پنجاب اسمبلی میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کا بل جمع، جبری مذہب تبدیلی پر سزا کی تجویز

پنجاب اسمبلی میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے اہم بل جمع کرا دیا گیا ہے، جس میں مذہب کی جبری تبدیلی پر سخت سزا کی تجویز دی گئی ہے۔

یہ بل چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے اقلیتی امور فیلبوس کرسٹوفر نے بطور پرائیویٹ ممبر پیش کیا۔

بل کے متن کے مطابق کسی بھی فرد کی مذہب کی جبری تبدیلی کرانے پر 5 سال قید اور جرمانہ عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ تعلیمی اداروں اور ملازمتوں میں اقلیتی شہریوں کے ساتھ امتیازی سلوک کی ممانعت بھی شامل ہے۔

مجوزہ قانون کے تحت صوبائی سطح پر تعلیمی نصاب کا جائزہ لینے کی بھی تجویز دی گئی ہے تاکہ اقلیتوں کے حقوق کا بہتر تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

دوسری جانب وفاقی آئینی عدالت بھی اس حوالے سے گزشتہ ہفتے ایک اہم فیصلہ جاری کر چکی ہے، جس کے بعد اس بل کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔

Exit mobile version