تحریر :- شیخ توصیف رستم
ڈنگہ شہر کی تباہ جالی اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی،کچھ سالوں پہلے جو شہر خوابوں کا شہر تھا آج وہ زوال پزیر ہو چکا ہے،ڈنگہ شہر نے بڑے بڑے کنگ پیدا کیے جہنوں نے کاروباری طور پر،تعمیراتی طور پر پاکستان میں اپنا لوہا منوایا ہے۔
دور دراز علاقوں سے لوگ ڈنگہ کاروبار شروع کرنے آتے اور دیکھتے ہی دیکھتے ان کا شمار بڑے تاجروں میں ہونے لگتا تھا،ہر گلی میں ایک کامیابی کی کہانی نظر اتی تھی،منڈی بہاؤالدین ایک ضلع ہونے کے باجود وہاں سے ہر روز صبح سات بجے والی ٹرین پہ سینکڑوں لوگ ڈنگہ کاروبار کرنے اترتے تھے لالہ موسی سے کھاریاں سے لوگ ڈنگہ کاروبار کرنے آتے تھے،شمالی علاقے جات والے پختون لوگوں کے لئے ڈنگہ یورپ سے بھی کامیاب رہا ہے۔
لیکن آج ڈنگہ چند سالوں میں نشانِ عبرت بن چکا ہے یا بنایا جا رہا ہے ؟
یہ سوال ہم سب کے سامنے موجود رہے گا۔
شہر خاموش تھا گہری خاموشی چھا ہوئی تھی کوئی اپنا حق مانگنے کو تیار نہیں،کوئی سوال کرنے کو تیار نہیں۔
ایسے میں “تحریکّ تحفظِ حقوقِ ڈنگہ کا قیام ایک امید کی کرن بن کر سامنے آیا ہے۔ ڈنگہ شہر کے معزز نام اس تحریک کو شروع کرنے جا رہے ہیں،ان کا بیانیہ بہت مضبوط اور سادہ ہے ۔
ڈنگہ کی بات کی جائے گئی،سوال کیا جائے گا،سیاسی ڈیروں سے پہلے اداروں کے پاس جایا جائے گا۔
اپنی مدد آپ کے تحت شہر سے مضبوط لوگوں کو اس پلیٹ فارم پہ اکٹھا کیا جائے گا۔
یوتھ کو ساتھ بیٹھایا جائے گا۔
بلدیہ،واپڈا،شہر کی صاف صفائی اور تعمیراتی مسائل پہ کھل کر موقف رکھا جائے گا۔
تعلیم صحت کو فوکس کیا جائے گا اور ہر مکتبہ فکر کے لوگوں کو دعوت دی جائے گئی وہ اس پلیٹ فارم کو جوائن کرئیں اور شہر کے لئے آواز بلند کرئیں۔
اس تحریک کی ایک میٹنگ ہو چکی ہے اب شہرکے معزز لوگوں سے ملاقات کا سلسلہ شروع کیا جا چکا ہے ۔
پورے شہر کے نوجوانوں لوگوں کو اس تحریک کو جوائن کرنے کی دعوتِ عام کا سلسلہ مختلف سوشل میڈیا گروپس میں شروع ہو چکا ہے ۔
ہم امید کرتے ہیں کے یہ شہر کی مضبوط آواز ثابت ہو گئی۔
اپنے حقوق سے محروم ڈنگہ کے عوام کے لیے امید کی روشن کرن۔۔۔تحریک تحفظ حقوق ڈنگہ
