تحریر: محمد انور بھٹی
جناب بندن میاں آج پھر اسی ویران ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر آ بیٹھے جہاں شام کا دھندلکا دیواروں پر اس طرح پھیلا ہوا تھا جیسے برسوں کی اداسی نے اپنا مستقل بسیرا یہیں بنا لیا ہو پلیٹ فارم پر رکھی ہوئی بینچ کے ایک کونے پر بیٹھتے ہی ان کے دل میں ایک ایسا بوجھ اتر آیا جو صرف ایک شخص کا غم نہ تھا بلکہ پورے ایک ادارے کی شکستہ روح کا نوحہ تھا سامنے دور تک پھیلی ہوئی پٹریاں کسی بیمار جسم کی سوکھی ہوئی رگوں کی مانند دکھائی دے رہی تھیں جن میں کبھی زندگی کی تیز رفتار روانی دوڑا کرتی تھی مگر آج ان پر زنگ کی ایسی تہہ جم چکی تھی کہ گویا وقت نے خود ان کے وجود پر ماتم لکھ دیا ہو بندن میاں نے گہری سانس لی اور نگاہ اٹھا کر اسٹیشن کی عمارت کو دیکھا دیواریں تازہ رنگ سے چمک رہی تھیں کھڑکیوں کے شیشے بدلے جا چکے تھے افسران کے دفاتر کے باہر لگے گملے سلیقے سے سجے ہوئے تھے ناموں کی تختیاں نئی تھیں اور اندر ٹھنڈی ہوا کے جھونکے یہ باور کرا رہے تھے کہ کاغذی دنیا میں سب کچھ درست ہے مگر جیسے ہی ان کی نگاہ نیچے پٹریوں پر گئی دل میں ایک کسک جاگی کہ اصل حقیقت تو یہاں پڑی سسک رہی ہے جہاں ٹرین نے دوڑنا تھا جہاں ہزاروں مسافروں کی جانیں سفر کے سپرد ہونی تھیں جہاں مال بردار بوگیوں نے قومی معیشت کا بوجھ اٹھانا تھا وہاں دراڑیں تھیں کمزور جوڑ تھے بو سیدہ سلیپر تھے اور ہر میل کے فاصلے پر ایک ممکنہ حادثے کا خاموش اعلان تھا بندن میاں کے لبوں پر تلخ مسکراہٹ آئی اور وہ آہستہ سے بولے کہ عجب زمانہ آ گیا ہے عمارتیں چمک رہی ہیں اور پٹریاں مر رہی ہیں دفاتر سج رہے ہیں اور سفر اجڑ رہا ہے افسران کی رہائش گاہوں کے در و دیوار پر نئی سفیدی چڑھ رہی ہے مگر وہ فولادی لکیر جس پر قوم کی جان اور عزت دوڑتی ہے وہ کمزور سے کمزور تر ہوتی جا رہی ہے یہی تو وہ درد ہے جسے فائلوں کے لفظ چھپا لیتے ہیں یہی وہ زخم ہے جسے بیانات کی ملمع کاری ڈھانپ دیتی ہے بندن میاں نے سامنے کھڑی کچھ تباہ حال مسافر کوچز کی طرف اشارہ کیا جن کے کھڑکیوں شیشے ٹوٹ چکے ہیں دروازے جھک چکے ہیں فرش جگہ جگہ سے ٹوٹ چکا ہے اور رنگ جگہ جگہ سے اکھڑ کر زنگ میں تبدیل ہو چکا ہے اور بولے کہ یہ صرف خستہ حال کوچز نہیں یہ عوام کے اعتماد کا جنازہ ہے کبھی انہی بوگیوں میں مائیں اپنے بچوں کو سینے سے لگا کر سفر کرتی تھیں مزدور اپنے خوابوں کی گٹھریاں اٹھائے انہی نشستوں پر بیٹھا کرتے تھے طالب علم اپنے مستقبل کی امید لے کر انہی راستوں پر روانہ ہوتے تھے مگر آج یہ کوچیں خود سوال بنی کھڑی ہیں کہ آخر ہمارا قصور کیا تھا ۔بندن میاں نے سر جھکایا اور پھر نگاہ دور افق تک دوڑتی پٹریوں پر جما دی جہاں کئی مقامات پر سلیپر دھنسی ہوئی زمین میں آدھے غائب تھے کچھ جوڑ ڈھیلے پڑ چکے تھے اور کچھ مقامات پر لوہے کی سطح اس قدر زمین میں گھس چکی ہے کہ ہر گزرتی ٹرین گویا اپنی قسمت کا امتحان دے رہی ہو وہ آہستہ آہستہ گویا ہوئے کہ اس ادارے کی بربادی کسی ایک حادثے یا ایک غلطی کا نتیجہ نہیں بلکہ یہ مسلسل بے حسی کی وہ داستان ہے جسے اعلیٰ حکام کی غفلت نے باب بہ باب لکھا ہے افسران بالا کی بے حسی کا یہ عالم ہے کہ انہیں پلیٹ فارم پر بیٹھے مسافر کی دھڑکن سنائی نہیں دیتی انہیں پٹری کے ڈھیلے جوڑ کی آواز سنائی نہیں دیتی انہیں ورک شاپ کے مزدور کی فریاد سنائی نہیں دیتی ۔آئے روز ٹرینوں کے ٹکرانے اور پٹریوں سے لڑک جانے کے دھماکے سنائی نہیں دیتے ۔مگر دفتر کے پردوں کا رنگ ضرور دکھائی دیتا ہے رہائش گاہ کی دیوار پر سفیدی کا چھلکا ضرور کھٹکتا ہے اور نئے فرنیچر کی چمک ان کی نگاہوں کو اپنی طرف ضرور کھینچ لیتی ہے بندن میاں کی آواز اب تلخ ہوتی جا رہی تھی انہوں نے کہا کہ غیر ضروری اور غیر پیداواری اخراجات نے اس عظیم ادارے کی جڑیں کھوکھلی کر دی ہیں وہ سرمایہ جو پٹریوں کی مرمت پر لگنا تھا وہ سگنل سسٹم کی بہتری پر خرچ ہونا تھا وہ کوچوں کے پہیوں اور انجنوں کی بحالی پر صرف ہونا تھا وہ افسران کے دفاتر کی آرائش اور رہائش گاہوں کی زیبائش کی نذر ہو گیا کہیں نئی عمارتوں کی بنیادیں کھو دی گئیں کہیں پرانی عمارتوں پر ایک اور رنگ کی تہہ چڑھا دی گئی کہیں کانفرنس روم سجائے گئے کہیں نمائشی دوروں پر لاکھوں اڑا دئیے گئے مگر جس پٹری نے عوام کو منزل مقصود تک پہنچانا تھا وہ دن بدن کمزور ہوتی گئی بندن میاں نے تلخی سے کہا کہ یہ عجب حکمرانی ہے کہ دیواریں سلامت ہیں مگر راستے ٹوٹ چکے ہیں چھتیں چمک رہی ہیں مگر بنیادیں دیمک زدہ ہو چکی ہیں ایک طرف افسران کے کمروں میں ٹھنڈی ہوا اور نرم کرسیوں کا اہتمام ہے اور دوسری طرف گینگ مین دھوپ میں جلتے ہوئے ڈھیلے جوڑوں کو اپنے ہاتھوں سے سنبھالنے کی کوشش کر رہے ہیں بندن میاں نے ایک لمحے کو خاموشی اختیار کی پھر آہستہ سے بولے کہ اقربا پروری نے اس ادارے کی رہی سہی سانس بھی چھین لی ہے جہاں میرٹ کی بنیاد پر ماہر انجینئروں اور تجربہ کار افسران کو تعینات ہونا چاہیے تھا وہاں سفارش اور تعلقات نے جگہ لے لی ہے سیاسی مداخلت نے ہر فنی فیصلے کو مفلوج کر دیا ہے جس شخص نے پٹری کی زبان کبھی سمجھی ہی نہیں اسے سیکشن کی نگرانی سونپ دی گئی جسے کوچ کی تکنیکی خرابی کا شعور نہیں اسے ورک شاپ کا نگران بنا دیا گیا اور جسے عوامی جان کے تحفظ کا احساس نہیں اسے فیصلہ سازی کے منصب پر بٹھا دیا گیا بندن میاں کی آنکھوں میں غصہ اور دکھ ایک ساتھ جھلکنے لگا وہ بولے کہ یہی وجہ ہے کہ کوئی دن ایسا نہیں جاتا جب کسی سیکشن سے حادثے کی خبر نہ آتی ہو کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب کسی کوچ کے پٹری سے اترنے یا کسی مال گاڑی کے الٹنے کی اطلاع نہ ملتی ہو ایک ہی سیکشن میں ایک ہی ٹرین مہینے بھر میں تین تین اور چار چار بار حادثے کا شکار ہو رہی ہے اور ہر بار فائل میں وہی جملہ درج ہوتا ہے کہ سب بہتر ہے صورتحال قابو میں ہے ضروری اقدامات کر لیے گئے ہیں بندن میاں نے سر اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھا اور کہا کہ اگر ایک بار حادثہ ہو تو اسے بد قسمتی کہا جا سکتا ہے دو بار ہو تو غفلت اور اگر ایک ہی جگہ بار بار ہو تو یہ کھلی بے حسی اور مجرمانہ غفلت ہے یہ صرف ٹرین پٹری سے نہیں اترتی اس کے ساتھ عوام کا اعتماد بھی پٹری سے اترتا ہے یہ صرف بوگیاں نہیں الٹتیں اس کے ساتھ نظام کی ساکھ بھی الٹ جاتی ہے یہ صرف انجن نہیں تباہ ہوتے اس کے ساتھ قوم کی معیشت بھی لوہے کے ڈھیر میں بدلتی ہے بندن میاں نے مال بردار بوگیوں کی ایک قطار کی طرف دیکھا جو زنگ آلود خاموشی میں کھڑی تھی اور بولے کہ درجنوں مسافر کوچیں درجنوں مال بردار بوگیاں اور کئی انجن اب محض لوہے کا ملبہ بن چکے ہیں مگر فائلوں میں سب کچھ بہتر ہے حادثات کی رپورٹیں تیار ہوتی ہیں منسٹر کے دستخط سے اوپر بھیج دی جاتی ہیں وزیر اعظم تک پہنچتے پہنچتے الفاظ اتنے مہذب ہو جاتے ہیں کہ یوں لگتا ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو ایک طرف عوام کا خون خشک ہو رہا ہے دوسری طرف کاغذوں پر سب کچھ محفوظ ہے بندن میاں نے کہا کہ یہی وہ کاغذی ترقی ہے جس نے زمینی حقیقت کو دفن کر دیا ہے یہی وہ مصنوعی اطمینان ہے جس نے پٹریوں کی دراڑوں کو بڑھا دیا ہے فائل میں لکھی سطریں خوبصورت ہو سکتی ہیں مگر وہ ڈھیلے جوڑ کو مضبوط نہیں کر سکتیں رپورٹ کے الفاظ مرصع ہو سکتے ہیں مگر وہ زخمی کوچ کو دوبارہ محفوظ نہیں بنا سکتے بندن میاں نے ٹوٹی ہوئی بینچ پر ہاتھ رکھا اور کہا کہ یہ بینچ بھی اس ادارے کی طرح ہے اوپر سے جتنی چاہے سفیدی کر دو اگر بنیاد ٹوٹ چکی ہو تو بیٹھنے والا ہر لمحہ گرنے کے خوف میں رہتا ہے یہی حال ریلوے کا ہے مسافر سفر کرتا ہے مگر اس دعا کے ساتھ کہ یا اللہ خیریت سے منزل تک پہنچا دے بندن میاں نے پلیٹ فارم کے ایک سرے پر بیٹھے ایک بوڑھے ریلوے مزدور کو دیکھا جس کے ہاتھوں کی لکیریں محنت کی داستان سناتی تھیں انہوں نے پوچھا بابا کیا حال ہے اس نے سر اٹھا کر کہا صاحب ہم تو برسوں سے چیخ رہے ہیں کہ پٹری کمزور ہے جوڑ ڈھیلے ہیں سگنل سسٹم بو سیدہ ہے مگر اوپر والوں کو صرف رپورٹ چاہیے زمینی حقیقت نہیں بندن میاں کی آنکھیں نم ہو گئیں اور وہ بولے کہ یہی اس ادارے کی اصل روح ہیں یہی محنت کش یہی ڈرائیور یہی گارڈ یہی ٹریک مین یہی ورک شاپ کے مزدور مگر ان کی آوازیں دفاتر کی چمک میں دب جاتی ہیں اعلیٰ حکام کی بے حسی کا یہ عالم ہے کہ انہیں حادثہ رپورٹ میں ایک نمبر دکھائی دیتا ہے مگر اس کے پیچھے سہمے ہوئے مسافروں کے چہرے دکھائی نہیں دیتے انہیں الٹی ہوئی کوچ ایک اثاثے کا نقصان لگتی ہے مگر اس کے اندر چیختی ہوئی جانیں محسوس نہیں ہوتیں انہیں انجن کا تباہ ہونا ایک فنی مسئلہ دکھائی دیتا ہے مگر اس کے ساتھ تباہ ہوتا ہوا اعتماد نظر نہیں آتا بندن میاں نے آہستہ سے وہ شعر دہرایا
الفاظ کی پابندی جڑنے سے نگوں کے کام نہیں
شاعری بھی کام ہے آتش مرصع ساز کا
پھر بولے کہ اصل مرصع سازی یہ تھی کہ اس ادارے کے ٹوٹے ہوئے نگینوں کو جوڑا جاتا پٹری کے ہر جوڑ کو مضبوط کیا جاتا ہر سلیپر کو نیا سہارا دیا جاتا ہر انجن کی سانس بحال کی جاتی ہر سگنل کو محفوظ بنایا جاتا مگر یہاں الفاظ کے نگینے جوڑے گئے اور حقیقت کو زنگ کے حوالے کر دیا گیا بندن میاں آخر میں کھڑے ہوئے اور پورے پلیٹ فارم پر ایک طویل نگاہ ڈالی ان کی آواز میں دکھ بھی تھا اور سامنے آئینہ بھی جسے دیکھ وہ بولے کہ قومیں دفاتر کی چمک دمک سے نہیں بنیادوں کی مضبوطی سے زندہ رہتی ہیں اگر پٹریاں زنگ آلود ہیں تو ترقی کے دعوے بھی زنگ آلود ہیں اگر سفر غیر محفوظ ہے تو ہر تقریر ایک فریب ہے اب بھی وقت ہے کہ بے حسی کی چادر اتاری جائے غیر ضروری اخراجات روکے جائیں سیاسی مداخلت ختم کی جائے اقربا پروری کا دروازہ بند کیا جائے اور اہل لوگوں کو وہ ذمہ داری دی جائے جس کے وہ مستحق ہیں ورنہ تاریخ یہ لکھے گی کہ ہم نے دیواریں سنواریں اور راستے تباہ ہونے دئیے ہم نے دفاتر سجائے اور عوام کی جان کو خطرے میں چھوڑ دیا ہم نے فائلوں میں سب بہتر لکھا اور حقیقت کو پٹری سے اترتا دیکھتے رہے۔
