ایٹمی تباہی کے دہانے سے واپسی ، پاکستان کی بروقت سفارتکاری نے دنیا کو بچا لیا

ایران۔امریکہ کشیدگی کا خطرناک موڑ، جنگ عین سر پر کھڑی تھی شہباز شریف اور جنرل عاصم منیر کی قیادت میں تاریخی ثالثی، دنیا بھر میں پذیرائی


تحریر بشارت بی ایس


دنیا ایک بار پھر ایک ایسی جنگ کے دہانے پر کھڑی تھی جس کے نتائج صرف خطے تک محدود نہیں رہنے تھے بلکہ پوری انسانیت کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے تھے۔ صورتحال تیزی سے ایران اور امریکہ کے درمیان براہِ راست تصادم میں تبدیل ہو چکی تھی۔ کشیدگی اس نہج پر پہنچ چکی تھی جہاں ہر لمحہ جنگ کے آغاز کا خدشہ بڑھتا جا رہا تھا۔

گزشتہ رات کی صورتحال نے اس خطرے کو مزید واضح کر دیا، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو 48 گھنٹے کا الٹی میٹم دیا گیا۔ اس الٹی میٹم میں نہ صرف سخت دھمکیاں شامل تھیں بلکہ ایران کی تہذیب کو ختم کرنے جیسے افسوسناک اور انتہائی خطرناک دعوے بھی سامنے آئے۔ دوسری جانب ایران نے بھی انتہائی سخت اور دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ ہر قسم کی جارحیت کا بھرپور جواب دے گا اور اس دھمکی کے بعد مذاکرات کی میز پر آنے سے صاف انکار کر دیا۔

یہ وہ لمحہ تھا جب دنیا ایک یقینی جنگ کی طرف بڑھ رہی تھی۔ ایک ایسی جنگ جس میں صرف روایتی ہتھیار ہی نہیں بلکہ ایٹمی تصادم کے امکانات بھی پوری شدت کے ساتھ موجود تھے۔ اگر یہ جنگ چھڑ جاتی تو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا اس کی لپیٹ میں آ سکتی تھی، عالمی معیشت تباہ ہو جاتی، تیل کی ترسیل رک جاتی اور کروڑوں انسانوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ جاتیں۔

اسی نازک اور فیصلہ کن مرحلے پر پاکستان نے وہ کردار ادا کیا جس نے تاریخ کا رخ موڑ دیا۔ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے فوری، سنجیدہ اور نتیجہ خیز سفارتی اقدامات کیے۔ پسِ پردہ رابطے، ثالثی کی کوششیں اور دونوں فریقین کے ساتھ اعتماد سازی کے عمل نے ایک ایسا ماحول پیدا کیا جس نے جنگ کے بادل چھانٹنے شروع کر دیے۔

یہ پاکستان کی سفارتی کامیابی کا ہی نتیجہ تھا کہ عین ڈیڈ لائن ختم ہونے سے پہلے ڈونلڈ ٹرمپ نے الٹی میٹم میں توسیع کا اعلان کیا، جو دراصل کشیدگی میں کمی کی پہلی بڑی علامت تھی۔ اس کے بعد صورتحال نے مثبت رخ اختیار کیا اور ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو دنیا کے لیے کھلا رکھنے کا اعلان سامنے آیا، جو عالمی معیشت کے لیے ایک نہایت اہم پیش رفت تھی۔

مزید برآں، دونوں ممالک کی جانب سے اسلام آباد میں مذاکرات پر آمادگی ظاہر کرنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان نے نہ صرف جنگ کو روکا بلکہ ایک مستقل حل کی راہ بھی ہموار کی۔ یہ کوئی معمولی کامیابی نہیں بلکہ ایک ایسی سفارتی فتح ہے جس پر ہر پاکستانی کو فخر ہونا چاہیے۔

اس پیش رفت کے عالمی اثرات فوری طور پر سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ دنیا بھر میں سکھ کا سانس لیا گیا، تیل کی قیمتوں میں استحکام کی امید پیدا ہوئی بلکہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے امکانات بھی روشن ہوئے ہیں۔ عالمی منڈیوں میں بے چینی کم ہوئی ہے اور معمولاتِ زندگی دوبارہ بحال ہونے کی راہ پر گامزن ہیں۔

دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ پاکستان کے اس مثبت کردار کو عالمی سطح پر بھرپور سراہا جا رہا ہے۔ کئی ممالک اور تجزیہ کار اسے ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست کی مثال قرار دے رہے ہیں۔ حتیٰ کہ بھارت جیسے روایتی حریف ملک میں بھی اس پیش رفت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکا۔ اگرچہ وہاں ایک طبقہ اس کامیابی کو تسلیم کر رہا ہے، تاہم ایک حلقے میں واضح بے چینی اور جیلسی بھی دیکھی جا رہی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان نے ایک بڑا سفارتی میدان مار لیا ہے۔

یہاں یہ بات سمجھنا بھی ضروری ہے کہ ایٹمی طاقت ہونا ایک حقیقت ہے، مگر ایک ذمہ دار ایٹمی طاقت ہونا اس سے کہیں بڑا اعزاز ہے۔ پاکستان نے اس موقع پر یہی ثابت کیا کہ وہ نہ صرف طاقت رکھتا ہے بلکہ اس طاقت کو انسانیت کی بھلائی کے لیے استعمال کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

بلاشبہ، اگر یہ جنگ چھڑ جاتی تو اس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جاتے۔ مگر پاکستان کی بروقت اور مؤثر سفارتکاری نے دنیا کو ایک بڑے سانحے سے بچا لیا۔ یہ صرف ایک سفارتی کامیابی نہیں بلکہ انسانیت کے لیے ایک عظیم خدمت ہے۔

اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کامیابی کو ایک وقتی واقعہ نہ سمجھا جائے بلکہ اسے پاکستان کی مستقل پالیسی کا حصہ بنایا جائے، تاکہ ملک آئندہ بھی عالمی امن کے قیام میں اپنا بھرپور کردار ادا کرتا رہے۔

یہ لمحہ تاریخ کا ایک اہم باب ہے اور اس باب میں پاکستان کا نام ایک ذمہ دار، مدبر اور امن کے علمبردار ملک کے طور پر لکھا جا چکا ہے۔

Exit mobile version