کراچی (رپورٹ: جاوید صدیقی) سندھ بھر کے سرکاری ملازمین اور پینشنرز نے صدر مملکت آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری سے پر زور مطالبہ کیا ھے کہ مشرق وسطیٰ کی جنگی اثرات سے پاکستان بھی شدید متاثر ہوا ھے۔ مہنگائی کا طوفان آسمان سے بات کررھا ھے لیکن اٹھارہ ویں ترامیم کے بعد صوبہ سندھ بااختیار ہونے کے باوجود سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں بنیادی تنخواہ، کنوینس رقم اور میڈیکل سنہ 2005 ء کے سابقہ حساب سے دے رہی ھے اور پینشنرز کے پینشن میں بھی بنیادی تنخواہ اور میڈیکل سنہ 2005 ء کے ہی تناسب سے دیا جارھا ھے جوکہ سراسر ناانصافی کے مترادف ھے۔ سرکاری ملازمین و پینشنرز نے بجٹ 2026-2027 میں موجودہ مہنگائی کے نصاب سے متعین کرنے کا مطالبہ کیا ھے جو حق بجانب ھے۔ اس بابت صوبائی سرکاری ملازمین کی تنظیموں اور پینشنرز گروپس کے عہدیداروں نے احتجاج کی طرف جانے کا بھی اشارہ دیا ھے۔ جبکہ کئی تنظیموں کے نمائندگان نے کہا ھے کہ بھٹو جمہوریت پسند تھا اور اسکی پارٹی جمہوریت پر یقین رکھتی تھی اب نجانے بھٹو کے داماد اور نواسے کو قائد عوام کے عزم و مشن اور جمہوریت پرستی سے لگاؤ کیوں نہیں۔ سندھ بھر کے سرکاری ملازمین و پینشنرز تا حال گروپ انشورنس سے محروم ہیں۔
سندھ کے سرکاری ملازمین اور پینشنرز کا صدر آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو سے تنخواہوں و پینشن میں اضافے کا مطالبہ، احتجاج کا عندیہ
