہیں اور ان قوتوں کو یہ باور کرائیں کہ دنیا اب جنگ کے سائے میں نہیں بلکہ امن کے چراغ تلے جینا چاہتی ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں عالمی قیادت کا امتحان ہے کہ وہ آگ بڑھانے والوں کو روکے، اشتعال کو تھامے اور دنیا کو تباہی کے کنارے سے واپس کھینچ لائے۔ ان تمام ممالک کے لفظوں میں اب خاموشی نہیں حکمت کی گونج سنائی دینی چاہیے۔
آخر میں بندن میاں اپنے اسی سادہ مگر پُرخلوص لہجے میں یہ عرض کرتے ہیں کہ دنیا کو اس وقت توپوں کی نہیں تدبر کی ضرورت ہے بحری بیڑوں کی نہیں بردباری کی ضرورت ہے دھمکیوں کی نہیں مذاکرات کی ضرورت ہے کیونکہ جب سیاست دان جنگ کا فیصلہ کرتے ہیں تو مرنے والے ہمیشہ عام لوگ ہوتے ہیں اور امن کی قیمت ہمیشہ انسانیت ادا کرتی ہے اس لیے آج بھی وقت ہے کہ تمام فریق سنجیدگی اختیار کریں پاکستان کی امن کوششوں کا ساتھ دیں اور دنیا کو مزید خون خرابے اور تباہی سے بچائیں یہی عقل کا تقاضا ہے یہی انسانیت کا تقاضا ہے اور یہی مستقبل کی ضمانت بھی ہے۔

Exit mobile version