تحریر: محمد انور بھٹی
بندن میاں آج ایک خستہ حال ریلوے اسٹیشن پر پہنچے جہاں ہر طرف سناٹا چھایا ہوا تھا۔ پلیٹ فارم سے منسلک اسٹیشن کی پرانی بلڈنگ چپ چاپ اپنی کہانیاں سنا رہی تھی۔ بندن میاں پلیٹ فارم پر لگی ایک خستہ حال گرد و غبار سے اٹی لکڑی کی بینچ کی طرف بڑھے اور اپنے گندھے پر رکھے صافے سے بینچ کی گرد صاف کر کے بیٹھ گئے۔وہ ابھی کچھ دیر سستا ہی رہے تھے کہ ایک شخص کی اونچی آواز نے ان کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔ وہ شخص پلیٹ فارم پر موجود چند لوگوں کو اپنی باتوں سے خوش کرنے کی کوشش کر رہا تھا مگر اس کی نیت میں کچھ کھوٹ صاف جھلک رہا تھا۔ بندن میاں دیکھ رہے تھے کہ کیسے لفظ رویہ اور کردار ایک دوسرے سے جڑ کر انسان کی حقیقت بیان کرتے ہیں۔
اسی منظر کو دیکھ کر بندن میاں خاموشی سے سوچنے پر مجبور ہوئے کہ الفاظ انسان کے ڈی این اے کی مانند ہیں، یہ انسان کے ہونے کا پتہ دیتے ہیں۔ ایک شخص کی شخصیت، اس کی سوچ، اس کی نیت اور اس کے کردار کا آئینہ الفاظ کے ذریعے نظر آتا ہے۔ بس اتنی سچائی کے ساتھ جیئیں کہ جب کوئی آپ سے یہ کہے کہ ہمیں تمہارے کہے کا پھل ضرور ملے گا تو وہ دعا لگے بد دعا نہیں۔ یہی ایک جملہ دراصل پوری زندگی کا حاصل بھی ہے اور انسان کے کردار کا آئینہ بھی۔ انسان اپنی عمر کے سالوں سے بڑا نہیں ہوتا بلکہ اپنے لفظوں، اپنے رویوں اور اپنے کردار سے بڑا ہوتا ہے۔ بعض لوگ چند لمحوں کی ملاقات میں دلوں پر ایسا اثر چھوڑ جاتے ہیں کہ برسوں ان کی یاد ایک خوشبو کی مانند ساتھ رہتی ہے اور بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی موجودگی دلوں پر بوجھ بن جاتی ہے۔ یہ فرق چہرے کا نہیں، لباس کا نہیں، دولت کا نہیں، بلکہ سچائی اور کردار کا فرق ہوتا ہے۔ سچائی وہ روشنی ہے جو انسان کے اندر سے پھوٹتی ہے اور اس کے لفظوں، نگاہوں، لہجے اور عمل سے جھلکتی ہے۔ جب دل سچا ہو تو زبان سے نکلنے والا ہر لفظ دعا بن جاتا ہے اور جب نیت میں کھوٹ ہو تو وہی لفظ تیر بن کر کسی کے دل کو زخمی کر دیتا ہے۔
زندگی میں انسان روزانہ بے شمار لوگوں سے ملتا ہے۔ گھر میں اپنے عزیزوں سے باہر دوستوں سے کام کی جگہ ساتھیوں سے راستے میں اجنبیوں سےہر ملاقات ایک امتحان ہوتی ہے کہ ہمارا رویہ کیسا ہے اور ہمارے لفظوں میں کتنی سچائی ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ لوگ اپنے الفاظ کو معمولی سمجھتے ہیں حالانکہ لفظ معمولی نہیں ہوتے۔ ایک لفظ کسی ٹوٹے ہوئے دل کو جوڑ سکتا ہے ایک جملہ کسی مایوس انسان میں امید جگا سکتا ہے اور ایک سخت بات کسی خوش حال دل کو بھی غم کے اندھیروں میں دھکیل سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دانا لوگ ہمیشہ زبان کی حفاظت کی تلقین کرتے آئے ہیں کیونکہ زبان سے نکلا ہوا لفظ واپس نہیں آتا مگر اس کا اثر بہت دور تک جاتا ہے۔
انسان کی اصل پہچان اس کے وعدوں سے ہوتی ہے۔ جو شخص زبان دیتا ہے اور اسے نبھاتا ہے لوگ اس پر اعتبار کرتے ہیں، اس کے لیے دل سے دعا کرتے ہیں اور اس کی موجودگی کو باعث سکون سمجھتے ہیں۔ مگر جو شخص بار بار وعدہ خلافی کرے باتوں میں مٹھاس رکھے مگر عمل میں کھوٹ اس کے لیے دلوں میں جگہ نہیں بنتی۔ وہاں پھر اس کے ذکر کے ساتھ دعا نہیں بلکہ افسوس اور بعض اوقات بد دعا جنم لیتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے قول اور فعل میں یکسانیت پیدا کرے۔ اگر ہم کسی کو تسلی دیتے ہیں تو اس تسلی کے پیچھے سچائی بھی ہونی چاہیے۔ اگر ہم کسی کو امید دلاتے ہیں تو اس امید میں اخلاص بھی ہونا چاہیے۔ محض الفاظ کا جادو دیر پا نہیں ہوتا کردار کی روشنی ہی دیر تک ساتھ رہتی ہے۔
ہمارے معاشرے میں اکثر رشتے لفظوں کے بوجھ تلے ٹوٹتے ہیں۔ ایک سخت جملہ، ایک بے وقت طنز، ایک بے بنیاد الزام، ایک جھوٹا وعدہ، یہ سب ایسے زخم چھوڑ جاتے ہیں جو برسوں نہیں بھرتے۔ کتنے ہی گھر صرف اس لیے اجڑ جاتے ہیں کہ کسی نے سچائی کے بجائے انا کو ترجیح دی کسی نے محبت کے بجائے تلخی کو اپنا لیا اور کسی نے حق بات کہنے کے بجائے خوشامد یا دھوکے کا راستہ چن لیا۔ اگر انسان اپنے الفاظ کو دلوں کے زخموں پر مرہم بنانا سیکھ لے تو بہت سے بکھرے ہوئے رشتے دوبارہ جڑ سکتے ہیں۔
سچائی صرف زبان کا وصف نہیں یہ پوری شخصیت کا نور ہے۔ سچا انسان اپنی آنکھوں سے بھی جھوٹ نہیں بولتا اس کے چہرے سے بھی خلوص جھلکتا ہے اس کے عمل سے بھی بھرو سہ پیدا ہوتا ہے۔ لوگ اس کے قریب آ کر خود کو محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ یہ شخص جو کہے گا، سچ کہے گاجو وعدہ کرے گا، پورا کرے گا اور جو نصیحت دے گا پہلے خود اس پر عمل کرتا ہو گا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کے الفاظ دعا بن جاتے ہیں۔ لوگ اس کے لیے خیر مانگتے ہیں، اس کی کامیابی پر خوش ہوتے ہیں اور اس کی غیر موجودگی میں بھی اس کے لیے اچھا سوچتے ہیں۔
بد دعا صرف کسی کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ کا نام نہیں۔ بعض اوقات کسی مظلوم کا خاموش دل بھی بد دعا بن جاتا ہے۔ کسی کے آنسو، کسی کا ٹوٹا ہوا بھرو سہ، کسی کی مجبوری سے کھیلنا، کسی کی عزت کو مجروح کرنا یہ سب ایسے عمل ہیں جو انسان کے لیے خاموش بد دعاؤں کا سبب بنتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ انسان اپنی زندگی کا محاسبہ کرے۔ یہ دیکھے کہ اس کے الفاظ اور اس کے اعمال دوسروں کے لیے کیا معنی رکھتے ہیں۔ کیا اس کی موجودگی لوگوں کے لیے راحت ہے یا اذیت۔ کیا اس کی زبان سے نکلے ہوئے جملے دلوں میں سکون پیدا کرتے ہیں یا بے چینی۔
سچائی کے ساتھ جینا آسان نہیں ہوتا۔ اس راستے میں وقتی نقصان بھی اٹھانا پڑتا ہے، کبھی لوگ ناراض بھی ہوتے ہیں، کبھی مفادات بھی قربان کرنے پڑتے ہیں مگر آ خرکار سچائی ہی عزت دیتی ہے۔ جھوٹ وقتی فائدہ دے سکتا ہے مگر دائمی سکون نہیں دے سکتا۔ جو شخص جھوٹ اور دھوکے سے کامیابی حاصل کرتا ہے اس کے دل میں ہمیشہ ایک خوف رہتا ہے کہ کہیں حقیقت آشکار نہ ہو جائے جبکہ سچا انسان مطمئن رہتا ہے کیونکہ اسے اپنے کردار پر یقین ہوتا ہے۔
انسان کے الفاظ اس کی تربیت کا عکس ہوتے ہیں۔ جس گھر میں محبت، ادب اور سچائی کی تعلیم دی جاتی ہے وہاں کے بچے بڑے ہو کر دوسروں کے لیے رحمت بنتے ہیں۔ وہ بولنے سے پہلے سوچتے ہیں، کسی کے دل کو ٹھیس پہنچانے سے بچتے ہیں اور اپنے لہجے میں نرمی رکھتے ہیں۔ یہی نرمی دعاؤں کو جنم دیتی ہے۔ لوگ ایسے افراد کے لیے دل سے کہتے ہیں کہ خدا اسے سلامت رکھے خدا اسے کامیاب کرے خدا اسے خوش رکھے۔ یہ وہ دعائیں ہیں جو انسان کے راستے آسان کر دیتی ہیں۔
معاشرے کی اصلاح بھی اسی اصول سے ممکن ہے اگر ہر شخص اپنے حصے کی سچائی اپنا لے، اپنے الفاظ میں خلوص لے آئے، اپنے وعدوں کو پورا کرے اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھےتو بہت سی خرابیاں خود بخود ختم ہو سکتی ہیں۔ ہمیں دوسروں کو بدلنے سے پہلے خود کو بدلنا ہو گا۔ جب ہم اپنے رویے میں سچائی پیدا کریں گے تو ہمارے گرد ماحول بھی بدلنے لگے گا۔ لوگ ہمارے کردار سے سیکھیں گے، ہمارے لہجے سے اثر لیں گے اور ہمارے عمل کو مثال بنائیں گے۔
یہ دنیا دراصل کردار کی منڈی ہے۔ یہاں ہر شخص اپنا اصل سرمایہ اپنے الفاظ اور اعمال کی صورت میں پیش کرتا ہے۔ دولت، شہرت اور منصب سب عارضی ہیں مگر انسان کا کردار ہمیشہ یاد رکھا جاتا ہے۔ مرنے کے بعد بھی لوگ یہی کہتے ہیں کہ وہ شخص بہت سچا تھا، بہت مخلص تھا اس کی بات دل میں اترتی تھی اس نے کبھی کسی کا دل نہیں دکھایا یہی وہ اصل کامیابی ہے جو ہر انسان کو حاصل کرنی چاہیے۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ بعض اوقات ایک چھوٹا سا اچھا جملہ کسی کی زندگی بدل دیتا ہے ایک مایوس انسان کو حوصلہ دینا، کسی غم زدہ دل کو تسلی دینا، کسی ناکام شخص کو امید دلانا یہ سب دعاؤں کے دروازے کھول دیتے ہیں۔ جب کوئی شخص آپ کے ایک لفظ سے سنبھل جائے، آپ کے ایک جملے سے مسکرا دے، آپ کی ایک نصیحت سے اپنی راہ درست کر لے تو یقین جانیے آپ کے لیے اس کے دل سے نکلی دعا آسمان تک جاتی ہے اس کے برعکس اگر ہمارے الفاظ سے کسی کی امید ٹوٹ جائے، کسی کی عزت مجروح ہو، کسی کا دل دکھے تو وہ خاموش درد بھی اپنا اثر رکھتا ہے۔ اسی لیے بزرگ کہتے ہیں کہ زبان کی چوٹ تلوار کی چوٹ سے زیادہ گہری ہوتی ہے۔ جسم کے زخم بھر جاتے ہیں مگر دل کے زخم بعض اوقات عمر بھر ساتھ رہتے ہیں۔
لہذا زندگی کا اصل اصول یہی ہونا چاہیے کہ ہم اتنی سچائی کے ساتھ جیئیں کہ ہمارے الفاظ لوگوں کے لیے خیر کا سبب بنیں۔ ہمارے لہجے میں نرمی ہو، نیت میں اخلاص ہو، کردار میں پختگی ہو اور عمل میں دیانت ہو۔ ایسا انسان جہاں بھی جاتا ہے اپنے پیچھے عزت، محبت اور دعاؤں کے نقوش چھوڑ جاتا ہے لوگ اس کے جانے کے بعد بھی اسے یاد کرتے ہیں اور اس کے لیے خیر مانگتے ہیں۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ انسان کی سب سے بڑی کامیابی یہ نہیں کہ وہ کتنا امیر ہوا کتنا مشہور ہوا یا کتنے بلند منصب تک پہنچا بلکہ یہ ہے کہ اس کے جانے کے بعد لوگ اس کے لیے دعا کریں، اس کے ذکر پر دل نرم ہو جائیں اور اس کی یاد میں خیر کے الفاظ ادا ہوں یہی سچی زندگی ہے، یہی کردار کی معراج ہے اور یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو دلوں میں زندہ رکھتا ہے۔
