اکتوبر 28, 2026

پاکستان کی سفارتی کامیابی اور شور مچاتی خاموشیاں

تحریر: محمد انور بھٹی

بندن میاں آج صبح حسبِ معمول اپنی پرانی مگر وفادار سائیکل کے ہینڈل پر کہنی ٹکائے محلے کے نکڑ پر اس انداز سے کھڑے تھے جیسے زمانہ اپنی پوری داستان لے کر ان کے سامنے مؤدب کھڑا ہو اور وہ اس کی پیشانی پر لکھی ہوئی تحریر کو خاموشی سے پڑھ رہے ہوں۔ فضا میں ایک غیر معمولی سنجیدگی تھی۔ ہوا کے جھونکے بھی یوں آہستہ آہستہ گزر رہے تھے جیسے وقت نے اپنے قدموں کی چاپ دبا لی ہو تاکہ تاریخ کی سرگوشیاں صاف سنائی دے سکیں۔ بندن میاں نے دور افق کی طرف دیکھا جہاں صبح کی روشنی آسمان کے کناروں پر پھیل رہی تھی پھر اپنی مخصوص متانت بھری مسکراہٹ کے ساتھ بولے میاں آج کا دن معمولی نہیں۔ یہ وہ گھڑی ہے جب صرف خطے کے لوگ ہی نہیں بلکہ پوری دنیا اپنی نظریں پاکستان پر جمائے بیٹھی ہے۔ یہ محض سفارتی سرگرمی نہیں، یہ تاریخ کے ایک ایسے موڑ کا منظر ہے جہاں اکتالیس برس پر محیط ایک طویل تنازع اپنے انجام کی طرف بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔
انہوں نے سائیکل کی گھنٹی پر انگلی رکھی مگر بجائی نہیں، جیسے کسی خیال کو لفظ بننے سے پہلے اس کی نبض ٹٹول رہے ہوں۔ بولے میاں اکتالیس برس کوئی معمولی مدت نہیں ہوتی۔ اس عرصے میں بچے جوان اور جوان بوڑھے ہو جاتے ہیں حکومتیں بدل جاتی ہیں، دنیا کے نقشے بدل جاتے ہیں نظریات کے رنگ مدھم اور نئے رنگ نمایاں ہو جاتے ہیں مگر بعض تنازعات ایسے ہوتے ہیں جو قوموں کی تاریخ پر سایہ بن کر چلتے رہتے ہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان یہ طویل اور پیچیدہ معاملہ بھی کچھ ایسا ہی تھا۔ اس میں سفارتی نزاکت بھی تھی، عالمی مفادات بھی، علاقائی کشیدگی بھی اور ایسی باریکیاں بھی کہ ایک غلط قدم پورے خطے کو آگ میں جھونک سکتا تھا۔ بندن میاں نے دھیرے سے کہا کہ میاں دنیا شاید پہلی مرتبہ اتنی شدت سے محسوس کر رہی ہے کہ اگر اس تنازع کو کسی نے تدبر، تحمل اور دانشمندی سے سلجھانے کی صلاحیت دکھائی ہے تو وہ پاکستان ہے۔
انہوں نے گہری سانس لے کر کہا کہ میاں قومیں صرف جغرافیے سے نہیں بنتیں نہ صرف سرحدوں سے پہچانی جاتی ہیں۔ قومیں اپنے کردار، اپنے ظرف، اپنی اجتماعی بصیرت اور اپنے صبر سے تاریخ میں مقام حاصل کرتی ہیں۔ آج دنیا بھر میں جو پاکستان کا نام احترام اور امید کے ساتھ لیا جا رہا ہے وہ محض رسمی سفارتی آداب کا حصہ نہیں بلکہ اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ پاکستان نے ایک ایسے موقع پر دانشمندی کا مظاہرہ کیا جب دنیا ایک بڑی تباہی کے دہانے پر کھڑی تھی۔ ایک چنگاری پورے خطے کو لپیٹ میں لے سکتی تھی تیل کے ذخائر سے لے کر عالمی تجارت کی راہداریوں تک سب کچھ متاثر ہو سکتا تھا مگر پاکستان نے وہ راستہ اختیار کیا جس میں نہ اشتعال تھا، نہ جلد بازی، نہ جذباتی نعرے بازی بلکہ صرف تدبر، حکمت اور تحمل تھا۔
بندن میاں نے ذرا قریب ہو کر کہا میاں یہ معمولی بات نہیں کہ ایک طرف امریکہ جیسی عالمی طاقت ہو، دوسری طرف ایران جیسا حساس اور خطے میں مؤثر ملک اور درمیان میں پاکستان ایک ایسا کردار ادا کرے جو نہ صرف دونوں فریقوں کے لیے قابلِ اعتماد ہو بلکہ پوری دنیا کے لیے باعثِ اطمینان بھی۔ یہ اعتماد ایک دن میں حاصل نہیں ہوتا۔ اس کے پیچھے برسوں کی سفارتی روایت، علاقائی شعوراور حالات کی نزاکت کو سمجھنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ پاکستان نے یہی کیاہے اس نے نہ صرف کشیدگی کو کم کیا بلکہ ایسی فضا پیدا کی جس میں بات چیت، افہام و تفہیم اور تصادم سے اجتناب ممکن ہو سکا۔
پھر ان کے چہرے پر ایک باریک سی مسکراہٹ ابھری۔ بولے میاں مگر قصہ یہاں ختم کہاں ہوتا ہے۔ دنیا کے ایک حصے میں امید کے چراغ روشن ہیں تو دوسرے حصے میں کچھ چہرے ایسے بھی ہیں جن کی پیشانی پر فکر کی شکنیں گہری ہو چکی ہیں۔ خاص طور پر وہ میڈیا جو ہر وقت پاکستان کے لیے مایوسی کی سرخیاں تراشتا رہاآج اس کی کیفیت دیدنی ہے۔ بندن میاں نے ہلکا سا قہقہہ لگایا اور بولے میاں انڈیا کا میڈیا اس وقت تپتے ہوئے توے پر بیٹھی بلی کی مانند بے قرار ہے۔ زبان پر تلخی، لہجے میں اضطراب اور چہروں پر وہ گھبراہٹ جو اس وقت پیدا ہوتی ہے جب حقیقت توقعات کے برخلاف رخ اختیار کر لے۔
انہوں نے چائے کی پیالی ہاتھ میں لیتے ہوئے کہا کہ میاں وہاں کے بعض اینکر حضرات اس انداز سے پاکستان کے خلاف آگ اگل رہے ہیں جیسے الفاظ سے ہی حقیقت کا دھارا موڑ دیں گے۔ ہر خبر میں شکوک، ہر تجزیے میں تلخی اورہر سرخی میں اضطراب۔ گویا اگر صبح کا سورج پاکستان کے افق سے ذرا زیادہ روشن دکھائی دے تو اس کا الزام بھی پاکستان پر ڈال دیا جائے۔ بندن میاں بولے کہ کچھ لوگوں کی صحافت خبر سے زیادہ خواہش کی ترجمان ہوتی ہے۔ جب خواہش اور حقیقت کا تصادم ہوتا ہے تو سب سے پہلے لہجے کا توازن بگڑتا ہے، پھر الفاظ کی تہذیب رخصت ہوتی ہےاور آخر میں پیشانی پر پسینہ نمودار ہوتا ہے۔ یہی حال اس وقت وہاں کے میڈیا کا ہے۔
انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ میاں بعض اسٹوڈیوز میں تو اس وقت ایسی کیفیت ہے جیسے کسی نے ٹھنڈے کمرے کی ہوا بند کر کے اچانک دہکتی ہوئی لو چھوڑ دی ہو۔ آوازوں میں اتار چڑھاؤ، چہروں پر پریشانی اور گفتگو میں وہ بے چینی جو شکست خوردہ بیانیے کی پہچان ہوتی ہے۔ پاکستان کے خلاف آگ اگلنے کی یہ کیفیت دراصل اس بے بسی کا اظہار ہے جو اس وقت پیدا ہوتی ہے جب حقیقت آپ کے برسوں پرانے مفروضات کو یکسر رد کر دے۔
بندن میاں نے لہجہ سنجیدہ کیا اور بولے میاں اصل کمال یہ نہیں کہ پاکستان نے ایک سفارتی کامیابی حاصل کی بلکہ اصل کمال یہ ہے کہ اس نے دنیا کو ایک بڑی تباہی سے بچا لیا۔ اگر یہ تنازع بڑھتا اگر امریکہ اور ایران کے درمیان محاذ آرائی شدت اختیار کرتی تو اس کے اثرات صرف چند ممالک تک محدود نہ رہتے۔ عالمی منڈیوں میں ہلچل مچتی، توانائی کا بحران پیدا ہوتا، سمندری راہداریوں میں اضطراب پھیلتا اور سب سے بڑھ کر خطے کے امن کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچتا۔ پاکستان نے اس نازک مرحلے پر جس بردباری اور دور اندیشی کا مظاہرہ کیا وہ صرف سفارت کاری نہیں بلکہ عالمی ذمہ داری کا ثبوت ہے۔
انہوں نے سائیکل کے پہیے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا میاں یہ پہیہ دیکھ رہے ہو۔ یہی قوموں کی تقدیر کا استعارہ ہے۔ اگر اسے تدبر سے چلایا جائے تو سفر منزل تک پہنچتا ہےاور اگر جذبات کے سپرد کر دیا جائے تو راستہ حادثوں سے بھر جاتا ہے۔ پاکستان نے اس مرحلے پر جذبات کے بجائے عقل، شور کے بجائے خاموشی اور تصادم کے بجائے مفاہمت کا راستہ اختیار کیا یہی وہ دانشمندی ہے جس نے دنیا کو ایک ممکنہ تباہی سے بچایا۔
پھر بندن میاں نے آہستہ سے کہا میاں قوموں کی اصل پہچان جنگ کے میدان میں نہیں بلکہ بحران کے لمحوں میں ان کے حوصلے اور حکمت سے ہوتی ہے۔ اکتالیس برس کا یہ تنازع محض سفارتی اختلاف نہیں تھا، بلکہ اس کے پیچھے عالمی طاقتوں کے مفادات، خطے کی سیاست اور بین الاقوامی توازن کے کئی پیچیدہ پہلو موجود تھے۔ ایسے میں پاکستان کا کردار ایک ایسے پل کی مانند رہا جس نے دو متضاد کناروں کو جوڑنے کی کوشش کی۔
انہوں نے ایک لمحہ توقف کیا اور پھر بولے میاں افسوس کی بات یہ ہے کہ اپنے گھر کے کچھ لوگ بھی ایسے ہیں جنہیں وطن کی ہر کامیابی اپنے نظریاتی تعصبات کے خلاف ایک فیصلہ محسوس ہوتی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو باغ میں بہار آئے تو پھولوں کی خوشبو سے لطف اندوز ہونے کے بجائے کانٹوں کی گنتی میں لگ جاتے ہیں۔ ان کے لیے قومی وقار سے زیادہ ذاتی عناد اہم ہوتا ہے۔ بندن میاں نے کہا کہ میاں پاکستان کی کامیابی کسی ایک فردکسی ایک جماعت یا کسی ایک طبقے کی کامیابی نہیں۔ یہ اس مٹی کی کامیابی ہے جس میں بزرگوں کی دعائیں، شہیدوں کا لہو، مزدور کے ہاتھ کا پسینہ اور ماؤں کی دعائیں شامل ہے۔
انہوں نے فلسفیانہ انداز میں کہا کہ میاں اصل فتح وہی ہوتی ہے جو دلوں میں اعتماد اور دنیا میں احترام پیدا کرے۔ شور مچانے والے وقتی سرخیاں تو بنا لیتے ہیں مگر تاریخ ہمیشہ انہی کو یاد رکھتی ہے جو خاموشی سے راستہ بناتے ہیں آج پاکستان نے یہی کیا ہے اس نے شور نہیں مچایا، آگ نہیں بھڑکائی، نعرے نہیں لگائے بلکہ خاموشی سے ایک ایسا راستہ بنایا جس نے دنیا کو ممکنہ تباہی سے محفوظ رکھا۔
بندن میاں نے آخر میں اپنی سائیکل کی گھنٹی آہستہ سے بجائی آواز میں ایک عجیب سا وقار تھا وہ مسکرائے اور بولے میاں لکھ لو وقت کی پیشانی پر آج ایک جملہ روشن ہے کہ دنیا کی نظریں پاکستان پر ہیں مگر اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ پاکستان نے اپنے کردار سے دنیا کو کیا پیغام دیا اور پیغام یہی ہے کہ دانشمندی، صبر، تحمل اور سفارتی بصیرت سے وہ کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے جو شور، اشتعال اور نفرت سے کبھی ممکن نہیں ہوتا۔
پاکستان نے اس بار صرف ایک تنازع سلجھانے کی کوشش نہیں کی بلکہ دنیا کو یہ باور کرایا ہے کہ اگر خطے میں امن کا کوئی معتبر دروازہ کھل سکتا ہے تو اس کی کنجی اسلام آباد کے تدبر اور اس قوم کے اجتماعی شعور میں پوشیدہ ہے۔ یہی اصل کامیابی ہے، یہی اصل وقار اور یہی وہ لمحہ ہے جسے تاریخ محض ایک خبر نہیں بلکہ ایک عہد ساز موڑ کے طور پر یاد رکھے گی۔
پاکستان زندہ باد اور اس کی دانشمند سفارتی بصیرت پائندہ باد۔