کالم نگار: محمد شہزاد بھٹی
عالمی سفارت کاری کے میدان میں پاکستان نے ایک ایسی بڑی کامیابی حاصل کی ہے جس نے پوری دنیا میں ملک کا وقار بلند کر دیا ہے کیونکہ ایران اور امریکہ جیسے دو روایتی حریفوں، جن کے درمیان دہائیوں سے دشمنی چلی آ رہی تھی، انھیں ایک میز پر لا بٹھانا ہی بہت بڑی کامیابی ہے۔ پاکستان نے حالیہ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے جو مخلصانہ ثالثی کا کردار ادا کیا ہے، اس کی تعریف آج عالمی سطح پر ہو رہی ہے اور اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان کی 93 فیصد عوام نے اس فیصلے کی بھرپور حمایت کی، ان دو طاقتوں کی لڑائی نے پوری دنیا کے لیے سنگین معاشی اور کاروباری مشکلات پیدا کر دی تھیں۔ اسلام آباد میں ہونے والے یہ تاریخی مذاکرات ایک ایسے وقت میں ہوئے جب خطے میں چالیس دن سے جاری جنگ کی تپش محسوس کی جا رہی تھی، اسی لیے دارالحکومت میں سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے جہاں ایران سے پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں ایک طاقتور وفد پہنچا جبکہ دوسری طرف سے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے قدم رکھا اور ان عالمی رہنماؤں کا استقبال وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کیا، جس سے یہ واضح پیغام گیا کہ پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت اس امن مشن کے لیے ایک پیج پر کھڑی ہے۔ اکیس گھنٹوں تک جاری رہنے والی یہ لمبی اور تھکا دینے والی گفتگو تین حصوں میں تقسیم رہی؛ پہلے مرحلے میں پیغامات کا تبادلہ ہوا، دوسرے میں دونوں ملکوں کے رہنما آمنے سامنے بیٹھے اور آخر میں ماہرین نے باریک باتوں پر غور کیا مگر اتنی لمبی بحث کے بعد اگرچہ کوئی تحریری معاہدہ سامنے نہ آ سکا لیکن ماہرین اسے ناکامی کے بجائے کامیابی کی طرف ایک مثبت پیش رفت قرار دیتے ہیں۔ اتوار کی صبح جب جے ڈی وینس جب پاکستان سے روانہ ہوئے تو وہ ایران کے لیے ایک "آخری پیشکش” چھوڑ گئے، جسے ایک طرف درپردہ دھمکی اور دوسری طرف بڑی رعایت سمجھا جا رہا ہے جبکہ ایرانی ترجمان اسماعیل بقائی نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ کئی معاملات پر بات آگے بڑھی ہے مگر چند بنیادی باتوں پر اب بھی اختلاف برقرار ہے۔ مذاکرات کی راہ میں پانچ بڑی رکاوٹیں ایسی تھیں جنہیں ایک ہی نشست میں حل کرنا ممکن نہ تھا، جن میں پہلی بڑی رکاوٹ ایران کا ایٹمی پروگرام ہے، جہاں تہران اس پر عالمی پابندیوں کا خاتمہ چاہتا ہے، وہیں واشنگٹن اس پروگرام کو محدود رکھنے کے لیے ناقابلِ تردید ضمانتوں پر بضد ہے، دوسری رکاوٹ آبنائے ہرمز پر ایران کا قبضہ ہے جسے امریکہ عالمی تجارت کے لیے خطرہ سمجھتا ہے، تیسری رکاوٹ ایران کے 120 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں کی واپسی، چوتھی رکاوٹ لبنان کی جنگ اور اسرائیل کے حملے، اور پانچویں رکاوٹ ایران کے اپنے حمایتی گروہ اور اس کی دفاعی پالیسی شامل ہیں۔ اس تمام مشکل صورتحال میں پاکستان کا ایک ذمہ دار ملک کے طور پر سامنے آنا ایک بڑی حقیقت ہے کیونکہ وزیراعظم شہباز شریف اور فوجی قیادت نے ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان خطے میں امن کا سچا داعی ہے، اگرچہ یہ بات چیت فی الحال کسی دستخط شدہ معاہدے کے بغیر ختم ہوئی ہے مگر اس نے مستقبل میں رابطوں کا وہ راستہ کھول دیا ہے جو برسوں سے بند تھا اور تاریخ گواہ ہے کہ بڑی تبدیلیاں اکثر ایسی ہی خاموش اور لمبی بات چیت سے جنم لیتی ہیں۔ اب دنیا کی نظریں 22 اپریل کی تاریخ پر لگی ہیں کہ کیا جنگ بندی کی مدت میں اضافہ ہو گا یا نہیں مگر پاکستان نے اپنا حق ادا کر کے خود کو دنیا کا ایک اہم اور بااثر ملک ثابت کر دیا ہے۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ تمام مسلمانوں کی غیبی مدد فرمائے اور ہمارے پیارے ملک پاکستان اور پوری امتِ مسلمہ کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔ آمین





